سنگٹ ڈرامہ - جنسی زیادتی کی شکار لڑکیوں کے منہ پرتھپڑ

1

ثنا خان

تصور کریں آپ ایک بچی 13 سال کی ہو اور اسے اس کا خاندانی فرد جو 30 سال کی عمر کا ہو اور بیوی بچوں والا ہو اپنی ہوس کا شکار بنا ڈالے۔ تصور کریں کہ آپ اس واقعہ کے بارے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کیونکہ آپ ایک کمزور لڑکی ہیں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ آپ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ صورتحال کو سمجھ نہیں پا رہی ۔ آپ اس واقعہ کو ایک ڈراونا خواب قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ سو رہی تھیں اور جاگتے ہی آپ کے ساتھ یہ واقعہ ہو گیا۔ اب آپ اپنے آپ پر شک کرنے لگی ہیں کیونکہ آپ پر حملہ کرنے والا آپ کے خاندان کا فرد ہے اور آپ اس سے دوستانہ تعلقات رکھتی ہیں کیونکہ وہ صرف ایک سال قبل بیرون ملک سے لوٹا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی بیوہ ماں آپ کے ساتھ اسی گھر میں رہ رہی ہے اور اس بات کو 5 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس لیے آپ اپنے آپ کو یہ ماننے پر راضی کر لیتی ہیں کہ یہ ایک خواب ہی تھا اور اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ نارمل زندگی جینے لگتی ہیں اور پھر یہ واقعہ ایک بار پھر دن دیہاڑے آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ تب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ پچھلی بار کا واقعہ خواب نہیں بلکہ خوفناک حقیقت تھا۔ آپ کو نہیں سمجھ آ رہی کہ اس حالت میں کیا کیا جائے اور نہ ہی آپ کسی کو بتانے کی ہمت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ خاندانی معاملہ ہے۔ اگر بات کھل جاتی ہے تو اس کی ماں کی زندگی برباد ہو جائے گی اور آپ کے پاپا کے ساتھ ان کے تعلقات بگڑ جائیں گے۔ یہ چیزیں ذہن میں رکھتے ہوئے آپ فیصلہ کر لیتی ہیں کہ اپنا منہ بند رکھتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے معاملات میں مصروف رکھ کر زندگی گزارنے کی کوشش کریں گی۔اب آپ ہائی سکول کی طالبہ ہیں اور آپ کامیابی سے اس جنسی حملے کو دبا ئے رکھتی ہیں لیکن ایک دن آپ کو سب کچھ پھر سے دوبارہ یاد آجاتا ہے۔ آپ کی تعلیم پر گہرا اثر پڑنے لگتا ہے ۔ اگلے سال آپ کو پسند کے سکول میں داخلہ مل جاتا ہے۔ آپ زندگی کے دن پورے کرنے کی کوشش میں ہیں اور اپنے کزن سے دور رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ آپ نے اپنے آپ کو دوسری چیزوں میں مصرو ف کر رکھا ہے اور مطالعہ اور کام کے بہانہ سے آپ فیملی تقریبات سے بھی دور رہنا سیکھ چکی ہیں لیکن کچھ ایسی تقریبات بھی ہیں جہاں آپ جانے سے باز نہیں رہ سکتیں اور وہاں آپ کو کزن سے بھی ملنا پڑتا ہے اور آپ ایسے دکھاتی ہیں جیسے آپ اور کزن کے بیچ کچھ اہم نہیں ہے۔ لیکن اس دوران آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ آپ اس پر جھپٹ پڑیں۔ اچانک کالج کے دوسرے سمیسٹر کے دوران آپ بے ہوش ہو جاتی ہیں اور آپ کو فوری ہسپتال پہنچایا جاتا ہے ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ آپ پر کیا گزر رہی ہے۔ کچھ ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹر کہتا ہے کہ سٹریس کی وجہ سے آپ کا جسم کبھی کبھار کام چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن اصل حقیقت صرف آپ کو معلوم ہے۔ آخر کار آپ اپنی سہلی کزن کو راز بتا دیتی ہیں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ کیا رد عمل دینے والی ہے۔ وہ آپ کی ہمت بڑھا کر اپنے والدین کو سب کچھ بتانے پر راضی کر لیتی ہے۔ اب حملہ آور کا خاندان کافی عرصہ سے آپ کے گھر میں نہیں رہتا اس لیے اب اپنے والدین کو بتانا آسان ہے۔ آپ کے والد غصہ میں آ کر بندوق نکال کر اس پر حملہ کرنے نکل پڑتے ہیں اور گھر
میں ہر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اب آپ کوتھوڑی آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ آپ کے دماغ سے بوجھ اتر چکا ہے ۔ اب آپ اپنی زندگی کھل کر جینے کی ہمت کر پاتی ہیں۔ آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ آپ کو اس چیز کی بہت ضرورت تھی۔ آپ کے لیے جاننا ضروری تھا کہ آپ کا خاندان آپ کے ساتھ ہے اور آپ پر بھروسہ کرتا ہے اور آپ کی ہر ضرورت پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔ میں آپ کو یہ کہانی کیوں بتا رہی ہوں؟ میں اس لیے بتا رہی ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ پہچان لیں کے زیادہ تر پاکستانی ڈرامے جن کا تعلق جنسی حملوں، ریپ، ریپسٹ اور بچوں کی عصمت سے کھیلنے سے ہوتا ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ گل رعنا میں ، چپ رہو، اور سنگھٹ ، اور جاری ڈرامہ مقابل کو دیکھ کر مجھے خوف آتا ہے کہ کیسے جنسی حملوں اور ریپ کو جذباتیت کا رنگ دے کر جائز بنا دیا جاتا ہے۔ گل رعنا ڈرامہ میں لڑکا ایک لڑکی کو اغوا کرتا ہے اور اس سے زبردستی شادی کر لیتا ہے ۔ لڑکی کا جرم یہ ہے کہ اس نے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد لڑکی پر جنسی جبر**(marital rape) **کیا جاتا ہے ۔ لیکن ڈرامہ کے
اختتام پر ایک ریپسٹ اور بیوی پر تشدد کرنے والا شخص ہونے کے باوجود لڑکے کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔  مقابل میں مظلوم لڑکی اپنے اوپر جنسی حملہ آور کے بیٹے سے شادی کر لیتی ہے ؟ یہ کوئی مذاق ہے کیا؟ میری سٹوری کو آپ بھول جائیے۔ صرف یہ یاد رکھیے کہ کوئی بھی لڑکی کا بچہ اپنے اوپر جنسی حملہ کرنے والے کو سامنے دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا ، اس کے گھر میں رہنا یا اس کے بیٹے سے شادی کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔
جی ہاں وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ اپنے حملہ آور کا مقابلہ کریں تا کہ وہ اپنے آپ کو مظلوم کی بجائے سروائیور ثابت کر سکیں اور یہ بہت اہم بات ہے لیکن وہ کبھی بھی جان بوجھ کر اپنی مرضی سے اس گھر میں رہنا نہیں چاہیں گے جہاں ان کی عصمت دری کرنے والا شخص رہتا ہو۔ حملہ آور کے بیٹے سے شادی کرنے کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ان سب ڈراموں کے رائٹر نے چائلڈ ابیوز اورجنسی جبر کا شکار ہونے والے بچوں اور بچیوں کے جذبات کا مذاق اڑایا ہے۔ اب' سنگھٹ 'ڈرامہ کی بات کرتے ہیں۔ ریپ اور جنسی حملے کا شکار ہونے والے ہر بچے اور بچی کے لیے سنگھٹ ڈرامہ ایک زور دار تھپڑ ثابت ہوا ہے۔ ایک عصمت دری کرنے والے شخص کو کیسے ہیرو بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے اور ا س مقصد کےلیے مظلوم کی ماں کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے؟ خاموش رہنے کے عذاب کا براہ راست تجربہ رکھتے ہوئے میں یہ کہتی ہوں کہ اگر میرے والدین اگر اشارتا بھی یہ کہہ دیتے کہ میرے کزن نے غلطی کی ہے تو نہ جانے میں کیا کر بیٹھتی۔ میں نے اپنے حملہ آور کو تبھی معاف کیا جب وہ ایک خوفناک ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ اور یہ میں نے اپنے لیے کیا تا کہ مجھے ذہنی سکون مل سکے۔ یہ فیصلہ میں نے خود مرضی سے کیا ہے۔ میں یہ سمجھ نہیں پا رہی کہ رائٹرز، پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور ایکٹرز جنسی حملوں کے شکار ہونے سے بچ جانے والوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ کیا صرف ریٹنگ کے لیے یہ مان لینا ٹھیک ہے کہ جنسی حملوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی یا
جنسی حملوں کے زخم اور نشانات صرف مبالغہ آرائی ہوتے ہیں؟ اب تک جو ڈرامے حقیقت کے قریب محسوس ہوئے ہیں وہ 'روگ' اور 'اڈاری' تھے۔ لیکن اڈاری میں بھی جو بہت اچھےطریقے سے لکھا اور ڈائریکٹ کیا گیا اور اس میں احسن خان نے پا امتیاز کا کردار بہت اچھی طرح نبھایا لیکن بعد میں انہوں نے بھی اپنے کردار کو مزاحیہ قرار دیتے ہوئے اس کا مزاق اڑایا۔ احسن خان کو تازہ ترین لیکس سٹائل ایوارڈز میں بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ بھی دیا گیا اور انہوں نے اس معاملے کو ہائی لائٹ کرنے کی بھی کوشش کی لیکن یہ چیزیں ان کی غلطی کو معاف کرنے کےلیے کافی نہیں ہیں۔ البتہ میں چاہتی ہوں کہ وہ ڈرامہ کے بعد بھی اس معاملے پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔ اڈاری اور ایوارڈز کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ مجھے اس وقت بہت بڑا دھچکا لگا جب یاسر حسین نے ہم ایوارڈز کے پلیٹ فارم پر چائلڈ ابیوزکا مذاق بنا ڈالا۔ احمد علی بٹ نے معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا 'میں تو ٹافیاں بھی کھا لیتا'۔ ہمارے ملک میں اس چیز کو مزاح قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کسی بھی ایکٹر، ایکٹریس یا چینل نے ان کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا۔ یہاں تک کہ حمزہ علی عباسی جو اکثر خواتین کے لباس اور آئیٹم نمبر پر بولتے نظر آتے ہیں اس موقع پر خاموش رہے۔ بعد میں نعمان اعجاز سٹیج پر آئے اور خواتین کو گھوڑیوں سے مشابہت
دے ڈالی۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان لوگوں کو کیسے عوامی پلیٹ فارم پر آ کر اس طرح کی گفتگو کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ایک مظلوم اور ایک عورت کی حیثیت سے میں ان لوگوں، اور اس انڈسٹری کے معیار کو بہت بر اور تکلیف دہ محسوس کرتی ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ صرف رائٹر یا ایکٹرز ہی مسئلہ نہیں ہیں۔ ڈائریکٹر، پروڈیوسر، اور ٹی وی چینلز جو ان پراجیکٹس کا حصہ بننے کی حامی بھرتے ہیں وہ بھی برابر کے قصوروار ہیں۔ وہ ریٹنگ اور پیسے
کے لیے مظلوموں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ ریپ اور چائلڈ ابیوز اب صرف ریٹنگ کا ذریعہ بن گیا ہے اور یہ دو چیزیں ایسے بکتی ہیں جیسے شاہ رخ خان انڈیا میں بکتے ہیں۔ یہ اب ٹی وی پر سب سے اہم مسئلہ بن چکا ہے اور پیسے کی خاطر ہر کوئی اس میں اپناکردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔ اصل معاملے کی فکر کس کو ہے اور کیا کوئی اسے حل کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں؟ اڈاری اور روگ (میں اس کے لیے فرحت اشتیاق اور فائزہ افتخار کی شکر گزار ہوں) ڈراموں کے علاوہ میں نے کوئی ایسا سیریل نہیں دیکھا جس میں پوری توجہ کے ساتھ مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہو۔ ان ڈراموں میں حملہ آور کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے نہ کہ مظلوم کو۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ مظلوم کو عزت ملنی چاہیے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ حملہ آور کو شک کا فائدہ ملتا ہے اور مظلوم کو نہ صرف بھگتنا پڑتا ہے بلکہ اسے بعض اوقات بے عزت بھی کیا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں سیکس کے بارے میں بات کرنا بھی تابو سمجھا جاتا ہو، وہاں اس چیز کو تازہ ترین ڈیزائنر ہینڈ بیگ یا دھوپ کی عینک کیطرح پروموٹ کیا جاتا ہے۔ برائے مہربانی پیسے اور ریٹنگ کے لیے ریپ کی فروخت بند کر دیجیے۔ آپ نے ایسی مثال قائم کر دی ہے جسے ریورس نہیں کیا جا سکتا۔ ہر وہ شخص جس نے گل رعنا، سنگھٹ اور مقابل اور اس طرح کے دوسرے ڈاراموں میں کام کیا ہے اور ہر وہ شخص جس نے یاسر حسین کو ان ڈراموں پر کچھ نہیں کہابلکہ ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کا یہ مطلب نہیں تھا' ان سب لوگوں کو شرم محسوس کرنی چاہیے۔ میری آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اگر آپ ایک معاملے کو اچھی طرح پیش نہیں کر سکتے تو اپنے ساس بہو سکرپٹ پر واپس چلے جائیں لیکن جنسی حملوں کا شکار لڑکیوں کا مذاق نہ اڑائیں۔

courtesy : https://images.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *