محبت کی علامت پر نفرت کا قبضہ

اداریہ ، نیویارک ٹائمز

taj

رابندر ناتھ ٹیگور جنہوں نے ایک بھارتی مصنف کی حیثیت سے نوبل پرائز جیتا تھا کے مطابق تاج محل وقت کے گالوں پر ایک آنسو کا قطرہ تھا۔ وہ اسے بھارت کا سب سے بڑا ثقافتی خزانہ قرار دیتے تھے اور سب سے بہترین ٹوررازم پوائنٹ بھی سمجھتے تھے۔ لیکن انتہا پسند ہندو جو ہر لحاظ سے مسلمانوں کو نیچا دکھانے اور بھارت میں مغلوب رکھنے کے درپے ہیں وہ اس سیاحت کے بنیادی مرکز کو نفرت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تاج محل 17ویں صدی میں ایک مغل حکمران شاہ جہان نے اپنی بیوی ممتاز کی یاد میں تعمیر کروایا تھا اور یہ دنیا کے عجوبوں میں سے ایک اور محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال اس خوبصورت سفید عمارت کو جس کی دیواروں پر قران کی آیات ہہت خوبصورت طریقے سے کندہ کی گئی ہیں دنیا بھر سے لاکھوں لوگ دیکھنے آتے ہیں۔ یہی چیز انتہا پسند ہندوں کو تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔

اکتوبر میں معلوم ہوا کہ اتر پردیش کے ہندو انتہا پسند وزیر اعلی یوگی ادتیا ناتھ نے ٹورازم بروشر سے تاج محل کو نکال باہر کیا اور ریاستی ٹورازم بجٹ سے اس کی فنڈنگ بھی ختم کر دی۔ سنگیت سوم جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر ہیں نے کہا کہ تاج محل بھارتی کلچر پر ایک بد نما داغ ہے کیونکہ اسے غداروں نے تعمیر کروایا تھا۔ ایک اور بی جے پی راہنما وجے کٹیار کا کہنا تھا کہ تاج محل اصل میں تیجو محل تھا جو لارڈ شیوا کے مندر کا نام تھا۔

اس طرح کے حملوں کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے یوگی ادتیا ناتھ نے تاج محل کا دورہ کیا اور اسے بھارت کے مزدوروں کی تعمیر شدہ ایک شاہکار قرار دیا تب سے ایک بار پھر تاج محل کو ٹورازم بروشر کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

مسلم کش بیانیہ اور مسلمانوں ہر جسمانی حملے مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ہندو ہارڈ لائنر کھل کر مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے لگے ہیں اور جن علاقوں میں مسلمان کم تعداد میں ہیں وہاں مسلمانوں کی زندگی آئے روز بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔

بدھ کے روز بابری مسجد کے ڈھانے کے واقعہ کی 25 ویں برسی تھی۔ بابری مسجد 16ویں صدی کا شاہکار تھی اور اس ہندوں انتہا پسندوں کے انتقام کا نشانہ بنی جن کا خیال تھا کہ یہ ہندو مندر کی جگہ تعمیر کی گئی ہے۔ واقعہ کے بعد ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے جن میں 2000 کے قریب جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انتہا پسند ہندو کس قدر خطرناک طریقے اختیار کر سکتے ہیں۔ ہارڈ لائنر ہندو ابھی بھی اس مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے پر مصر ہیں اور سپریم کورٹ نے اس معاملہ پر پچھلے ہفتے ہی سماعت شروع کی ہے۔

اس خطرناک صورتحال میں بھارتی عوام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تاج محل کے تحفظ کو یقینی بنائیں نہ صرف اپنے ماضی کی اچھی رسومات کی یاد دہانی کےلیے بلکہ اس عہد کے لیے بھی کہ مستقبل میں بھارت ایک بار پھر امن و محبت کا گہوارہ بنے گا۔


Courtesy:https://t.co/dckQ6sw2Np?amp=1

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *