کیا پارٹی ختم ہو چکی ؟

اداریہ بشکریہ "ڈان"

pml

ن لیگ کے پانچ افراد کے مذہبی پیشوا کو استعفی دینے کے واقعہ سے پارٹی میں دراڑ کی خبریں ایک بار پھر اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ مذکورہ پانچ رہنماوں نے اپنے استعفے پیر سیالوی کے حکم پر دیے ہیں جو پچھلے کئی دنوں سے رانا ثنا ء اللہ کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں جنہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں اقلیتی گروپ احمدی طبقہ کو اپنا پاکستانی بھائی قرار دیا تھا۔

یہ استعفے فیصل آباد کی ختم نبوت کانفرنس میں دئیے گئے جس میں ن لیگ کی طرف سے مذہبی جماعتوں اور قوانین کے لیے خطرات کو سامنے لانے کے لیے تمام مذہبی رہنما شامل تھے۔ اس موقع پر ایسا لگتا تھا کہ حکومت کے لیے اپنا بچاو مشکل ہو جائے گا۔ لیکن ابھی تک ایسا کوئی بڑا خطرہ حکومت کو درپیش نہیں آیا اور مذہبی جماعتیں بھی حکومت کی مشکلات بڑھانے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن گروپوں کے بیچ بہت سے معاملات پر اتفاق ہونا باقی ہے اگرچہ تمام پارٹیاں ن لیگ کو کمزور کرنے اور انہیں حکومت سے علیحدہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ ایک بہت اچھا اور دلچسپ مرحلہ تھا۔ جس طرح سے ن لیگ نے ایک پارٹی کی حیثیت سے اپنی بقا کو یقینی بنایا یہ بہت ہی نایاب طریقہ تھا۔

ماضی میں ایسے معاملات میں جڑنے والی پارٹیاں تھوڑے بہت اختلافات پر بھی اتحاد سے الگ ہو جاتی ہیں۔اس لیے مشاہدین نے اندازے لگانے شروع کیے کہ مشکل حالات اور دباو کی حالت میں ن لیگ بھی بکھر جائے گی ۔ لیکن جہاں پارٹی ٹوٹنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں وہاں دوسری طرف ن لیگ چیلنج کا کامیابی سے سامنا کر کے پارٹی میں دراڑ کی تمام باتوں کو غلط ثابت کر رہی ہے۔ ن لیگ کے خلاف پارٹیاں اکٹھی ہو رہی ہیں لیکن بہت سے معاملات پر اپوزیشن پارٹیوں میں ابھی اختلافات موجود ہیں۔ لیکن تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی مفاد کے لیے سیاسی رہنما کسی سے بھی اتحاد کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

ن لیگ کو اس چیز کا ادراک ہے۔ اس نے کچھ ممبران کو جارحانہ طریقے سے مخالفین پر حملوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ آگ پھونکنے والے ن لیگی نمائندے بہت کامیابی سے مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ جس قدر صورتحال سنجیدہ ہو چکی ہے، اس وقت لو پروفائل وزیر اعظم نے بھی اپنے مخالفین کے اتحاد کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ن لیگ کی طرف سےاپنے مخالفین سے جارحانہ طریقے سے نمٹنے کے طریقے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندونی مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے جو ان مذہبی طبقات کی طرف سے اسے درپیش ہیں۔لیکن محفوظ مستقبل کے لیے پارٹی کو چاہیے ہو گا کہ وہ مخالفین سے ایک جامع حکمت عملی سے نمٹنے کے لیے تیاری رکھے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1375977/is-the-party-over

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *