عمران اور اس کا ہجوم

سنجے منجریکر

sanjay

میں پاکستان میں اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ پاکستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ تھا اور پاکستان بیٹنگ کر رہا تھا جب کہ میں مڈ آن پر فیلڈنگ کر رہا تھا۔ میں نے اپنے بیچھے کچھ لوگوں کو ۔کشمیر۔ اور ۔تم بھارتی۔ جیسے الفاظ کہتے سنا۔ میں پیچھے دیکھا تو ایک پٹھانی سوٹ میں ملبوس شخص پچ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ شخص کوئی میچ آفیشل نہیں تھا بلکہ ویسے ہی میچ کےدوران سٹیڈیم میں گھس آیا تھا۔ جب وہ پچ پر پہنچا تو اس نے بھارت مخالف نعرے لگانا شروع کیا۔ وہ ہمیں بتانا چاہتا تھا کہ ہمیں اس دورے پر نہیں آنا چاہیے تھا۔ ہماری ٹیم کو اندازہ نہیں تھا کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے۔ ہم اپنی جگہوں پر موجود رہے اور توقع رکھتے رہے کہ جن لوگوں کی ایسے معاملات سے نمٹنے کی ڈیوٹی ہے وہ معاملہ سنبھال لیں گے۔

ایمپائرز نے مداخلت کی کوشش کی لیکن وہ شخص سیدھا کپتان سری کانتھ کی طرف بڑھنے لگا۔ پھر جو ہم نے دیکھا وہ بہت حیران کن واقعہ تھا کیونکہ اس شخص اور سری کانتھ کے بیچ ہاتھا پائی شروع ہو گئی تھی۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ گلی کی لڑائی جیسا ماحول تھالیکن واحد مختلف چیز یہ تھی کہ یہ لڑائی ٹیسٹ میچ کے دوران گراونڈ میں ہو رہی تھی اور لڑائی میں ایک شخص بھارتی ٹیم کا کپتان تھا۔ کچھ ہی دیر میں دوسرے پلئیر بھی اس لڑائی میں شامل ہو گئے۔ اس شخص کو بھارتی کھلاڑیوں نے گھیر لیا تھا ۔باقیوں کا نہیں معلوم لیکن کرن مورے اس لڑائی میں شریک ہوئے۔

im

مجھے یہ ایک مزاحیہ منظر لگ رہا تھا کہ کرن مورے اپنے پیڈز پہنے ہوئے اس شخص کے ساتھ ہاتھا پائی کر رہے تھے اور اسے لاتیں مارنے کی کوشش میں لگے تھے۔ یہ بات بھی حیرت انگیز تھی کہ لڑائی کے بعد کپتان سری کانتھ کو اپنی شرٹ تبدیل کرنے باہر جانا پڑا کیونکہ انکی شرٹ کے سارے بٹن ٹوٹ چکے تھے۔ اس کے بعد میچ ایسے شروع ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ آج اگر ایسا ہو جائے تو سیریز ہی منسوخ کر دی جائے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کا واقعہ کوئی ہنسی میں اڑا دینے والا نہیں ہوتا لیکن تب 1989 کا سال تھا اور حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقت پاکستان بھی ایک مختلف ملک ہوا کرتا تھا۔ اس وقت پاکستانی ٹیم بھی بہت مختلف تھی۔ یہ ہم اس میچ سے پہلے بھی دیکھ چکے تھے۔

میچ سے قبل والے دن شام کے وقت جب دونوں ٹٰیمیں نیٹ پریکٹس میں مصروف تھیں تب ہم نے عبدالقادر کو ایک شخص کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا۔ پہلے ہمیں لگا وہ کوئی ٹیم ممبر ہو گا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ کوئی تماشائی تھا جو پریکٹس دیکھنے آیا تھا۔ یہ تماشائی گراونڈ کے اندر آ گئے تھے اور قادر اس تماشائی کے پیچھے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے ان کی زندگی اس میں اٹکی ہو۔ بقیہ کراوڈ نے اس واقعہ کو دیکھا اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ یہ شخص عبد القادر سے چھوٹا اور پھرتیلا تھا اور جب قادر اس کے پاس پہنچتے وہ اپنی ڈائریکشن بدل دیتا تھا۔ 5 منٹ تک یہ معاملہ چلتا رہا۔ دونوں ٹیمیں پریکٹس رو ک کر اس واقعہ سے لفط اندوز ہو رہی تھیں۔

جب سکیورٹی اہلکار گراونڈ میں آئے تو یہ پیچھا کرنے کام عمل رک گیا۔ قادر کو موقع دیا گیا کہ وہ اس شخص کو ایک دو ضربیں لگائیں اور پھر اس شخص کو باہر بھیج دیا گیا۔ شو ختم ہوا تو ہم نے پریکٹس دوبارہ شروع کی۔ اگلے دن یہ خبر اخبار وں میں بھی نہیں چھپی۔ بعد میں ایک پاکستانی پلئیر نے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ اس شخص نے پریکٹس سیشن کے دوران عبدالقادر کو پیچھے سے پِنچ کیا تھا۔

پاکستانی کھلاڑی بہت جذباتی ہوا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ ایسا ظاہر کرتے جیسے وہ ایک بکھرا ہوا خاندان ہوں اور پھر اچانک وہ متحد اور مضبوط ٹیم میں تبدیل ہو جاتے۔ ان میں ٹیلنٹ بہت تھا لیکن انہیں ایک لیڈر کی ضرورت تھی جو انہیں ایک ٹیم کی شکل میں جوڑے رکھ سکے۔ وہ لیڈر انہیں اسی ٹور کے دوران ملا۔ جب میں اس دورہ سے واپس آیا تو میں ہر کسی کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں ایسا شخص آ چکا ہے جیسا بھارت میں سنیل گواسکر ہیں جنہیں سب پوجتے ہیں۔

مجھے عمران خان نیازی میں کوئی غلطی یا خامی نظر نہیں آتی تھی۔ میں ان سے پہلی بار مل پاتا اس سے قبل ہی میں ان سے بہت متاثر تھا۔ اس وقت پاکستانی ٹیم دو ایمپائر شکور رانا اور خضر حیات کی وجہ سے بدنام تھی کیونکہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان نے اپنی مخالف ٹیم کے خلاف 13 کھلاڑی کھلائے ہیں۔ آپ انہیں محب وطن کہہ سکتے ہیں لیکن ہوم گراونڈ میں کامیابی میں ان کا اکثر کردار ہوتا تھا۔ لیکن عمران خان نے ان ایمپائر سے اکیلے جان چھڑا لی اور اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف اکیلے ٹیم انتظامیہ کو غیر جانبدا ایمپائر کھڑے کرنے پر آمادہ کر لیا۔ جان ہمپشائر اور جان ہولڈر اس میچ میں ایمپائر تھے اور دونوں کا تعلق انگلینڈ سے تھا۔

اس واقعہ سے معلوم ہو گیا تھا کہ عمران ایک با اثر کھلاڑی تھے جو اپنی ٹیم کا امیج اور مورال بلند کر سکتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا ان کی ٹیم کو ایمپائروں کی مدد کے بغیر بھارت کے خلاف جیتتا ہوا دیکھے۔ وہ شکست سے نہیں گھبراتے تھے لیکن اگلے چار ٹیسٹ میچوں میں ہی ہم نے مشاہدہ کر لیا کہ عمران خان جیسے کپتان کی ٹیم کو ہرانا کتنا مشکل تھا۔ اس وقت عمران خان کی عمر 37 سال تھی۔ ان کی باولنگ کی رفتار کم ہو گئی تھی لیکن پھر بھی ہم انہیں باولنگ، فیلڈنگ یا بیٹنگ کرتے ہوئے ٹارگٹ نہیں کر سکتے تھے۔

اس سیریز میں ہم ان کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوئے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ایسا لمحہ گزرا ہو گا جب عمران کی میچ کی صورتحال پر توجہ نہ ہو۔ چاہے ہم رنز کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہوں یا گراونڈ میں سخت گرمی ہو، عمران کو ہم نے مایوسی اور بوریت کی وجہ سے سٹینڈز کی طرف دیکھتے نہیں دیکھا۔ ان کی نظر ہمیشہ گراونڈ میں میچ کے حالات پر رہتی تھی۔

پاکستان کے پلان کے مطابق سیریز کے نتائج نہیں نکلے کیونکہ سیریز کے چاروں میچز ڈرا ہو گئے۔ سیالکوٹ ٹیسٹ کے علاوہ باقی تمام میچز میں فلیٹ بیٹنگ پچز تھیں۔ شروع میں وہ گرین نظر آتیں لیکن پھر اپنی اصلی شکل میں آ جاتی تھیں۔ باولروں کو سخت محنت کرنی پڑتی اور دن میں کئی کئی اوور ڈالنے پڑتے تھے۔ عمران خان وقار اور وسیم کو بہت دھیان سے جارحانہ کھیل کےلیے استعمال کر رہے تھے۔ وقار کا کوئی فٹنس کا بھی مسئلہ تھا جس کی وجہ سے وہ صرف 2 میچ کھیل پائے۔ عمران نے البتہ ان گرمی کے دنوں میں پوری سیریز میں 185 سے زیادہ اوور کیے اور دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ اوور کرنے والے باولر وسیم اکرم تھے۔

بات صرف مسلسل بولنگ کرنے کی نہیں تھی۔ عمران کی میچ میں دلچسپی سب سے اہم چیز تھی۔ عمران ایک ان سوئنگ بولر تھے اور وہ دن بھر میں 25 سے 30 اوور ڈالتے تھے۔ اگر وہ کچھ دیر بعد کوئی بال مڈل سٹمپ پر ڈالتے تو میں اس گیند کو فلک کر کے رنز بٹور لیتا تو انہیں بہت ٹینشن ہوتی۔ وہ غصے میں پنجابی اور انگلش میں گالیاں دیتے۔ اگر ان کی بال پر ایک رنز لیگ سائیڈ پر بنتا تو بھی انہیں اچھا نہ لگتا۔ وہ اپنے اوپر رحم نہیں کھاتے تھے اور یہی توقع اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے بھی رکھتے تھے۔ لاہور میں جب میری ڈبل سینچری مکمل ہوئی تو انہوں نے باولر کو ڈانٹا کہ اسنے اتنی آسانی سے لیگ سائیڈ پر کیوں رنز دیا۔ مجھے نہیں یاد کہ جب میں نے ڈبل سینچری بنائی تو انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی یا نہیں۔ اسی سیریز میں بعد میں شعیب محمد نے بھی ڈبل سینچری بنائی تھی۔

ایک ایسا میچ بھی تھا جس میں ہم اس بات پر کنفیوز ہو گئے کہ یہ ون ڈے میچ ہے یا نمائشی میچ۔ جب معلوم نہیں ہوا تو ایک ٹیم نے اسے سیریز میچ سمجھ کر کھیلا اور دوسری نے اسے نمائشی میچ سمجھ کر کھیلا۔ عمران جب ٹیم میں موجود ہوں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس ٹیم نے سیریس میچ سمجھ کر کھیلا ہو گا۔ سری کانتھ مذاق میں عبدالقادر کی طرح باولنگ ایکشن سے عمران کو بالنگ کر رہے تھے۔ سری کانتھ مسکرا رہے تھے جب کہ عمران خان پوری سنجیدگی کے ساتھ انہیں گھور رہے تھے۔

فیصل آباد ٹیسٹ میں ٹنڈولکر کے بلے سے بال ٹکرا کر کیپر کے ہاتھوں میں گئی لیکن ایج اتنا کمزور تھا کہ کسی پلئر نے اپیل تک نہیں کی۔ صرف مڈ آن پر کھڑے عمران خان نے اپیل کی۔ ایمپائر نے نفی میں سر ہلایا لیکن عمران کو یقین تھا کہ بال بلے پر ٹکرائی ہے۔ وہ اپنے پلئیرز کو پوچھتے رہے کہ انہیں آواز کیوں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: آواز تو ضرور آئی یار۔ یہ کہہ کر وہ اپنی پوزیشن پر واپس چلے گئے۔ جب اوور ختم ہوا تو ٹنڈولکر نے مجھے بتایا کہ کیا شخص ہے یہ۔ اس کی سماعت اتنی تیز ہے۔ نہ کیپر سن پایا نہ ایمپائر لیکن عمران نے سن لیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ گیم میں کتنے محو ہو کر کھیلتے تھے۔

کرکٹ گراونڈ میں عمران خان بہت آزاد تھے۔ وہ اپنے پلئیرز اور خود کو بھی ہر غلطی پر برا بھلا کہتے تھے۔ عمران خان کی نقل وقار اور وسیم بہت اچھی کرتے تھے۔ گراونڈ میں عمران کچھ بھی بولتے تھے اور کبھی الفاظ کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ وہ اپنی ٹٰیم سے بہت جڑے ہوئے تھے یہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔ ان کے دور میں کھلاڑی اتنے با اثر بن چکے تھے کہ جاوید میاںنداد اپنی خواہش پر 100ویں ٹیسٹ کےلیے بیٹنگ وکٹ بنوا سکتے تھے۔ جب کہ عمران خان کی خواہش تھی کہ بولنگ پچ بنائی جائے تا کہ بولرز کو مدد مل سکے۔

ہر فلیٹ پچ میچ میں عمران کو ایک اننگز میں 40 کے لگ بھگ اوور پھینکنے پڑتے تھے اور ہم تقریبا 400 کے آس پاس رنز بناتے تھے۔ اس کے باوجود اننگز بریک کے صرف 10 منٹ میں عمران پیڈ اپ ہو کر گراونڈ میں آ کر وارم اپ کرتے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایک لوئر مڈل آرڈر بیٹسمین تھے۔ وہ ایسا ہر بریک میں کرتے تھے چاہے لنچ بریک ہو یا ٹی بریک۔

میچ کے دوران جب بھی میری پاکستانی ڈریسنگ روم پر نظر پڑتی تو میں عمران خان کو گیند یا بیٹ ہاتھ میں پکڑے گراونڈ میں اترنے کی تیاری کرتے دیکھتا تھا۔ اس طرح کا ایک پلئیر ہماری ٹیم میں بھی تھا لیکن اس کی عمر 16 سال تھی اور عمران خان کو اس وقت کرکٹ کی دنیا میں 19 سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ کرکٹ میں عمران کے طریقے اور چالیں بہت قابل تعریف ہوتی تھیں۔ وہ دیکھ لیتے تھے کہ کب کس پلئیر کی توجہ اپنی گیم سے ہٹ گئی ہے اور وہ اسے اپنے انداز سے پیغام بھیجتے تھے۔ وہ صورتحال کا درست اندازہ لگاتے اور بہت سے برے واقعات پیش آنے سے روک لیتے۔

عمران کا مزاج رکھنے والے بھارتی کھلاڑی سندیپ پٹیل تھے لیکن وہ اس طرح کا رویہ صرف رانجی ٹرافی میں اپناتے تھے۔ عمران کے اپنے کھلاڑیوں اور خاص طور پر فاسٹ بولرز کی تربیت کی حوالے سے بہت سے واقعات مشہور ہیں۔ ایک بار ایک بیٹسمین نے وقار یونس کو عمران خان کے ایریا کیطرف ڈرائیو کیا۔ عمران نے گیند کو باونڈری کے پاس جا کر روکا اور بول پھینکے بغیر سیدھے وقار کے پاس آئے اور بولے: وکی، تم نے کیا کیا؟ وقار نے کہا کہ وہ ان سوئنگر پھینکنا چاہتے تھے۔ عمران نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور کہا کہ یار ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ لیا کرو۔

ایک بار بولر اپنے باولنگ مارک پر کھڑا تیار تھا لیکن بولنگ کےلیے نہیں گیا۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد عمران نے پوچھا کہ یار بولنگ کیوں نہیں کر رہے؟ اس نے کہا: آپ نے بتایا ہی نہیں کہ کونسی بول پھینکنی ہے۔ میں اور ٹنڈولکر عمران اور افریقی کپتانوں سے بہت متاثر تھے اور ہم ان کے طریقے ممبئی ٹیم میں کھیلتے ہوئے آزماتے اور ٹٰیم کو مشکلات کا شکار کر دیتے تھے۔ یہ طریقہ ہم نے تب تک اپنائے رکھا جب اجیت اگرکر ہماری ٹیم کا حصہ بنے کیونکہ انہیں بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ کونسی بال پھینکی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے بڑے پلئیرز کی طرح عمران خان بھی اپنی ہر گیم میں بہترین کارکردگی چاہتے تھے۔ 1992 میں ہم نے پاکستان کے خلاف انگلینڈ میں تین میچ کھیلے تا کہ عمران کے ہسپتال کےلیے فنڈز جمع کر سکیں۔ پہلا میچ کرسٹل پیلیس میں کھیلا گیا۔ اگرچہ وہ نمائشی میچ تھے پھر بھی تماشائیوں کا ہجوم اتنا ہی بڑا اور پرجوش تھا جتننا بین الاقوامی میچز میں ہوتا تھا۔ تماشائیوں کو بین الاقوامی میچز کے مقابلے میں زیادہ فری ہینڈ ملا ہوا تھا۔ کچھ تماشائی خود پچ پر آ جاتے اور کچھ میزائل پھینکتے تھے۔ پہلے میچ کو مختصر کر کے 40 اوور کا کیا گیا پھر صرف 25 اوورز تک محدود کر دیا گیا۔ جب پاکستان کو 8 اوورز میں 69 رنز درکار تھے تو تماشائیوں نے ایک بار پھر دہاوا بول دیا اور انتظامیہ کو میچ وہیں ختم کرنا پڑا۔ میچ کے بعد ہونے والی پریزنٹیشن میں عمران خان نے مائیک پکڑا اور کہا کہ بھارت اس میچ کا فاتح ہے اور پاکستانی تماشائیوں کا رویہ شرمناک تھا۔

میری جب عمران سے پہلی ذاتی ملاقات ہوئی تو میں ڈر رہا تھا کہ میں نے اپنے ہیرو کو غصہ دلایا ہے۔ یہ 1989 سے قبل شارجہ ٹور کے دور کی بات ہے۔ بھارت اور پاکستان کے بیچ میچ جاری تھا اور اہم گراونڈ میں تھے۔ میں میچ کی تیاری کر رہا تھا جب میں نے ایک شاٹ کھیلی جو پاکستانی صحافی کی طرف چلی گئی۔ یہ بال ایک شخص کو لگنے ہی والی تھی جب سب نے جھک کر جان بچائی۔ ایک صحافی نے آواز دی اور کہا: یہ شاٹ میچ کے دوران کھیلنا۔ ابھی نہیں۔ مجھے یہ جملہ اچھا نہیں لگا اور میں نے یہ دل پر لے لیا۔ اس وقت پاکستان کی ٹیم بہت مضبوط تھی اور دنیا پاکستانی کھلاڑیوں کی عزت کرتی تھی۔ شارجہ میں تو پاکستان کو ہرانا ناممکن ہوتا تھا۔ ٹیمیں وہاں صرف پاکستان سے ہارنے آتی تھیں۔ بھارت سال میں دو دفعہ شارجہ جاتا تھا اس لیے زیادہ شکسستیں بٹور لیتا تھا۔ اسی لیے مجھے لگا کہ صحافی کا رویہ متکبرانہ تھا۔

میں نے صحافی کو جواب دیا اور کہا کہ اسے بھی پریس باکس میں ہونا چاہیے نہ کہ گراونڈ کی باونڈری کے آس پاس۔ وہ صحافی بھی غصہ میں آ گیا اور ہمارے بیچ جھگڑا ہو گیا۔ رامن لامبا آئے اور مجھے کھینچ کر اپنےساتھ لے گئے۔ لیکن مسئلہ وہیں ختم نہیں ہوا۔ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں ڈریسنگ روم تک جانے کے لیے ایک لاونج سے گزرنا پڑتا تھا۔ ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ میں نے کہا کچھ نہیں، ایک پاکستانی لفنٹر تھا جو بہت سمارٹ بن رہا تھا ۔ اچانک کسی جانی پہچانی شخصیت نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: زیادہ اینٹی پاکستانی مت بنو۔ یہ عمران خان تھے۔

کئی ماہ بعد جب میں عمران خان سے بہت متاثر تھا، میں اکثر سوچتا تھا کہ میں عمران کی مخالف ٹیم میں کیوں ہوں۔ میں سوچتا تھا کہ کیا عمران خان بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتے ہیںْ میں سوچتا کہ شاید اسی وجہ سے میری ڈبل سینچری مکمل ہونے پر عمران نے اپنے بولرکو ڈانٹا تھا۔ میں یہ بھی سوچتا کہ ایسا کب ہو گا جب میں عمران خان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنا پاوں گا۔

1989 کا دورہ شروع ہوا اور پھر اختتام پذیر بھی ہو گیا۔ چار ٹیسٹ میچز کے دوران عمران نے میدان میں میرے ساتھ ایک بار بھی گفتگو نہیں کی۔ جب سیریز ختم ہوئی تو عمران نے میری بے تحاشا تعریف کی۔ میں نے تب خیال کیا کہ شارجہ کا واقعہ ان کے لیے زیادہ اہم نہیں تھا۔ ایک عظیم کرکٹ سفارت کار کی طرح ان کےلیے گیم ہی سب سے اہم تھی۔ میرے ہیرو سے اس طرح کی تعریف سمیٹنا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔

ہماری اگلی ملاقات نیوزی لینڈ میں ہوئی۔ جیسے ہی انہوں نے مجھے دیکھا تو کہنے لگے کہ تم نے رچرڈ ہیڈلی ٹرافی میں بیک فٹ پر کیوں کھیلا؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے وسیم اور وقار کو بہت اچھا کھیلا کیونکہ میں ہر بال پر آگے کی طرف آتا تھا۔ یہ ایک اچھی نصیحت تھی لیکن ان کی بات سن کر میں نے بہت شرمندگی محسوس کی کہ میرا ہیرو مجھے دیکھ رہا تھا لیکن میں ناکام ہوتا رہا۔ پہلی بار ایسا دیکھنے کوملا کہ ایک پاکستانی ایک بھارتی کھلاڑی کی پروگریس کو دیکھ رہا ہو اور اسے بہتر پرفارم کرتا ہوا دیکھنا چاہتا ہو۔

میں واحد بھارتی کھلاڑی نہیں تھا۔ منندر سنگھ کی رفتار میں بھی نمایاں کمی آٗئی تھی اور وہ اپنا رن اپ بھی کھو چکے تھے۔ مجھے ملنے کے بعد عمران سیدھا منندر کے پاس گئے اور پوچھا: منی تہماری بولنگ کو کیا ہوا؟ تم نے ایکشن کیوں بدلا؟ اب تمہارا رن اپ بھی نہیں رہا۔

میانداد نے عمران کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کی رفتار کم ہو گئی ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اپنا رن اپ کم کر لیں تا کہ زیادہ کنٹرول کے ساتھ باولنگ کر پائیں لیکن عمران نے ان کی ایک نہ سنی۔عمران نے کہا کہ اگر کنٹرول کھو دیا تو رن اپ مختصر نہیں کر پاو گے۔ باقی پیس بھی کھو دو گے۔ ایسا کرو کہ اوریجنل رن اپ پر ایک ہی سٹمپ کو ٹارگٹ کرتے ہوئے روزانہ ہزار بالز ڈالو اور اکیوریسی خود ہی حاصل ہو جائے گی۔ عمران کو اس قدر عظیم لیڈر بننے کےلیے بہت محنت کرنا پڑی۔ وہ بہت سخی انسان تھے۔ وہ اپنی خوبیوں اور اچھائیوں اور تخلییقی کمالات کو چھپانے کی بجائے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ شئیر کرتے تھے۔

رمیض راجا نے مجھے بتایا کہ اگر عمران میرے کپتان ہوتے تو وہ کبھی مجھے ڈراپ نہ کرتے بلکہ ہر صورت میں مجھے ایک کامیاب پلئیر بنا دیتے۔ اس طرح کے شاندار کپتان تھے عمران خان۔ اگر انہیں کسی کھلاڑی پر اعتماد ہوتا تو وہ اس کا پورا ساتھ دیتے۔ انضام الحق کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ورلڈ کپ کیھلنے جانے سے قبل ہی عمران خان نے کہا تھا کہ انہوں نے انضمام کی صورت میں ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی ڈھونڈ نکالا ہے۔ جب انضمام تیسرے نمبر پر بیٹنگ میں اچھی کارکردگی نہ دکھا پائے تو عمران نے انہیں ایک نمبر نیچے بھیجا لیکن انہیں ڈراپ نہیں کیا اور انضمام نے انہیں سیمی فائنل میں فتح دلائی۔

عمران اور ان کےساتھی سینئر کھلاڑیوں کا اعتماد قابل تعریف تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی ٹٰیم کو دنیا کی بہترین ٹیم سمجھتے تھے مخالف چاہے کوئی بھی ٹیم ہو۔ بھارت میں عمران جیسا کوئی پلئیر نہیں تھا جو کھلاڑیوں کی ایسے تربیت کرے جیسی عمران نے انضمام کی کی تھی۔ عمران اپنے پلئیرز کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ رمیض نے مجھے بتایا کہ وہ آپسی جھگڑے کیسے نمٹاتے تھے۔ ایک بار کھیل کے دوران میانداد اور سلیم یوسف کے بیچ جھگڑا ہو گیا۔ دونوں مضبوط اجسام کے مالک تھے اور کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ لنچ بریک میں جاوید میانداد عمران کے پاس گئے اور کہا: اس ٹور پر یا سلیم یوسف رہے گا یا میں رہوں گا۔ ہم دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔

عمران نے ان کی بات سنی اور کہا: یار جاوید تو بھی نا؟ پھر عمران مسکرائے اور چل دئے۔ بات یہیں ختم ہو گئی۔ یہ بہت ناقابل یقین بات تھی۔ کوئی اور پلئیر ہوتا تو معاملات بگڑ سکتے تھے لیکن عمران جاوید میانداد کو ہینڈل کرنا جانتے تھے۔ رمیض مجھے اکثر بتاتے ہیں کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے ڈریسنگ روم میں کبھی منفی خیالات نہیں ہوتے تھے۔ رمیض اب بھی حیران ہوتے ہیں کہ عمران خان کو کس طرح اتنا اعتماد ملا کہ آسٹریلیا پہنچ کر انہوں نے کہا کہ ہم یہ ورلڈ کپ جیت کر لے جائیں گے۔ یہاں تک کہ پاکستان کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے ہوتا تو بھی پلئیر بہت مثبت رہتے اور کبھی دفاعی انداز نہیں اپناتے تھے۔

میں ہمیشہ اس دکھ کا سامنا کروں گا کہ ہمارے پاس کوئی عمران جیسا کپتان نہیں تھا۔ چھوٹے کھلاڑی جیسے کرن مورے اور منوج پربھارکر عمران سے بہت کچھ سیکھ سکتے تھے۔ ان جیسے پلئیرز کو ہمیشہ عمران خان کی تھپکی ملتی تھی۔ ایک بار اعجاز احمد نے میچ کے اختتام پر سلو بیٹنگ کی اور 30 کے لگ بھگ رنز کے ساتھ ناٹ آوٹ واپس آئے۔ عمران خان نے انہیں کہا کہ آئندہ اگر انہوں نے ذاتی ترجیحات کو ٹیم کے مفاد پر مقدم رکھا تو انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔ ہماری ٹیم مین اسکے بر عکس مورے کو زیادہ جارحانہ بولرز کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ کپتان اور سینئر کھلاڑی خود نچلے آرڈر پر بیٹنگ کرنے آتے اور آسانیاں ڈھونڈتے تھے۔

اسی طرح پرابھاکر نے بھی اپنے 39 میں سے 23 میچز میں اوپننگ کی۔ یہ دونوں لڑکے اپنے مزاج کے لحاظ سے پاکستانی لگتے تھے۔ بھارت اور پاکستان کے روایتی حریف ہونے کے باوجود ہم دوستوں کی طرح رہے۔ زیادہ دشمنی تماشائیوں اور میڈیا میں دیکھی جاتی تھی۔ 1989 کے دورہ کے دوران پورے دو ماہ میں کوئی ایسا میچ نہیں گزرا جس میں گرما گرمی نہ ہوئی ہو۔ خاص طور پر پربھارکر اور مورے اکثر جاوید میانداد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے اور وہ بھی جواب میں مشتعل ہو جاتے تھے۔ 1992 ورلڈ کپ میچ میں میانداد اور مورے کے بیچ جو جھگڑا ہوا اس کا لنک تین سال قبل کے واقعات سے تھا۔

****

بات یہ نہیں کہ اسوقت پاکستانی ٹیم سب سے زیادہ متحد تھی ۔ کھلاڑی عمران خان کی غیر موجودگی میں ایک دوسرے پر طعنے مارتے اور لڑ بھی پڑتے تھے۔ یہاں تک کہ میدان میں الجھ جاتے تھے لیکن عمران کی موجودگی میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ جب کوئی مس فیلڈ کرتا تو عمران خان صرف کندھے نہیں اچکاتے تھے بلکہ گالی دیتے تھے۔ میں نے کچھ زبانی یاد کرنے کی بھی کوشش کی تا کہ اپنے پلئیرز کو بتا سکوں۔ مجھے یقین تھا کہ جب میں دوستوں کو بتاوں گا کہ عمران کا گراونڈ میں رویہ کیا ہوتا ہے تو وہ بہت حیران ہوں گے۔

میانداد عمران خان کو اکثر مشورے دیتے نظر آتے تھے۔ عمران اکثر ان کی بات سنتے تھے۔ لیکن میں نے کبھی انہیں مشوروں پر عمل کرتے نہیں دیکھا۔ میں نے میانداد کو بھی ہمت ہارتے نہیں دیکھا۔ اگر کبھی عمران تنگ آ جاتے تو کہتے: یار جاوید ، تو رہنے دے۔ ایک بار کچھ بولتا ہے پھر دوسری بار کچھ اور بولتا ہے۔ میانداد احتجاج کرتے ہوئے واپس سلیپ ایریا میں پہنچ جاتے۔

ایک بار کسی نے عمران خان سے پوچھا کہ کبھی جاوید میانداد کے کسی مشورے نے کام کیا؟ تو ان کا جواب تھا کہ جو بندہ روزانہ ہزار مشورے دے ان میں سے ایک دو تو کام کر ہی جاتے ہیں۔ کبھی کبھار صورتحال بہت عجیب ہو جاتی لیکن پاکستان کو میچ جیتنے کا طریقہ آ گیا تھا۔ بھارت اور پاکستان میں اس وقت یہی فرق تھا۔ ہم کہیں جاتے تو منفی ذہن اور خدشات ذہن میں لے کر جاتے تھے۔ ہم انگلینڈ جا کر آسانی سے ہار جاتے جب کہ پاکستان انگلینڈ جا کر انہیں ہرا لیتا تھا۔ 1992 میں ہمارے دورہ سے 2 سال بعد جب پاکستان انگلینڈ گیا تو اس نے نہ صرف انگلینڈ کو بری طرح شکست دی بلکہ دوسرے تمام ممالک کو بھی سائیڈ گیمز میں شکست سے دوچار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جیتنے والی ٹیم کو بہت مالی مدد ملتی تھی۔

جب ہم شارجہ جاتے تو بھی ایسا لگتا جیسے ہم وہاں سزا بگھتنے جا رہے ہیں باوجود اس کے کہ وہاں فلیٹ پچ ہوتی تھی۔ شارجہ میں پاکستان بھارت کرکٹ میں زیادہ تلخی آ جاتی تھی جس کی وجہ پاکستانی عوام کی شارجہ میں موجودگی تھی۔ جب ہم ائیر پورٹ پہنچتے تبھی سے وہ ہمارے پیچھے پڑ جاتے تھے۔ ہوٹل، ریسٹورینٹس، شاپنگ سینٹر، جہاں بھی ہم جاتے وہاں ہمیں جیوے جیوے پاکستان کے نعروں سے تنگ نمٹنا پڑتا۔

اس کے علاوہ پاکستان کے خلاف کھیلنا اتنا مشکل نہیں ہوتا تھا۔ ڈراما، ٹینشن، جذبات یہ چیزیں کرکٹ سے علاوہ ہوتی تھیں۔ پلئیرز کی حیثٰیت سے ہم ایک دوسرے کے اتنے سخت مخالف نہیں ہوتے تھے۔ اصل میں ہم ایک دوسرے کے خلاف اتنے زیادہ میچ کھیلتے تھے کہ ہمارے بیچ کی تلخیاں خود ہی ماند پڑ جاتیں۔ انگلینڈ، ساوتھ افریقہ اور آسٹریلیا کے مقابلے میں پاکستان کے خلاف کھیلنا آسان تھا۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے ساتھ ہم شارجہ میں کھیلتے جہاں فلیٹ پچ تیار کی جاتی تھی یا پھر ایشیا کے کسی اور ملک جیسے پاکستان، بھارت میں کھیلتے تھے۔ میں شارجہ کی بیٹنگ پرفارمنس کو بہترین نہیں سمجھتا تھا۔ وہاں ایک دفعہ مجھے مین آف دی سیریز ایوارڈ بھی ملا تھا۔ لیکن میں اسے کوئی بڑی کامیابی نہیں سمجھتا۔

شارجہ سٹیڈیم کے قریب ایک قبرستان تھا۔ جب ہم شارجہ جیسے مجھے ایسا لگتا جیسے یہ قبرستان کا سفر ہو کیونکہ شارجہ باولرز کے لیے قبرستان ہی تھا۔ وہاں بڑے بڑے باولرز کے حوصلے ٹوٹ جاتے تھے۔ ایک بار میں نے کرٹلی ایمبروز کی گیند پر ان کے سر کے اوپر سے چھکا لگایا۔ ان کی اگلی گیند کم رفتار سے میرے پیڈز پر آئی ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک ٹائیگر کو گھاس کھانے پر مجبور کیا گیا ہو۔ شارجہ میں باولرز کے ساتھ ایسا ہوتا تھا سوائے پاکستانی بولرز کے۔

آف دی فیلڈ شارجہ میں البتہ بہت گلیمر ہوتا تھا۔ فلم سٹار، پاپ سٹار، اور دوسرے بڑے لوگ اپنے لگژری باکس میں نظر آتے تھے۔ میں پریشان ہوتا تھا کہ یہاں زمین کے نیچے کیا ہو رہا ہے۔ مجھے اس وقت صرف یہی معلوم تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے میچز کی بہت مانگ ہے اس لیے ہمیں اکثر شارجہ میں نمائشی میچز کےلیے بلا لیا جاتا ہے۔ نمائشی میچز میں زیادہ سختی نہیں دیکھنے کو ملتی تھی۔ لیکن مقابلہ پھر بھی سخت ہوتا تھا۔ جاوید میانداد اور دلیپ وینگسارکر کی مثال لے لیں۔ ان کے بیچ سخت مقابلہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ میدان سے باہر وہ دوست رہتے تھے۔ 1989 کے ایک نمائشی میچ میں وقار یونس نے آوٹ سوئنگنگ یارکر پر وینگساکر کو بولڈ کر دیا اور وکٹ گھومتی ہوئی پیچھے تک گئی۔ میں نان سٹرائیکر اینڈ پر تھا۔ میں نے پریشانی وینگسارکر کے چہرے پر دیکھی۔

تھوڑی دیر بعد میں آوٹ ہو گیا اور جب میں وینگسارکر کے ساتھ چائے پی رہا تھا تو میانداد آئے اور سیدھے وینگسارکر کی طرف بڑھے۔ کوئی سلام دعا کیے بغیر کہنے لگے: تم نے ایک بہت بڑا کیریر مکمل کر لیا ہے لیکن ابھی تک تمہارے پاس ایک ڈگری موجود نہیں تھی یعنی تم کبھی وقار یونس کے ہاتھوں بولڈ نہیں ہوئے تھے۔ اب یہ بھی تمہیں مل گئی ہے۔ وینگسارکر نے اس بات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن میانداد نے مزید چھیڑ چھاڑ کی۔ وینگسارکر نے کہا کہ میں ابھی گراونڈ میں پہنچا تھا اور گیند پر میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ لیکن یہ بات میانداد کو قبول نہیں تھی۔ وہ کہنے لگے کہ وقار بہت اچھا بولر ہے اور بہت اچھے اچھے بیٹسمینوں کو اس طرح ہی بولڈ کر چکا ہے۔ اس لیے تم زیادہ پریشان مت ہونا۔

میانداد کے جانے کے بعد وینگساکر نے تسلیم کیا کہ وسیم واقعی ایک اچھا باولر تھا۔ ان نمائشی میچز میں سامنے آنے والے چہروں میں وقار یونس اکیلے نہیں تھے۔ ٹنڈولکر کے عبدالقادر کو گراونڈ سے باہر چھکا لگانے کی کہانی بھی بہت مشہور ہے لیکن میں نے ٹنڈولکر کی اصل صلاحیت تب دیکھی جب انہوں نے وسیم اکرم کے خلاف کھیلا۔ شاید ٹنڈولکر اس وقت زیادہ آزادی سے کھیلتے تھے لیکن ان دنوں ٹنڈولکر بمقابلہ وسیم سب سے اہم بحث ہوتی تھی۔ یہ میچز ٹی وی پر نہیں دکھائے جاتے تھے لیکن میں نے اپنی رنگ سائیڈ ویو سے دیکھا کہ ٹنڈولکر وسیم پر بھاری پڑتے تھے۔ ایک نمائشی میچ میں مدثر نذر کے سامنے بیسٹ ڈیتھ باولر کو ٹنڈولکر نے بہت بری طرح دھویا تھا۔ ٹنڈولکر زیادہ کھل کر بات نہیں کرتے تھےلیکن اکثر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ دوسرے بیٹسمین وسیم کو کھیلنے میں انتا گھبراتے کیوں ہیں۔ میں جواب میں یہی سوچتا تھا کہ شاید اس لیے کہ تم دوسرے بیٹسمینوں کی طرح نہیں ہو اس لیے ایسا ہے۔

چونکہ ٹنڈولکر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی تھی اور میں نے بھی ایک اچھی سیریز کھیلی تھی اس سے ہماری پہچان بڑھی۔ میں نے بہت سے پاکستانیوں اور خاص طور پر عمران خان کو ایک خاص قسم کے سینڈل پہنے دیکھا تھا اس لیے میں نے وہ بھی خریدنے تھے اس لیے ٹورر کے بعد ہم دونوں پشاور گئے۔ ایک مارکیٹ میں پہنچے جہاں صرف سینڈل شاپس موجود تھیں۔ جب ہم ادھر تھے تو لوگوں کو معلوم پڑ گیا کہ ہم دونوں وہاں موجود ہیں۔ پورا بازار کچھ ہی دیر میں شائقین سے بھر گھر اور وہ ہمیں گھور کر دیکھنے لگے۔ یہ میرے لیے ایک عجیب سا تجربہ تھا۔ تب ہمیں مشہور ہونے کا تھوڑا احساس ہونے لگا تھا لیکن شارجہ واقعہ کے بعد میں پاکستانی تماشائیوں سے تھوڑا خفا بھی تھا۔ البتہ اس مارکیٹ میں لوگ صرف ہمیں دیکھ رہے تھے اور حیران تھے۔ کسی نے ہم پر حملہ نہیں کیا۔ میں نے سینڈل لیے تو دوکاندار نے مجھ سے قیمت بھی نہیں لی۔


Courtesy:http://www.espncricinfo.com/story/_/id/21998054/immy-crowd

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *