ایئر مارشل اصغر خان… آئی جو ان کی یاد

mujeeb-ul-rehman

نیا سال طلوع ہوا ہی تھا کہ ایئر مارشل اصغر خان کا آفتابِ زیست غروب ہو گیا۔ 5 جنوری کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ بارہ دن بعد ان کی سالگرہ منائی جانے والی تھی۔ اس روز وہ 97 برس کے ہو جاتے۔ چند روز پہلے برادرم منظور گیلانی نے کہ ایئر مارشل کی محبت کا چراغ دل میں جلائے رہتے ہیں، فون کر کے یاد دلایا تھا اور تاکید بھی کی تھی کہ اس روز لازماً لاہور میں رہوں۔ ہائی کورٹ کے تاریخی ہال میں سالگرہ کی تقریب منعقد ہو گی... لیکن اس سے پہلے ہی وہ سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ میں ان دنوں بیرون ملک تھا، اس لئے آخری رسومات میں شرکت نہ کر سکا۔ دل مگر ان کی یاد سے معمور رہا اور اب تک ہے۔ ایئر مارشل نے جہاں پاک فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ کے طور پر اسے منظم کیا، وہاں پی آئی اے کے سربراہ کے طور پر بھی اپنا لوہا منوایا۔ سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو اسے آباد کر دیا۔ برسوں یہاں بھی ان کا سکہ چلتا رہا۔ شہر اقتدار پر تو ان کا جھنڈا نہیں لہرایا لیکن حزب اختلاف کے صحرا میں اذانیں ایسی گونجیں کہ اب تک کہیں نہ کہیں ان کی بازگشت سنائی دے جاتی ہے۔
ایئر مارشل مرحوم سے برسوں گہرا تعلق رہا۔ بھٹو اقتدار کے آخری دنوں میں لاہور کے ایک ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا تو میاں محمود علی قصوری، جاوید ہاشمی، خورشید قصوری، ملک حامد سرفراز کے ساتھ میں بھی دھرا گیا۔ چند ہفتے ان کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل کی ایک ہی بیرک میں رہنے کا موقع ملا۔ لاریب وہ انتہائی دیانتدار اور بہادر شخص تھے۔ انہوں نے جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی پھر اسے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی میں مدغم کر دیا۔ بعد ازاں اس سے علیحدہ ہو کر تحریک استقلال تخلیق کی۔ جنرل ضیاء الحق کے طویل مارشل لاء نے ان کی سیاست کو بند گلی میں داخل کر دیا۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کے سب سے مضبوط اور توانا مخالف تھے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست سے پُرجوش اختلاف رکھنے والا کوئی سیاسی کارکن شاید ہی ایسا ہو جو کسی نہ کسی مرحلے میں ان کے ساتھ وابستہ نہ ہوا ہو۔ سیاست میں میاں نواز شریف کی پہلی محبت تحریک استقلال ہی تھی۔ جاوید ہاشمی کو بھی انہوں نے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ اکبر بگٹی بھی ان کو دل دے بیٹھے تھے۔ انہیں بھٹو صاحب کا موزوں (Presentable) متبادل سمجھا جاتا تھا کہ وہ ایک عالمی چہرہ رکھتے تھے۔ بھٹو صاحب کو بھی اس کا احساس تھا‘ اور اسی لئے وہ ان سے معاملہ کرنے میں بہت محتاط تھے۔ ان کی رابطۂ عوام مہم کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے، لیکن ان کو گرفتار نہیں کرتے تھے کہ مبادا وہ دبنے کے بجائے ابھر کر مرجع خلائق بن جائیں اور بھٹو صاحب کے ساتھ وہ کر گزریں جو ان کی گرفتاری نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے ساتھ کیا تھا۔
ایئر مارشل کی تمام تر مقبولیت کے باوجود ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے مقابل ایک انتخابی طاقت نہ بن پائی، بہت سے سیاسی مبصرین ان کا موازنہ عمران خان سے کرتے ہیں اور چند برس پہلے تک تو یہ بات زور دے کر کہی جاتی تھی کہ عمران خان بھی اصغر خان ثابت ہوں گے کہ ان کی ذاتی مقبولیت ایک مضبوط سیاسی جماعت کے سانچے میں نہیں ڈھل سکے گی۔ لیکن 2013ء کے انتخابات نے تحریک انصاف کو جو توانائی بخشی، اس نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔ ایئر مارشل نے اپنی تحریک استقلال کو عمران خان کی تحریک انصاف میں ضم کر دیا تھا۔ وہ متحرک نہیں رہے تھے لیکن ان کا دل عمران کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ چند برس پہلے ان کی کتاب ''ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا‘‘ کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی تو اس میں صرف دو مقررین کو مدعو کیا گیا تھا، عمران خان کے علاوہ ان کی نگاہ انتخاب مجھ پر پڑی تھی۔ ایئر مارشل کا تفصیلی تذکرہ اس وقت ممکن نہیں، لیکن یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں ان کی آواز سب سے نمایاں تھی۔ وہ شیخ مجیب الرحمن اور ان کی عوامی لیگ کو‘ جس نے 70ء کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی‘ اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن جگہ جگہ ان کا استقبال پیپلز پارٹی کے غلیظ نعروں اور کالے جھنڈوں سے کیا جا رہا تھا۔ وہ ایسی جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتے تھے جو اکثریت کے انکار پر مبنی ہو، جس میں سازشوں کے ذریعے کسی لاڈلے کو اقتدار میں لانے کی راہ ہموار کی جائے۔ یحییٰ خان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کے گٹھ جوڑ کو وہ پاکستان کے لئے زہر قاتل سمجھتے تھے۔ اقتدار کے لئے ملک کی قربانی دینا ان کے نزدیک گناہِ عظیم تھا۔
افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہوئیں تو ایئر مارشل کا ردعمل اہل اقتدار سے بہت مختلف تھا۔ جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقا نے افغان مہاجرین کا کھلے دل سے استقبال کیا، افغان مجاہدین کی تحریک مزاحمت کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس کے لئے ایک عالمی کولیشن قائم کی‘ لیکن ایئر مارشل اصغر خان اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے، ان کی بات سنی نہیں گئی، لیکن وہ اس پر قائم رہے اور اسے دہراتے رہے۔ ایئر مارشل ان سیاست دانوں میں سے تھے‘ جو ہجوم کی پیروی کی بجائے، ہجوم کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے تھے، اپنی سوچ رکھتے تھے، اور اس کا اظہار کر سکتے تھے۔ ان کے نزدیک جذبات کی تجارت کا نام سیاست نہیں تھا۔ انہیں اس کا نقصان بھی اٹھانا پڑا، لیکن انہوں نے اس کی پروا نہیں کی۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی ہر بات کو آنکھ بند کر کے مانا جا سکتا تھا یا مانا جانا چاہیے تھا، یقیناً ان کے کئی فیصلوں نے ان کی سیاست اور جماعت کو نقصان پہنچایا، اسی لئے تو وہ تمام تر صلاحیت کے باوجود اپوزیشن کی صفوں ہی میں رہے۔ انہوں نے اپنے افکار اور تجربات کو قلم بند بھی کیا، کئی کتابیں اور مضامین ان سے پاکستانی سیاست اور تاریخ کے طالب علموں کا رشتہ استوار رکھیں گے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ''جنرلز ان پالیٹکس‘‘ لکھ کر انہوں نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس کا مقدمہ میں نے اپنے ماہنامہ ''قومی ڈائجسٹ‘‘ میں چھاپا تو اسے بازار سے غائب کر دیا گیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ہمارے ''قومی پریس‘‘ نے خفیہ طور پر چھاپا۔ اس کے ناشر کے طور پر لندن کا پتہ درج تھا، لیکن اسے لاہور میں چھاپ کر دور و نزدیک پھیلا دیا گیا۔
ایئر مارشل کا وہ تاریخی خط جو انہوں نے بھٹو دورِ حکومت میں افواج پاکستان کے نام لکھا تھا‘ اور جس میں ان کو اپنے حلف کی پاس داری کی تلقین کی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ وہ حکومت وقت کے محض آئینی احکامات کی پیروی کی پابند ہیں، یہ بھی ''قومی پریس‘‘ ہی نے پمفلٹ کے طور پر چھاپا اور خفیہ ادارے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ میں ان دنوں ایئر مارشل کے ساتھ جیل میں تھا، لیکن مرحوم منیر قاضی نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے چھاپ ڈالا تھا کہ بہادروں کی صحبت بھی بہادر بنا دیتی ہے ؎
آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی
ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *