واک اینڈ ٹاک

tariq

پہلے ھم نے بنیان پہنی۔ اس کے اوپر تھرمل پہنا۔ تھرمل کے اوپر ٹی شرٹ ، ٹی شرٹ کے اوپر آدھے بازو کا سویٹر ، پھر ایک موٹا اونی جمپر ، اور اس جمپر کے اوپر لمبا کوٹ، کوٹ کا کالر گردن کے گرد ۔ ٹانگوں میں ایک تھرمل ، تھرمل کے اوپر گرم پاجامہ، پیروں میں ڈبل موذے، گلے میں مفلر ، آدھا مفلر چہرے پر ، کانوں تک سر پر اونی ٹوپی ، ھاتھوں میں اونی دستانے اور ان کے اوپر چمڑے کے دستانے اور یوں ھم اس یخ بستہ موسم میں واک کے لیے تیار ھو گئے۔ اس ساری تیاری میں ھماری بیوی ھماری ایسے مدد کر رھی تھی۔ جیسے کوئی بہادر راجپوت رانی اپنے راجپوت سورما کو جنگ پر بھیجنے کے لیے ھتیاروں سے مسلح کرتی ھے۔ ھماری خواہش تو تھی۔ ھماری بیوی ھمارے ماتھے پر تلک بھی لگا دیتی۔ لیکن یاد آیا۔ ھم کئی سو سال پہلے مسلمان ھو چکے ہیں ۔ ویسے جب شیشے میں اپنی ھیت کزائ دیکھی۔ تو ٹروجن ھیروز یاد آ گئے۔ جو ھیلن آف ٹراے کی تلاش میں نکلے تھے۔ اس مکمل تیاری کے بعد ھم واک کے لیے نکلے۔ کپڑوں کی بہتات کی وجہ سے ھمارا جسم اکڑا ھوا تھا۔ اور ھم اھرام مصر سے نکلی کوئی حنوط شدہ ممی لگ رھے تھے۔ ھمارا بیٹا نبیل ھمارے ساتھ تھا۔ جونہی ھم سڑک پر آے۔ ایک چھوٹی سی نیکر اور چھوٹی سی ٹی شرٹ میں ملبوس ایک گوری جاگنگ کرتی ھمارے پاس سے گزر گئ ۔ اس کے ساتھ اس کا پپی بھی بھاگ رھا تھا۔ ھم نے بھاگتی گوری کو عقب سے دیکھا اور ھمارے منہ سے ایک سرد آہ نکل گئ۔ ادھر اس پپی نے مڑ کر ھمیں دیکھا۔ اور اس کے منہ سے ایک ھلکی سی پخ نکلی۔ اور وہ وھیں رک کر ھمیں دیکھنے لگا۔ اس کے دیکھنے کا انداز خاصہ بدتمیز تھا۔ غالبا وہ بھی ھمیں کوئی حنوط شدہ ممی سمجھ رھا تھا۔ اور پھر اس نے اپنی نازک اور مہین آواز میں ھمیں باقاعدہ ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دی۔ جیسے اسے ھمارے سیاسی خیالات کے متعلق علم ھو گیا ھو۔ یا ھماری نیت کی خرابی کا پتہ چل گیا ھو۔ اس کی ڈانٹ ڈپٹ میں سر تال تھا۔ تین بار وہ ھلکی سی تال دیتا۔ پخ پخ پخ اور پھر لمبی سر کھینچتا ۔ پخ خ خ خ خ خ ۔ اور پھر خاموش ھو کر ھمیں گھورنے لگتا ۔ وہ کتا تھا۔ لیکن بقول پطرس صاحب بہت زیادہ کتا نہیں تھا۔ چھوٹا سا پیارا سا کتا، نازک سا معصوم سا کتا ۔ اس کے لمبے لمبے بال تھے۔ اور یہ بال تازہ تازہ شیمپو ھوے تھے۔ اتنی دیر میں اس کی مالکن گوری کو معلوم ھو چکا تھا۔ پپی پیچھے رہ گیا ھے۔ گوری نے پلٹ کر اسے انگریزی میں آواز دی۔ کم آن بوائے ۔ اور وہ بوائے اپنی میم ساب کے ساتھ پھر سے بھاگتا ھوا نکل گیا۔ ھم نے ایک اور سرد آہ بھری۔ یہاں کے کتے بھی انگریزی سمجھتے ھیں۔ اور شیمپو سے نہاتے ھیں ۔ نبیل سے پوچھا ۔ یار آج کچھ گرمی نہیں ھے۔ نبیل ھنسنے لگا۔ یہ گرمی کا احساس آپ کو ابھی ابھی ھوا ھے۔ اس نے شرارت سے پوچھا۔ ھم نے مسکرا کر کہا۔ وہ تمہیں اپنے گنجے والے بچوں کے ڈاکٹر انکل یاد ھیں۔ جو ایک بار ھم سے مانگ کر لے گئے تھے کنگی ۔ پھر نہ انہوں نے ھمیں دتی اور نہ ھم نے منگی ۔ انہوں نے ایک بار ھمیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ سردیوں کی ایک ایسی ھی رات ایک بچے کو اس کے والدین ھسپتال لاے تھے۔ جو مسلسل روے جا رھا تھا۔ اور سمجھ نہیں آ رھی تھی۔ وہ کیوں رو رھا ھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے دیکھ کر کہا تھا۔ اس کے کپڑے کچھ کم کر دیں۔ جونہی بچے کے کپڑے کم ھوے۔ اس نے رونا چھوڑ کر ھنسنا کھیلنا شروع کر دیا۔نبیل بھی ھماری بات سن کر ھنسنے لگا۔ اور کہنے لگا۔ لیکن اس وقت اس بات کا یہاں ذکر کرنا چہ معنی دارد ۔ یاد رھے ھم باتیں کرتے جا رھے تھے اور چلتے جا رھے تھے۔ واک ھمارے لیے ایک ڈبل سرگرمی ھوتی ھے۔ واک کی واک اور ٹاک کی ٹاک۔ اور ٹاک میں ھم ھر بات شیئر کر لیتے ھیں۔ چناچہ اس کا سوال سن کر ھم نے اپنے لہجے میں تھوڑی سی دانشورانہ گھمبیرتا پیدا کی۔ گلے کو کھنکھارا اور دونوں بازوؤں کو ھوا میں لہراتے ھوے جواب دیا۔ یہ جو ھمارے نظریات ھیں نہ ، اور یہ جو ھمارے عقیدے اور تصورات ھیں۔ اور یہ جو ھمارے توہمات ھیں اور ھمارے فکسڈ خیالات ھیں۔ یہ ھمارے لباس کی مانند ھیں۔ ھمارے کپڑوں کی مانند ھیں۔ اگر ھم کپڑوں کی مانند ان کو تہہ در تہہ اپنے اوپر چڑھا لیں۔ تو گرمی بھی لگتی ھے۔ آدمی اکڑ جاتا ھے۔ جیسے حنوط شدہ ممی ھو۔ راھ چلتے چھوٹے چھوٹے پپی ڈانٹے ھیں۔ چھیڑتے ھیں۔ مزہ لیتے ہیں ۔ اور جب آدمی کو کچھ سجھائی نہیں دیتا تو وہ بچوں کی طرح روتا ھے۔ بسورتا ھے۔ غصہ کرتا ھے۔ ھم ایشیائی لوگ پہلے ھی خون کے گرم ھیں۔ اوپر سے گرم مصالحے کھاتے ھیں۔ گرم موسم میں زندہ رھتے ھیں اور گرم تصورات کو پالتے ھیں۔ بہتر نہیں ھم ان لہر در لہروں کو کچھ کم کریں۔ آزادی اظہار کی ھو یا پیار کی ھو۔ اچھی ھے۔ لیکن اپنے توہمات اور اپنے فکسڈ خیالات سے آزادی اصل آزادی ھے۔ اپنے آپ کا ھی اسیر ھو جانا بد ترین غلامی ھے۔ اور یہی سب سے بڑا سچ ھے۔
ابھی ھم نے یہ سچ بیان ھی کیا تھا۔ کہ سامنے سے وھی گوری میم اور انگریزی سمجھنے والا اس کا ننھا منا کتا واپس آتے دکھائی دیے۔ ھمارے اوسان خطا ھو گئے۔ ھم تو آج تک کبھی اعتماد کے ساتھ میموں کا سامنا نہیں کر پاے اور کہاں آج ھمیں دوسری بار اس میم کے مسٹر بوائے کا سامنا کرنا پڑ رھا تھا۔ ھم نے ھکلاتے ھوے نبیل سے کہا ۔ اور ایک سچ یہ ھے جو سامنے سے بھاگتا ھوا آ رھا ھے۔ ھمیں شبہ ھے۔ یہ بدتمیز کتا ھماری ھیت کزائ کی وجہ سے ایک بار پھر ھماری ڈانٹ پھٹکار کرے گا۔ لیکن امید ھے۔ یہ گوری ایک بار پھر ھماری مدد کو آئے گی۔ ویسے ان گوریوں کو سردی کیوں نہیں لگتی۔ ھم نے کپکپاتے ھوے نبیل سے پوچھا۔ نبیل نے ھنستے ھوے جواب دیا۔ آپ بھی ان تہہ در تہہ کپڑوں کو کم کریں ۔ موسم اچھا لگنے لگے گا۔ ھم کافی دیر سوچتے رھے۔ نبیل نے کپڑوں کی بات کی تھی۔ یا ھمارے فکسڈ نظریات اور محدود تصورات کی بھرمار پر چوٹ کی تھی۔ آپ ھی کچھ بتائیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *