یہ بستی مسلمانوں کی بستی ہے ؟

Dr.abdul basit

کیا لکھا جائے، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ شاید کالم کا موضوع ہی غلط ہے۔ یہ نہیں پوچھنا چاہیے تھا کہ یہ بستی مسلمانوں کی بستی ہے؟ بلکہ سوال یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ ’’یہ بستی انسانوں کی بستی ہے ۔۔ ؟ ‘‘۔ کیونکہ مسلمان ہونا تو شاید بہت افضل مقام ہے، ہم تو انسان بھی نہیں۔ قصور کا واقعہ، آپ کو ، سب کو پتا ہے اس کے عوامل، اس کے محرکات، ایسے واقعات کے سدباب کے طریقے، سزائیں۔۔۔۔۔ سب کو سب پتا ہے۔ اس پر میں کچھ نہیں لکھنا چاہتا۔ پھر بھی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہاں! اس پر بات کرنی ہے۔ وجہ صرف ایک ہے کہ یہ معاشرہ عام آدمی کے زندہ رہنے کے قابل نہیں رہا۔ طاقت ، شہرت، دولت، زور زبردستی، سفارش، تعارف اور بدمعاشی کے بل بوتے پر آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم سب۔۔ یقین جانیے، مبالغہ آرائی نہیں۔۔ سچ کہہ رہا ہوں، ہم سب انہی چیزوں کا سہارا لے کر زندہ ہیں۔ اب ان میں سے آپ کے پاس کیا ہے اور کتنا ہے۔۔۔۔ آپ اتنے ہی معزز ہیں۔
رہی بات ریاست کی، قانون کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی، تو یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ میری باتیں ایک مایوس شخص کی باتیں ہیں تو چھوڑیں کالم۔۔۔ اپنے پچھلے 24 گھنٹوں کو سوچیں۔۔۔ آپ کا زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق ہے، پھر بتائیں سکول، ہسپتال، تھانہ، کچہری، ضلع افسران کے دفاتر، واپڈا دفاتر، کہیں پر بھی آپ بغیر کسی تعارف یا سفارش کے گئے ہیں؟ کبھی بھی نہیں؟ یہ بد ترین صورت حال اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاشرہ حیوانوں کا معاشرہ ہے۔ یہ افسروں کی فوج ظفر موج، یہ حکمران سب بے کار ہیں۔۔۔
معصوم بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی فورینزک رپورٹ پڑھ کر انسان سوچتا ہے کہ یار کوئی کتنا کمینہ ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے رپورٹ سمجھ آ گئی ہے کیونکہ ڈاکٹر ہوں۔ اتنی غلیظ، ذلیل، گھٹیا اور گندی حرکت ہے کہ انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ لیکن یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2015میں اسی شہر قصور میں ایک سکینڈل رپورٹ ہوا۔ 250 سے زائد بچوں کے ساتھ بدفعلی کر کے غیراخلاقی ویڈیوز تیار کی گئیں۔ جو ایک مکروہ کاروبار کا حصہ تھا۔ اور اب بھی مقامی میڈیا پچھلے دو تین مہینوں سے واقعات رپورٹ کر رہا ہے۔ پورے پنجاب کے اعداد و شمار دیکھیں۔ 2016 میں 2676کیس رپورٹ ہوئے۔ 2017 میں جنسی زیادتی کے 2700کیسز رپورٹ ہوئے۔ 27262 کیسز اغواء برائے بدفعلی رپورٹ ہوئے اور جو رپورٹ نہیں ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ اور یہ یاد رکھیں یہ کسی مغربی سازش یا بے راہ روی کا نتیجہ نہیں ہیں۔ قانون کا خوف وہ چیز ہے جو اس معاشرے سے اٹھ گیا ہے۔ ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ کسی پولیس والے کے پاس جائے گا اور اس سے اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی پر انصاف طلب کرے گا۔ اور یہ جو شعور ہے، بیداری ہے، جس کی لہر پچھلے ہفتے سے اٹھی ہے۔ یہ سب فراڈ ہے۔ آپ میری بات لکھ لیں دو ہفتوں بعد یہاں کوئی اور واقعہ آ جائے گا۔ کوئی دھرنا، کوئی احتجاج اس خبر کی جگہ لے لے گا۔ یہ حکمرانوں کی طرف سے نوٹس لینے کی خبریں سب مذاق ہیں۔ انہوں نے جو پچھلے نوٹس لیے ہوئے ہیں اگر کوئی صرف انہی کا حساب مانگنے لگ جائے تو پوری زندگی اس میں گزر جائے۔ یہاں انصاف بھی اسے ملتا ہے جو دولت مند ہے یا پھر اگر کسی غریب نے انصاف لینا ہے تو گزارش ہے کہ کسی وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے آ کر خود پر تیل چھڑک کر آگ لگائے۔ تب کہیں جا کر اس کی خبر میڈیا میں آئے گی ورنہ ہر طرف بے حسی ہے۔ ٹی وی پر ننھی زینب کی نماز جنازہ دیکھ رہا تھا۔ نماز کے بعد کسی نے کہا جلدی جنازہ اٹھائیں مجھے لگا زینب نے کہا ہے ’’ آؤ انسانیت کا جنازہ اٹھائیں‘‘۔
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
ذرا ملک کے رہبروں کو بلاؤ
یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کو لاؤ
ثناء خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *