"زینب "

7

کہا جاتا ہے کہ یہ انسان نامی مخلوق حیوان سے انسان بنی اور ہزاروں سال ارتقا کا عمل جاری رہا،
لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ آدم زاد نامی مخلوق کا ارتقائی عمل یہیں نہیں رکا جیسے یہ حیوان سے انسان بنی اب یہ دوبارہ انسان سے حیوان بنتی جا رہی ہے اور تشویش ناک بات یہ کہ معاشرہ اس حیوان کو قابو کرنے میں ناکام ہوتا جا رہا ہے،
یہ وہ انسان ہے جو اپنی ہی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے، زینب کے واقعے نے مرے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس کا مکمل ذمہ دار معاشرہ ہے اور فکری پستی، ہم نے اپنے بچوں کو اس قدر دبا کر رکھا کہ انہیں غلط اور صحیح میں فرق کرنا نہیں آیا
اور دوسری طرف ان حیوان صفت ذہنی مریضوں کو کھلے عام چھوڑ دیا اور یہ معاشرہ کسی جنگل سے ہزار گنا زیادہ غیر محفوظ بن گیا،
دکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے خود جس علم اور فکر کی بنیاد رکھی اسے خود تو ٹھکرا دیا اور اہلِ مغرب نے ہمارے ہی علوم اور فلسفہ کو آگے بڑھا کر سائنس کا نام دیا اور ہم نے اسے حرام قرار دے کر خود کو وحشت کے عالم میں لے گئے،
میں دکھ کا اظہار کروں تو کس سے کروں بے شک مری کیفیت بیان سے باہر ہے لیکن میں بجائے اس واقعے پر رونے دھونے کے آگے کے لیے سوچنا چاہتی ہوں کہ شاید ہم اس سے سیکھ کر سدھر جائیں اور اپنے بچوں اور اپنی نسل کو محفوظ زندگی فراہم کر سکیں لیکن ہم سیکھنے والوں میں سے نہیں۔

زندگی خاک میں ملی ہو گی
آسمان ٹوٹ کر گرا ہو گا
بے گناہ چیختی ہوئی معصوم
دکھ فرشتوں نے تو سنا ہو گا
ہم تو انساں نہیں درندے ہیں
ہم کو جنگل ہی راس آئے گا
ہم کو تہذیب کا فریب نہ دے
ہم دلاسوں کا کیا کریں آخر
ایک انصاف کی طلب ہے ہمیں
اک قیامت کے منتظر ہیں ہم
وہ قیامت کبھی تو آئے گی
تب ہی یہ قوم جاگ پائے گی
اب تو دامن میں دھجیاں بھی نہیں
اب تو آنگن میں پھول کلیاں نہیں
ایک امید کا سہارا ہے
اک دعا ہی تو بچ گئی ہے اب
بیٹیوں کے سروں پہ چادر ہو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *