ناپسندیدہ خیالات

m zia uddin

ڈی جی آئی ایس پی آر جس طرح سے سول قیادت کے ہر بیان پر بغیر وقت ضائع کیے رد عمل ظاہر کرتے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ وہ 30 دسمبر کو خرم دستگیر کے انٹرویو کے فوری بعد سخت رد عمل کے ساتھ سامنے آئیں گے لیکن حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے اس پر کوئی رد عمل دینے سے گریز کیا۔ یہ ایک بہت بڑا اور حیران کن واقعہ تھا کہ انہوں نے اس بڑے اہم انٹرویو پر رد عمل نہیں دیا جس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے خرم دستگیر کے اس انٹرویو میں کوئی چیز بھی قابل اعتراض محسوس نہیں کی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آئی ایس پی آر کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ افواج پاکستان وزیر دفاع کے بیانات پر متفق ہیں اور سول ملٹری تنازعات میں ایک واضح تلخی پائی جاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ پاکستان میں وزیر دفاع افواج پاکستان کا باس نہیں ہوتا اور اسے ہمیشہ مارجنلائز کر دیا جاتا ہے۔ آرمڈ فورسز کے سربراہ تمام معاملات براہ راست وزیر اعظم کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ سابقہ وزیر دفاع غوث علی شاہ نے بتایا تھا کہ وہ آفس میں صرف فائلز پر دستخط کرنے جاتے تھے۔ وزیر دفاع کے انٹرویو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پلڈاٹ کے ایک تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ اس سے واضح انٹرویو پچھلے کافی عرصہ سے کسی آفیشل نے نہیں دیا۔ پلڈاٹ آبزور نے مزید کہا: یہ بہت حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے اور وزیر دفاع حضرات اس پر کھل کر بات نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات میں نمایاں خلل آ جاتا ہے۔ کوئی بھی ملک اس طرح کے سول ملٹری تنازعات نہیں چاہتا خاص طور پر ایسے ممالک جن کے سپر پاور اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات تلخ ہو چکے ہوں۔ دستگیر کے انٹرویو کے چند اہم نکات پلڈاٹ نے یوں بیان کیے۔ 1۔ ہم یعنی ن لیگ نے یہ سیکھا ہے کہ صرف وزیر اعظم اور آرمی چیف کے شخصی
تعلقات کا مطلب اداروں کے اچھے تعلقات نہیں ہوتا۔ اچھے تعلقات ادارو ں کے بیچ ہونے چاہیے۔ 2۔ ہمیں حقائق میں سچائی ڈھونڈنا ہو گی جو یہ ہے کہ اگرچہ آئین کو ہم نے مقدس رکھا ہے لیکن حقائق اس بات کی نفی کرتے ہیں۔  3۔ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے ذریعے سول ملٹری تعلقات کو سب سے بہتر طریقے سے
بڑھایا جا سکتا ہے اور ہم اس این ایس سی کو بہت باقاعدگی سے استعمال کر ر ہے ہیں۔ 1۔ ن لیگ کے پارٹی لیڈر کو معلوم ہو گیا ہے کہ صرف الیکشن جیتنا کافی نہیں ہے جب تک عوام کے اقتدار کے حق کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا اس لیے ن لیگ اگلے الیکشن میں عوامی اقتدار کے منشور کو لے کر الیکشن لڑیں گے۔ * 2۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سول ملٹری تنازعات میں 'چھوٹے چھوٹے ایشو' سے کیا مراد ہے تو انہوں نے کہا کہ امریکہ کے حوالے سے تو دونوں ایک ہی پیج پر ہیں لیکن افغانستان کے معاملے میں کچھ تنازعات ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم بار بار افواج پاکستان سے یہ کلیرٹی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔  ایک طرف جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر دفاع خرم دستگیر کے بیان کو نظر انداز کیا تو دوسری طرف خواجہ سعد رفیق کےبیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ سعد رفیق نے کہا تھا کہ آرمی چیف کے ماتحت لوگ آرمی چیف کے جمہوری رویہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دینے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔*خواجہ سعد رفیق نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر کہا کہ جنرل باجوہ نے سینٹ میں آ کر ایک اچھی روایت ڈالی جس سے ملک میں جمہوری عمل کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کے جمہوری رویہ کو سراہا جانا چاہیے اور ہر کسی کو اس عمل کی حوصلہ افزائی کرنا چاہییے خاص طور پر ان لوگوں کو بھی جو چیف آف آرمی سٹاف کے ماتحت ہیں لیکن پھر بھی جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ اس کے جواب میں آئی ایس پی آر کا ٹویٹ آ گیا جس میں انہوں نے لکھا: ہم اس بیان کو بہت بڑا پریشان کن سمجھتے ہیں۔ وفاقی وزیر کا یہ بیان غیر دانستہ نہیں تھا اور یہ بے حد غیر ذمہ دارانہ اور بے معنی بیان ہے کیونکہ اس میں پاکستان آرمی کے کمان اور ماتحتی کے پورے نظام کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بیان کے ذریعے آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اگر اس طرح کا رویہ اپنایا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔  دوسری طرف آئی ایس پی آر نے سابق صدر مشرف کے ایک اہم بیان کو نظر اندا ز کیا جس میں سابق آرمی چیف جنرل مشرف نے اعتراف کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ میں کچھ انتہا پسند عناصر بے نظیر کے قتل میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ جب بی بی سی انٹرویو کے دوران انہیں پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ طالبان کے ساتھ بے نظیر قتل کیس میں ملی ہوئی تھی یا نہیں تو مشرف نے کہا کہ ممکن ہے ان کا رابطہ رہا ہو۔ کیونکہ ہمارا معاشرہ مذہبی لحاظ سے پولرائزڈ ہے۔  یہ کہتے ہوئے کہ ان کا اندازہ محض ایک تکہ ہے انہوں نے کہا:میرے پاس حقائق نہیں ہیں لیکن میرا یہ پکا اندازہ ہے کہ جس خاتون کو مغربی نظام میں زیادہ دلچسپی ہو اسے مذہبی لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مشرف کے اس اعتراف پر آئی ایس پی آر کی خاموشی معنی خیز ہے کیونکہ پاکستان میں عام طور پر اسٹیبلشمنٹ سے مراد فوج کو ہی لیا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *