سلی کون انجکشن کے نقصانات

12

ابو ظہبی۔ منسٹری آف ہیلتھ اینڈ پریوینشن نے محکمہ صحت کے تمام افسران کو ایک سرکولر کے ذریعے سلی کون انجکشن کے نقصانات اور خطرات سے خبردار کیا ہے۔ یہ انجکشن غلط طریقے سے ایف ڈی اے سے تصدیق شدہ قرار دے کر متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ ہفتہ کو جاری ہونے والی  اس وارننگ میں بتایا گیا ہے کہ یہ انجکشن جسم کے پچھلے حصے، چھاتی اور دوسرے جسمانی حصوں کا سائز کم کرنے کےلیے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن یہ کسی بھی قسم کے ناقابل تلافی نقصان اور بیماری پر منتج ہو سکتے ہیں۔

سرکولر

*سرکولر تمام میڈیکل ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز، پبلک اور پرائیویٹ ہسپتالوں، ڈاکٹروں ، فارمیسسٹ، فارمیسی ڈائیریکٹرز اور دوسرے شعبہ صحت سے جڑے تمام   فراد کو بھیجا گیا   اور انہیں حفظان صحت کے اصولوں سے روشناس کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایف ڈی اے نے اس سرکولر میں یہ واضح کیا تھا کہ صرف وہی سلی کون انجکشن استعمال کیا جائے جو محکمہ صحت کی طرف سے تصدیق شدہ ہو اوراس میں کم سے کم رسک اور خطرات ہوں۔  ڈاکٹر امین حسین الامیری  نے بتایا کہ 2008 سے یو اے ای نے میڈیکل سروسز اور سلی کون انجکشن کے حوالے سے دنیا بھر کے بڑے ممالک کی طرف بہت سخت  پالیسی اور نپے تلے اصول وضع کر رکھے ہیں۔  انہوں نے کہا یہ عمل قانونی فریم ورک کے لیے ایک بہترین حکمت عملی تیار کرنے کا حصہ ہے  تا کہ گڈ گورننس اور ریگولیٹری سروس کو معیار کے حوالے سے بہترین بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پراسس صرف مارکیٹنگ تک محدود نہیں ہے  اور اس کے معیار کو جاننے کےلیے کچھ اہم ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں تا کہ اس کی کوالٹی کا معیار پرکھا جا سکے ۔

صحت کے معیار کو کیسے برقرار رکھا جائے

*ڈاکٹر امیری کا کہنا تھا کہ ہیلتھ منسٹری کی طرف سے ایک گائیڈ جاری کی گئی ہے جس میں حفظان صحت کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس گائیڈ میں میڈیکل پراڈکٹس کی مارکیٹنگ کے اخلاقی اور فارماسوٹیکل سٹینڈرڈ طے کر دیئے گئے ہیں تا کہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جئے جس میں لوگ اپنی صحت کے معیار کو دیکھتے ہوئے کسی بھی تھیراپی کا انتخاب کریں۔ اس گائیڈ کے اندر لائسنسنگ، کارڈ اپروول، اور ہر قسم کی معلومات اکٹھی کر دی گئی ہیں جس میں مارکیٹنگ اور استعمال کے تمام اصول واضح طور پر درج ہیں۔

رسک

*سلی کون انجکشن کا استعمال کرنے سے پہلے اس سے پیدا ہونے والے رسک سے واقفیت لازمی ہے۔ انجکشن والی  سوئی اگر استعمال شدہ ہو تو یہ انسان کے جسم میں کسی بھی قسم کا انفکشن پیدا کر سکتی ہے۔ آنکھ کے قریب انجکشن لگانے سے آنکھ کی بھوؤن کے بال گرنا اور خون نکلنا بھی ممکن ہے ۔ انجکشن سے اعصاب بے کار ہو سکتے ہیں اور  سلی کون کئی اعصاب کو مفلوج بھی کر سکتا ہے۔ سانس اور ہائپر سینسٹیوٹی جیسے مسائل بھی واقع ہو سکتے ہیں۔ بلڈ پریشر کا کم ہو جانا بھی خطرات میں شامل ہے۔

ریسرچ اور حقائق

*ریسرچ کے مطابق جس مین سلی کون کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت  موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ انجکشن بے اثر یا کم اثر دار ثابت ہو سکتا ہے۔ مریض کی آنکھوں پر جو بال موجود ہوتے ہیں وہ تیزی سے گر سکتے ہیں خاص طور پر اس صورت میں جب حد سے زیادہ سلی کون کا استعمال کیا جائے یا غلط جگہ پر انجکشن لگا دیا جائے۔ غلط انجکشن لگنے کی صورت میں چہرے کا بگڑنا، منہ سے تھوک نکلنا  اور اس طرح کے مسائل پیش آ سکتے ہیں۔ گردن میں انجکشن لگانے کی صورت میں سانس کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نتیجتا مریض ڈپریشن، تنہائی  اور دوسرے نفسیاتی  مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

ایف ڈی اے وارننگ

*ڈاکٹر الامیری نے بتاایا کہ ایف ڈی اے نے کسٹومر اور ہیلتھ کئیر ورکرز کو وارن کیا ہے کہ سلی کون انجکشن جس جسم میں ناقابل یقین تبدیلیاں اور نقصان دہ
بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ ایف ڈی اے نے تصدیق کی کہ غیر محفوظ سلی کون انجکشن کے بارے میں محکمہ بہت پریشان ہے کیونکہ اس سے انسانی جسم پر خطرناک اثرات واقع ہو سکتے ہیں اور ناقابل علاج بیماریاں لگ سکتی ہیں۔ ایف ڈی اے نے اسی لیے خود آگے بڑھ کر اس طرح کے انجکشن استعمال کرنے اور تجویز کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان  انجکشن کو ایف ڈی اے  نے بہت احتیاط سے مونیٹر کیا ہے اور ان کے بڑھتے ہوئے رسک کی وجہ سے ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا ہے  کیونکہ ان انجکشن کی وجہ سے خواتین کے جسم میں کینسر پیدا کرنے والے بلڈ سیلز پیدا ہو جاتے ہیں  اور دوسرے کئی خطرات بھی پیش آ سکتے ہیں۔

سپرویژن

*سرکاری اہلکار نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ  غلط اور جعلی اشتہاروں پر توجہ نہ دیں  خاص طور پر ایسے اشتہارات کو نظر انداز کریں جن میں کاسمیٹکس انجکشنز کو پروموٹ کیا جا رہا ہے ۔ صرف ایسے اشتہارات کو اہمیت دیں جو وزارت صحت کی طرف سے تصدیق شدہ ہوں۔ اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ اشتہارات میں جو وعدے اور امیدیں دلائی جاتی ہیں وہ حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہیں  اور ان کا میڈیکل حقائق سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاسمیٹکس آپریشن بہترین ڈاکٹر، سپیشلسٹ اور سرجن لوگوں کی نگرانی میں ہونا چاہیے نہ کہ بیوٹی سینٹر میں بیوٹی سٹاف کی موجودگی میں۔ میڈیکل پروفیشنل کا اس آپریشن میں شامل ہونا بہت ضروری ہے۔

انسپیکشن

*وزارت صحت نے کچھ تجویز کردہ انسکپشن مہم کے ذریعے بیوٹی سینٹرز کا معائنہ کرنے پر بھی زور دیا۔ ڈاکٹر الامیرینے بتایا کہ منسٹری کی طرف سے تعینات شدہ انسپیکٹرز ہر ہفتے ھیلتھ سیکٹر میں مضر صحت کام اور ادویات کا معائنہ کر رہے ہیں خاص طور پر بیوٹی سینٹرز پر خاص توجہ دی جا رہی ہے  تا کہ سلی کون انجکشن، بوٹوکس، فلرز وغیرہ کے استعمال کو روکا اجا سکے۔  انہوں نے کہا کہ وزارت کسی بھی قسم کی کوتاہی  اور خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی کیونکہ یہ وزارت محکمہ صحت میں بہترین کارکردگی یقینی بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

ایمر جنسی کیسز جو کاسمیٹکس انجکشن کے ذریعے پیش آ سکتے ہیں

*اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری نے تصدیق کی کہ بہت سے ہسپتالوں میں ان غیر قانونی ادویات کی وجہ سے ایمرجنسی کیسز آ رہے ہیں جن کی بنیادی وجہ کاسمیٹیکس انجکشن ہیں جن میں خطرناک قسم کے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ یہ انجکشن دل کی بیماری کے مریضوں کےلیے زیادہ خطرناک اور تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیکل سے متعلقہ اہلکار صرف لائسنس شدہ ادویات اور انجکشن تجویز کریں جن سے مریض کی صحت پر بے اثرات نہ پڑیں۔  انہوں نے اس باتپر بھی زور دیا کہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی ادویات کو فورا  وزارت صحت کو رپورٹ کیے جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *