ناصر الملک مسجد سے حافظ کے مقبرہ تک شیراز شہر میں دیکھے جانے کے قابل جگہیں

1

بلاگر سیٹو ہانچ ہمیں ایران کے شہر شیراز کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ شیراز کے دورے پر انہوں نے وکیل مسجد، قلعہ کریم خان، ناصر الملک مسجد، مقبرہ حافظ، اور یونیسکو ورلڈ ہریٹیج سائٹ پرسی پولی کا نظارہ کیا۔  شیراز ایران کے پانچ بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ اس شہر کے تاریخی اولڈ ٹاون میں وکیل مسجد اور وکیل بازار موجود ہیں۔ وکیل مسجد 1751 سے 1773 کے بیچ کے عرصہ میں تعمیر کی گئی جب زینڈ اس ملک کے سربراہ تھے۔ کریم خان زینڈ کے دور میں شیراز ایران کا دارالحکومت 1762 میں بنایا گیا۔ شاہی محلہ تعمیر کرنے کےلیے 12 ہزار سے زائد مزدوروں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ خریم خان نے شاندار اور بہترین آرٹسٹوں کی خدمات حاصل کر کے کریم خان قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ اس قلعہ کی تعمیر میں صرف ایک سال کا عرصہ لگا۔ اس کی تعمیر کے بعد خریم خان نے اسے اپنی رہائش گاہ بھی بنائے رکھا۔ شیراز میں ایک ایسی جگہ ہے جسے دیکھنے کے لیے صبح سویرے اٹھنا پڑتا ہے۔ یہ جگہ ناصر الملک مسجد ہے۔ اسے پنک مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اس کے اندرون میں بہت سی پنک ٹائلز بھی شامل کی گئی ہیں۔  یہ 1800ء میں قاجر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ سب سے بہترین وقت اس جگہ کو ویزٹ کرنے کا صبح سویرے کا ہے کیونکہ اس وقت اس کے تمام کھڑکیوں پر سورج کی روشنی پڑ رہی ہوتی ہے۔  حافظ کے مقبرہ پر نہیں گئے تو سمجھو آپ نے شیراز شہر دیکھا ہی نہیں۔ حافظ ایک بہت بڑے فارسی شاعر تھے۔ بہت سے یورپین شاعر جن میں گوتھے شامل ہیں اس عظیم شا عر کے زیر اثر تھے۔ شیراز سے ایک گھںٹے کی ڈرائیو پر ایکران کی سب سے بڑی اور اہم یونیسکو ورلڈ ہریٹیج سائٹ ہے جسے پرسی پولیس کا نام دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے پارسیوں کا شہر۔ 550 سے 330 قبل مسیح تک یہ ایران کا داراحکومت ہوا کرتا تھا اور پھر الیگزیںڈر دی گریٹ نے اسے تباہ کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ الیگزینڈر نے اسے آگ لگا کر تباہ کیا تھا کیونکہ وہ ایرانیوں کی طرف سے ایتھنز میں اکروپولس کو تباہ کیے جانے کا انتقام لینا چاہتا تھا۔  آپ شیراز کے کسی بھی ریسٹورینٹ مین جائیں وہاں آپ کو بہت سےٹراڈیشنل ایرانی
ذائقے دار کھانے ملیں گے جن میں مرزا غسیمی، کوکو سبزی بہت مشہور ہیں۔ مرزا غسیمی میں آگ پر بھنا ہوا ایگ پلانٹ، مولی، ٹماٹر اور ہری مرچ شامل ہوتی ہے۔ کوکو سبزی ایک ایرانی سبزی ہے جو میں جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہیں اور بیچ میں انڈے اور اخروٹ بھی ڈالے جاتے ہیں۔ دونوں ڈشیں روٹی کےساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔

courtesy : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *