’’آزردگی ‘‘کے ہاتھوں سر ہے وبالِ دوش

nasir malik

انسانیت پر ظلم اور اذیت دہی کی تاریخ جب بھی مرتب ہو گی اس میں خراٹوں کے ذریعے لوگوں کو تنگ کرنے والوں کا نام ضرور شامل ہو گا ۔جن لوگوں کو ان حضرات سے واسطہ نہیں پڑا وہ شاید اس بات کو اتنا سنجیدگی سے نہ لیں لیکن حقیقت بہرطور یہی ہے کہ اس عالمِ آب و گِل میں انسانوں کا سکون برباد کرنے والوں کی فہرست ان خراٹے لینے والوں کے نام کے بغیر نامکمل رہے گی۔چنگیز خان اور ہلاکو خان نے لوگوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے۔۔ انسانی سروں کے مینار کھڑے کئے اور انسانوں کا آرام و سکون تباہ کر دیا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ خراٹے لینے والے حضرات نے بھی ہر دور میں دوسرے انسانوں کا چین اور سکون برباد کیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ انہیں اس کے لیے سروں کے مینار بھی کھڑے نہیں کرنے پڑے۔
ادھر اپنی کیفیت یہ ہے کہ خراٹوں کی آواز سے سخت چِڑ ہے۔ایسی آواز کی بھنک کہیں دوسرے محلے میں بھی پڑ جائے تو اپنی نیند فوراً اُڑن چھو ہو جاتی ہے لیکن بچاؤ کی ہزار کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں ایسے مہربانوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ ایک افریقی ملک کو جاتے ہوئے میرے ساتھ یوگنڈا کا ایک کالا بیٹھا ہوا تھا۔ یہ صاحب تین گھنٹے کی فلائیٹ میں کوئی ساڑھے تین گھنٹے سوئے رہے اور اتنی دیر ہی خراٹے لیتے رہے ۔ خراٹوں کے دوران اچانک اُن کی آواز اتنی بلند اور خوفناک ہو جاتی کہ میں ڈر کے سیٹ بیلٹ باندھ لیتا۔ دورانِ پرواز میں نے ایئر ہوسٹس سے درخواست کی کہ مجھے کوئی اور سیٹ دے دیں یا پھر میرے لیے ایمرجنسی گیٹ کھول دیں ۔
کچھ دن پہلے ایک دوردراز کے شہر میں ایک شادی پہ جانے کا اتفاق ہوا ۔ ولیمہ ختم ہوا تو اجازت چاہی لیکن میزبان کہنے لگے کہ رات کافی ہو گئی ہے آپ ادھر ہی آرام کر لیجئے صبح چلے جایئے گا ۔ مشورہ اچھا تھا چنانچہ رات اُدھر ہی رکنے کا فیصلہ کر لیا۔جلد ہی ہمیں گھر کے بالائی حصے میں ایک کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔ میزبان کے ایک بزرگ رشتہ دار بھی وہاں براجمان تھے ۔ ہم دونوں کا رات اسی کمرے میں قیام تھا۔ تھوڑی دیر میں بزرگ بیڈ پرلیٹتے ہوئے فرمانے لگے، ’’ بیٹا ! مجھے تو رات میں نیند کم ہی پڑتی ہے بس ایک آدھ گھڑی ہی آنکھ لگتی ہے۔ آپ آرام کیجئے میں تو ابھی جاگوں گا ‘‘۔ اس پر میرے دل میں اُن کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی لیکن میں ابھی لیٹنے کے لیے پر تول رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ بزرگ سو چُکے ہیں۔ اور ساتھ ہی اُن کے خراٹے بھی شروع ہو چُکے تھے۔

Image result for snoring man

یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ میں حیران رہ گیا۔یعنی وہ لیٹنے سے پہلے سو گئے اور سونے سے پہلے خراٹے لینے لگے تھے۔ اور یہ کوئی معمولی سے خراٹے نہیں تھے۔ ۔ بہت زوردار اور دھماکہ خیز !! میں نے محسوس کیا کہ اپنے تسلسل اور طنطنے کے اعتبار سے یہ اپنی نوعیت کے بالکل عجیب خراٹے تھے۔ ان کی آوازواثرات نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ ان کی ’گھن گرج ‘ اور ’ گڑگڑاہٹ ‘ سے بیڈ سمیت کمرے کا تمام فرنیچر لرزاہٹ کا شکار تھا۔ ایسے طوفانی ماحول میں نیند کی خواہش تو عبث تھی۔ چنانچہ میں نے بیڈ چھوڑ دیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔یہاں پر قیام کے فیصلے پر میں اپنے آپ کو بہت بُری طرح کوس رہا تھا۔ ساتھ ساتھ میں پوری یکسوئی اور انہماک سے بابا جی کی ان مساعی جمیلہ کا جائزہ لے رہا تھا جو وہ ان خراٹو ں کے لیے بروئے کار لا رہے تھے ۔ مجھے خراٹوں کی دھن دھناہٹ ’’آمد‘‘ کی بجائے ’’ آوُر د‘‘ کا شاخسانہ لگ رہی تھی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے محترم خود باقاعدہ ’’ بوکی ‘‘ ڈالتے ہیں اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے اور کیسے کیسے خراٹے کھینچ کر برامد کر رہے ہیں ۔ پورا کمرا خوفناک بھونچال کی زد میں تھا اور بھونچال کا مرکز میر ے سامنے تھا۔ میں سخت حیران تھا کہ ایک اتنا ضعیف نحیف انسان اس قدر وحشت ناک آوازوں کے ساتھ خراٹے لے سکتا ہے ۔میں نے ایک دو دفعہ کانوں میں انگلیاں دے کر آواز بند کرنے کی کوشش کی لیکن بے سُود !! اُس رات ہی مجھے اس شعر سمیت ایسے کئی اشعار کی ’ شانِ نزول ‘ بھی سمجھ آ رہی تھی :
تاروں کا گو شمار میں آنا محال ہے لیکن کسی کو نیند نہ آئے تو کیا کرے
اب میری آزردگی باقاعدہ غصے میں بدل رہی تھی ۔ ۔میں ذاتی طور پر ایک شریف النفس انسان ہوں ۔ قتلِ عمد وغیرہ کو صریحاً ایک قبیح فعل سمجھتا ہوں لیکن اُس رات مجھے اندازا ہوا کہ کہ قتل شاید اتنا بھی قبیح فعل نہیں ہوتا ۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو یہ ایک آسودگی بھرا خوشگوار سا عمل لگنے لگتا ہے ۔ میرے ذہن میں عجیب بے ہودہ خیالات آ رہے تھے لیکن پھر اگلے ہی لمحے میں نے تمام واہیات خیال ذہن سے نکال دئیے البتہ بابا جی کے لیے شدید خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ وہ خود ہی کسی طرح ’’ خاموش ‘‘ ہو جائیں ۔۔ یعنی ’’ اُن پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن ’’ جائے ‘‘ نہ بنے ‘‘ ۔۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ، ’’ ’ وصالِ ‘ یا ر فقط آرزو کی بات نہیں ‘‘ ۔ لہذا کچھ بھی نہ ہوا اور رات آنکھوں میں بلکہ کانٹوں پر گزر گئی ۔
صبح بزرگ بیدار ہوئے تو اُٹھتے ساتھ ہی فرمانے لگے ، ’’ برخوردار ! مجھے تو رات ایک لمحہ بھی نیند نہیں آئی ۔۔ پتہ نہیں نئی جگہ تھی یا کیا وجہ تھی بالکل سو نہیں سکا ۔۔ لیکن خوشی یہ ہے کہ آپ خوب گھوڑے بیچ کے سوتے ہیں۔ ‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ایک قہقہہ لگایا ۔ یہ صریحاً زخموں پر نمک پاشی تھی۔ میں سکتے میں تھا ۔ بابا جی نے بات جاری رکھی ،کہنے لگے کہ بیگم کے انتقال کے بعد اُن کی نیند ڈسٹرب ہی رہی ہے ۔ مرحومہ اُ ن کی نیند بھی ساتھ لے گئی ہے ۔ پھر وہ بیگم کی بے حد تعریف کرتے ہوئے اُن کی خوبیاں گنوانے لگے ۔ کہنے لگے ، ’’ مرحومہ سراپا خوبی تھیں بس صرف ایک مسئلہ تھا ‘‘ عرض کیا ، ’’ وہ کیا ‘‘ْ فرمانے لگے ، ’’ بہشتن سوتے میں خراٹے بہت لیتیں تھیں ‘‘۔
صبح ہوئی تو میزبان تشریف لائے ۔ ہم دونوں سے پوچھا کہ رات ٹھیک گزر گئی ۔ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا۔ بابا جی نے پھر وہی اپنی شب بیداری اور میرے گھوڑوں کا ذکر کیا۔ میزبان میری طرف پلٹے تو میں صرف یہ عرض کرسکا :
آخرِ شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا آیا

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *