ٹرمپ اورضیاالحق

1

قاسم رشید

ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف ٹویٹس نے مجھے ماضی کی یاد دلا دی ہے۔ یہ ایک دور تھا جب ہم پاکستان میں تھے اور ایک خاص طبقہ کو غیر مسلم قرار دے کر ایک ملک کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا گیا تھا۔ میں پاکستان میں پیدا ہوا تھا۔ امریکہ کی طرح پاکستان کا قیام بھی ایک جمہوری ریاست کے طور پر عمل میں آیا جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ہر قسم کی آزادی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن 1987 میں یعنی قیام پاکستان کے صرف چالیس سال بعد میرے خاندان کو مذہبی آزادی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا اور ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔  اس وقت ہوا کیا تھا؟  پاکستانی صدر ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کی تھی۔ حکومت میں آتے ہی انہوں نے احمدی مسلمانوں کے خلاف کچھ قوانین پاس کیے جن کے مطابق احمدیہ طبقہ کو جرمانے، گرفتاریاں اور سزائے موت کی سزا ان احمدی لوگون کےلیے تجویز کی گئی جو اسلامی رسم و رواج کو اپنائیں۔ ضیا نے میڈیا کو یہ دکھانے پر مجبور کیا کہ احمدی پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہمارے سکول اور مساجد بند کرنے کے باوجوس اس کا دعوی تھا کہ احمدی ایک کینسر ہیں جو ملک میں غلط تعلیمات پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور صدارت میں مذہبی انتہا پسند طبقہ کو مضبوط کیا اور مذہب کو ریاست کے معاملات سے جوڑ دیا۔ ہمارے لیے ممکن نہ تھا کہ وہیں
رہ کر دیکھتے رہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے اس لیے ہم ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے۔  اب 2017 کا سال ہے اور میں یہاں ہیومن رائٹ کا اٹارنی ہوں اور ایک امریکی مسلمان شہری کی پہچان رکھتا ہوں۔ میں یہاں بھی وہی حالات دیکھ رہا ہوں۔ صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران ٹرمپ نے مسلمانوں کے علیحدہ شناختی کارڈ بنانے اور مساجد ڈھانے کی تجاویز پیش کیں اور دعوی کیا کہ اسلام کو امریکہ سے سخت نفرت ہے۔ صدر بنتے ہیں انہوں نے کچھ اسلامی ممالک کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ انہوں نے بھی رائٹ ونگ کو مضبوط کیا، فاشسٹوں کو طاقت دی، میڈیا کو دبانے کی کوشش کی اور مذہب کو ریاستی معاملات میں اہمیت دینے کا عمل شروع کیا۔  ہر نئے ٹویٹ کے ساتھ ٹرمپ ایک نئی شناخت حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ دن قبل امریکی
صدر نے جعلی اینٹی مسلم ویڈیوز ری ٹویٹ کیں۔ بات صرف مسلمانوں کے خلاف ٹویٹ کرنے ، مسلمانوں کو بیگانے قرار دینے اور نیو فاشسٹ نظریات کی پروموشن تک محدود نہیں ہے۔ ٹرمپ امریکہ کو پستی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ اس کی مثال میرا ملک پاکستان ہے جہاں ایک خاص مذہبی سوچ رکھنے والے طبقہ کو طاقت ور بنایا گیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ جب ہم پاکستان سے امریکہ منتقل ہوئے اس کے کچھ عرصہ بعد ضیا ایک طیارہ حادثہ
میں جاں بحق ہو گئے۔ لیکن وہ اپنا کردار ادا کر چکے تھے۔ ضیا نے اتنے لوگون کو ریڈیکلائز کر لیا تھا کہ ان کے جانے کے بعد ان کی وراثت باقی رہ سکتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد احمدی طبقہ پر مظالم میں اضافہ ہوا۔ انہیں ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا، نوکریوں سے بھی محروم کیا گیا اور انہیں اسلامی طریقے سے دوسروں سے ملنے سے بھی روکا گیا۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر انہیں جرمانے اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔  شدت پسندی کے نظریات جو ضیا نے پروان چڑھائے اس کے نقصانات ہر پاکستانی شہری کو برداشت کرنا پڑے۔ 1987 سے اب تک 70000 سے زیادہ پاکستانی اپنی جانیں دہشت
گردوں کے ہاتھوں قربان کر چکے ہیں۔ قومی شرح خواندگی محض 54 اعشاریہ 9 فیصد تک پہنچ گئی اور القاعدہ، طالبان اور داعش کے لیے معصوم پاکستانیوں کو ورغلا کر اپنے گروپ میں شامل کرنا آسان ہو گیا۔  ضیا کی مذہبی طبقہ کی پشت پناہی کی وجہ سے ملک میں بے شمار غیر جسٹرڈ شدہ
مدارس قائم ہو گئے جن میں بہت سے بچوں کو جنسی تشدد اور زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔  جس طرح ضیا الحق نے رائٹ ونگ مسلم انتہا پسندی کی مذمت کرنے سے انکار کیا تھا اسی طرح صدر ٹرمپ بھی سفید فارم لوگوں کی انتہا پسندی کی مذمت کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 2012 کے بعد سفید فارم لوگوں کی شدت پسندی میں 600 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس رویہ میں انہوں نے داعش کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جس طرح پاکستانی میڈیا احمدی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف خاموش رہا اسی طرح امریکی میڈیا بھی غیر مسلم افراد کی دہشت گردی کی وارداتوں کے خلاف خاموشی اختیار کیے رکھتا ہے جب کہ مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات میں 5 گناہ زیادہ شدت کے ساتھ رپورٹنگ کی جاتی ہے۔ اس طرح میڈیا رائٹ ونگ طبقہ کی طرف سے شدت پسندی کے رجحانات کو نظر انداز کرتا آ رہا ہے۔ 2016 میں صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران 24 کے قریب مباحثوں میں ایک بار بھی
کسی صحافی نے ری پبلکن یا ڈیموکریٹ امیدوار سے وائٹ سپریمییسی ٹیررازم کے بارے میں سوال نہیں کیا لیکن ہر مباحثہ میں ریڈیکل اسلام کو لازما زیر بحث لایا گیا۔ اگرچہ امریکی پولیس کے شعبہ اور ملٹری نے وائٹ سپریمیسی ٹیررازم میں اضافے کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ وائٹ سپریمیسی ٹیررازم امریکہ کےلیے داعش سے بھی بڑا خطرہ ہے اس کے باوجود سیاستدانوں اور میڈیا کا رویہ بدلا نہیں ہے۔  امریکہ میں 2016 میں نفرت انگیز جرائم میں پھچلے پانچ سال کے مقابلے میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھا گیا جب کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں پچھلے 15 سال کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہوا۔ اکتوبر میں چار سفید فارم دہشت گردوں کو دھماکہ خیز مواد کی ترسیل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ نیو نازی طبقہ کی طرف سے ایک مارچ بھی دیکھنے کو ملا اور ٹینیسی میں بھی ایسے ہی مظاہرے کیے گئے۔ گینسول میں ایک شوٹنگ کے دوران ایک مشتبہ فرد نے ۔ہیل ہٹلر۔ کا نعرہ بھی
لگایا۔  کچھ عرصہ قبل مرزا مسرور احمد جو خلیفہ اسلام اور احمدیہ مسلم کمیونٹی کے سربراہ ہیں نے ملک کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: اگر ہم واقعی امن چاہتے ہیں تو پھر ہمیں انصاف کرنا ہو گا۔ پیغمبر اسلام محمد مصطفی **ﷺ نے فرمایا: ہمیں دوسروںکےلیے وہی پسند کرنا چاہیے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ ہمیں دوسروںکے حقوق کےلیے اسی جذبہ سے لڑنا چاہیے جس جربہ سےہم اپنے حقوق کےلیے جدو جہد کرتے ہیں۔  پاکستانیوں نے اس سبق کو بھلا دیا۔ میرے ساتھی امریکی شہری اب بھی اس کو گلے لگا لیں گے بشرطیکہ ہم ان کے ساتھ مل کر شدت پسندی کے خلاف لڑنے کا عزم کر
لیں۔ 30 سال قبل میرے والدین مجھے میرے بہن بھائیوں سمیت امریکہ لائے تھے تا کہ مذہبی آزادی سےمستفید ہو سکیں۔ ہمیں وہ آزادی ملی اور ہم اسے آسانی سے قربان نہیں کریں گے۔ بات صرف اینٹی مسلم ٹویٹ تک محدود نہیں ہے۔ یہ بات اس راستے کی ہے جو امریکہ مستقبل کےلیے اختیار کرنا چاہتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *