ابن عربی، رومی اور ہمارا ہیرو

yasir pirzada

میں اکثر فلسفے میں منہ مارتا رہتا ہوں، کبھی کبھار دوستوں سے مختلف فلسفیانہ گتھیوں پر بحث بھی ہو جاتی ہے، ایسی بحث کے دوران اگر کسی مرحلے پر مجھے کوئی حوالہ یاد نہ آئے تو میں نہایت اطمینان سے ابن عربی کا نام لے کر کہتا ہوں کہ ’’شیخ نے فصوص الحکم میں اِس سے بالکل برعکس بات کی تھی‘‘۔ اس کے بعد سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگتے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا بیان ہے جو آ پ بلاخوف تردید کسی بھی وقت جاری کرسکتے ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ شیخ ابن عربی کی تعلیمات اس قدر گمبھیر، دقیق اور پر پیچ ہیں کہ اچھے خاصے فلسفی انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کس کی مجال ہے جو یہ کہہ سکے کہ اُس نے فصوص الحکم اور فتوحات المکیہ پڑھ رکھی ہیں اور سمجھ لی ہیں! ان کتابوں کا ڈسا ہوا پانی بھی نہیں مانگتا، عہد حاضر کا کوئی فلسفی اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ابن عربی کو سمجھتا ہے تو سمجھئے کہ اِس میں پچاس فیصد جھوٹ کی آمیزش اور باقی مبالغہ ہے۔ ابن عربی وحدت الوجود کے فلسفے کے خالق کے طور پر مانے جاتے ہیں، آپ کے زمانے میں اسپین میں فلاسفہ کا ایک گروہ تھا جو اس فلسفے کا پہلے سے قائل تھا، یہ لوگ مگر اپنے نظریات کا اظہار مختلف تشبیہات اور استعاروں کی مدد سے کرتے تھے، ایک طریقہ اس کا یہ تھا کہ عشق حقیقی کو عشق مجازی کا لبادہ اوڑھا دیتے تھے۔ ابن عربی نے اپنے نظریات کے پرچار میں بھی یہی اسلوب اپنایا، آپ خود لکھتے ہیں کہ جب وہ قرطبہ میں تھے تو فاطمہ نامی خاتون سے اُن کی قربت ایک عرصے تک رہی۔ اس کے بعد جب وہ مکے میں رہے تو وہاں مسکین الدین نامی ایک عالم سے حدیث پڑھی، ان عالم کی بیٹی عین الشمس نظام نہایت خوبصورت تھی جس پر ابن عربی مر مٹے۔ ’’چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے اکثر مکاشفات کا روحانی جذبہ اسی کے عشق کا رہین منت ہے۔‘‘ (حوالہ، تصوف کی حقیقت از غلام احمد پرویز، صفحہ 79)۔ ابن عربی کی خصوصیت تھی کہ وہ حروف اور اعداد کا علم رکھتے تھے، خوابوں کی تعبیر سے متعلق انہوں نے فتوحات المکیہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے جو ظاہر ہے کہ میں نے پڑھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور انسان کے مقدر کے بارے میں وہ عقیدہ جبر کے قائل ہیں، ان کے نظریہ وحدت الوجود کے تحت جب انسان کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں تو اسے اپنے کسی فعل کا ذمہ دار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
ابن عربی کے پیچیدہ اور مشکل فلسفے کو جس شخص نے شاعرانہ رنگ میں ڈھالا اُن کا نام مولانا روم تھا۔ ابن عربی کا فلسفہ اس سے پہلے صرف خواص تک محدود تھا، رومی نے اسے ایسے جاندار، پرتاثیر اور خوبصورت انداز میں پیش کیا کہ زبان زدعام ہو گیا۔ ’’ان کی سحر آفرینی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ انہوں نے ابن عربی کی ہمنوائی میں نظریہ وحدت الوجود پیش کیا اور نہایت شدومد سے پیش کیا لیکن اقبال جیسا مفکر، ابن عربی کو تو الحاد و زندقہ کا علمبردار قرار دیتا ہے لیکن رومی کو اپنا مرشد تسلیم کرتا ہے۔‘‘ (حوالہ، پرویز، صفحہ 82)۔ ابن عربی کی طرح مولانا روم بھی ایک ناقابل بیان شخصیت کے مالک تھے، بلا کے ذہین، سپر جینئس، علم و عرفان کا سمندر، قرون وسطیٰ کے مسلمانوں میں اگر پہلے دس ذہین ترین افراد کی فہرست بنائی جائے تو لامحالہ یہ دونوں اصحاب اس میں نظر آئیں گے۔ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر اور پھر وہاں سے تصوف کی منازل طے کر کے وحدت الوجود کا نظریہ پیش کرنا۔۔۔ یہ ایسے دقیق مسائل ہیں کہ جن کے بارے میں رائے دینا میرا مقام ہے نہ مرتبہ۔ میں ابن عربی اور رومی کے عشق کے بارے میں کیا جانوں۔ رومی اگر شمس تبریز کے عاشق تھے تو خدا جانے یہ کیسا عشق تھا، اس بارے اُن کا شعر ہے ’’عاشقی گر زین سر و گرزان سر است، عاقبت مارا بدا ن شہ رہبر است‘‘ (عشق خواہ یہاں کا ہو یا وہاں کا بالآخر ہمیں اسی بادشاہ کی طرف لے جاتا ہے یعنی عشق خواہ حقیقی ہو یا مجازی بالآخر وہ حقیقت کی طرف لے جاتا ہے) اپنے عاشق کے عشق میں وہ قونیہ کی گلیوں میں گھومتے، دیوانہ وار رقص کرتے، اسی عالم میں غزلیں کہتے اور ایسے کہ منہ سے جھاگ نکلتی، گردوپیش کا ہوش نہ رہتا، جھومتے گھومتے اِن پر غزلیں وارد ہوتیں اور وہاں موجود لوگ انہیں لکھ لیتے، خود سپردگی کے عالم میں کہی یہ غزلیں ایسی شاہکار ہیں کہ ان جیسی دوسری مثال آج تک نہیں ملتی۔ شمس تبریز کا قصہ، رومی کے شاگردوں، پیروکاروں اور کہا جاتا ہے کہ خود ان کے بیٹے نے پاک کیا مگر اس کے باوجود رومی کا عشق ماند نہیں پڑا۔ ان کا اگلا عشق احسام الدین چلیپی سے ہوا اور یہ بھی شدید تھا ایسا شدید کہ اس کی فرمائش پر مثنوی لکھی اور ایسے کہ رومی بولتے اور چلیپی لکھتے جاتے تھے، پھر وہ گھر چلے جاتے اور اگلے روز رومی وہیں سے سلسلہ شروع کرتے جہاں سے ٹوٹا ہوتا تھا، عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیا کوئی انسان اتنا ذہین بھی ہوسکتا ہے! مثنوی جس میں کئی تماثیل اور ذیلی کہانیاں ہیں مگر مجال ہے کہیں سے کوئی ربط ٹوٹا ہو، چھبیس ہزار اشعار پر مشتمل یہ مثنوی جو چھ جلدوں میں پوری آتی ہے، رومی نے اپنے محبوب کے عشق میں ڈوب کر ڈکٹیٹ کروائی اور یوں کہ ایک شعر بھی دوسری مرتبہ نہیں پڑھا! آپ چلیپی کی محبت میں اس قدر آگے چلے گئے تھے کہ ایک دفعہ قونیہ کے امیر نے ستّر ہزار درہم بطور تحفہ بھیجے تو آپ نے وہ تمام درہم چلیپی کو بھجوا دئیے۔ اس حرکت پر رومی کے بیٹے نے کہا کہ پہلے ہی گھر میں کچھ نہیں اور اوپر سے جو آتا ہے آپ اسے چلیپی کو بھج دیتے ہیں، ایسے کیسے چلے گا، اس کے جواب میں رومی نے کہا ’’اہل خانہ تو ایک طرف، اگر میرے سامنے لاکھوں اولیا بھوکے تڑپ رہے ہوں اور مجھے کہیں سے ایک روٹی میسر آ جائے تو خدا کی قسم میں اسے چلیپی کی طرف بھیج دوں گا۔‘‘ (حوالہ ،پرویز، صفحہ 84)۔
یوں تو ابن عربی اور مولانا رومی کے عشق و فلسفے کے نظریات کو اقبال کے علاوہ شاید ہی کوئی سمجھ سکا ہو مگر ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمارے درمیان ایک ایسا مرد ذی وقار موجود ہے جو ابن عربی اور مولانا روم کی تعلیمات کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اِن تعلیمات پر عمل کر کے اس نے اپنی دین و دنیا دونوں روشن کر لی ہیں۔ یہ مرد رعنا، ابن عربی اور مولانا روم کا فلسفہ گھول کر پی چکا ہے، مجسم صوفی اور سرتا پا روحانیت کا سرچشمہ ہے، محبت کا زم زم اس کی شخصیت سے روزانہ امڈتا ہے اور پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد اس محبت سے فیض یاب ہوتی ہے ۔
ابن عربی اور رومی کی صوفیانہ تعلیمات نے اس مرد با کمال کو سلوک کی تمام منازل ایک ہی جست میں طے کروا دی ہیں، یہ اپنی ذات کا عاشق اور خود اپنا ہی محبوب ہے، یہ بولے تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں، یہ روزانہ صبح آئینے میں خود کو دیکھ کر سوال کرتا ہے کہ تمہارے والدین کس قدر خوش قسمت لوگ تھے جنہوں نے تمہیں جنم دیا، اس کا ہر عمل اس کا ہر فعل اس کا ہر قول ابن عربی اور رومی کے فلسفے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ابن عربی کا پرتو، رومی کا معشوق اگر کسی نے دیکھنا ہو تو پاکستان کے اس ہیرو میں دیکھ لے، من کی مراد پا لے گا۔ من کی مراد پانے کے لئے ہمارے اس ہیرو نے درویشی کی ایک نئی جہت متعارف کروائی ہے، جس کے مطابق یہ اور اس کے پیروکار اس شخص پر لعنت بھیجتے ہیں، جو ان کی خواہشات میں رکاوٹ بنتا ہے، یہی درویشی ہے یہی عیاری۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *