ماموں‘ چاچو

gul-nokhaiz

میڈیا یکدم بیدار ہوا اور ہر طرف ایک ہی شور مچ گیا کہ بچوں کو قریبی رشتہ داروں سے محفوظ رکھیں۔ یہ قریبی رشتہ دار کون ہوتے ہیں؟ اس کی وضاحت بھی کل ایک بڑے چینل پر گفتگو میں کر دی گئی۔ میزبانوں کے مطابق ماموں‘ چچا وغیرہ قریبی رشتہ داروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تشریح پہلے بھی اشاروں کنایوں میں کی جاتی رہی ہے۔ کیا واقعی ماموں‘ چچا وغیرہ جیسے محبت بھرے رشتے ایسے ہوتے ہیں؟ ہرگز نہیں... اِکا دُکا واقعات کی بنا پر اِن رشتوں کو پراگندہ سمجھ لینا بالکل غلط ہے۔ ہم سب کسی کے چچا ہیں‘ کسی کے ماموں ہیں اور ہمارے بھی کوئی چچا یا ماموں ہوں گے۔ یہ تو اتنا خوبصورت رشتہ ہے کہ بھانجے بھتیجے اپنے ماں باپ سے اتنا لاڈ نہیں کرتے جتنا اپنے چاچو اور ماموں سے کرتے ہیں۔
چاچو تو دوست ہوتے ہیں۔ یہ تو بھتیجے بھتیجیوں کی ڈھال ہوتے ہیں۔ اگر کہیں کسی بدبخت نے اس رشتے کو پامال بھی کیا ہے تو کیا سارے چاچو اِس کی زد میں آ گئے؟ ماموں جیسا بے لوث رشتہ کہاں ملتا ہے؟ دو دفعہ ماں ماں کہیں تو ایک ''ماما‘‘ بنتا ہے۔ یہ ماموں ہی ہیں جن کے بغیر بھانجے بھانجیوں کی خوشی کی محفلیں مکمل نہیں ہوتیں... لیکن بچوں کو محتاط رکھنے کے معاملے پر میڈیا نے اِن شاندار رشتوں کو رگید کے رکھ دیا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی پروگرام دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں والدین کو تلقین کی جا رہی ہے کہ بچوں سے ہر رشتہ چھڑوا کر بالکل اکیلا کر دیں۔ احتیاطی تدابیر کے نام پر بچوں کو اُن رشتوں سے بھی محتاط رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے جن کی وجہ سے زندگی رنگین ہو جاتی ہے۔ اگر اس کا محر ک چند واقعات ہیں تو پھر وہ خبریں بھی ذہن میں رکھنی ہوں گی جس میں ماں اور بیٹے کا رشتہ بھی پامال ہوا۔ تو کیا ماں بیٹے کی محبت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے؟؟؟ زندگی میں ہم ہر قسم کی خبریں پڑھ چکے ہیں‘ ایسی خبریں بھی جن کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے... لیکن کیا چند بد بختوں کی وجہ سے سب کو ایک ہی نظر سے دیکھنا چاہیے؟... بچوں کی تربیت ضرور کیجئے لیکن تربیت کے نام پر انہیں خوبصورت رشتوں سے محروم نہ کیجئے۔
خاندان رشتوں سے تشکیل پاتا ہے۔ ورکنگ ویمن عموماً اپنے بچوں کو اُن کے ماموں یا چاچو کے ہاں بھی چھوڑ آتی ہیں۔ کئی دفعہ کسی ہسپتال یا فوتیدگی پر جانا ہو تب بھی بچوں کو انہی رشتوںکی طرف چھوڑنا پڑتا ہے۔ بے شمار گھرانوں میں بچوں کو سکول سے لانے لے جانے کا فریضہ بھی چاچو یا ماموں سرانجام دیتے ہیں‘ کئی بچے بچیاں والدین کی وفات کے بعد چاچو یا ماموں کے گھر پرورش پاتے ہیں۔ کیا یہ رشتے ناقابل اعتبار ہیں؟ بالکل غلط۔ ماموں اور چاچو اپنے بھانجے بھتیجیوں کو پیار بھی کرتے ہیں‘ چومتے بھی ہیں‘ سیر بھی کرواتے ہیں‘ گود میں بھی اٹھاتے ہیں۔ یہ ان کی محبت ہوتی ہے‘ ہم سب اس محبت کے گواہ ہیں‘ یہ وہی رشتے ہیں جو دل و جان سے بچوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہاں اِن سے آگے کے رشتے اتنے قریبی نہیں ہوتے سو اُن سے پیار کا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے محتاط رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ اذیت صرف اُن خونی رشتوںکے حوالے سے ہونے والی گفتگو پر ہے‘ جس میں لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا جا رہا ہے کہ ماں باپ کے علاوہ ہر رشتہ مشکوک ہے۔
ہم سب اپنے اپنے رشتہ داروں کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کون سا رشتہ دار کس مزاج کا ہے‘ بہت سے رشتے داروں سے ہماری لڑائیاں ہوتی ہیں‘ ناراضیاں ہوتی ہیں لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری اولادوں کے ساتھ درندگی پر بھی اُتر سکتے ہیں۔ بچوں کی تربیت ضرور کریں لیکن اپنی تربیت بھی کریں۔ اپنے قریبی لوگوں میں کس کے کیا کرتوت ہیں‘ ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں سے ضرور دور رہیں لیکن بچوں کو دل و جان سے چاہنے والے ماموں چاچو سے متنفر نہ کریں۔ کیا ستم ہے کہ ہم خود بطور چاچو‘ ماموں بہت اچھے کہلانا چاہتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو اِن مقدس رشتوں کے حوالے سے ٹینشن کا شکار رکھنا چاہتے ہیں۔ مشکوک کردار کے حامل رشتہ داروں سے بچوں کو دور ہی نہیں بہت دور رکھیں لیکن اِن کے ذہن میں ایسی باتیں نہ ڈالیں جن کی وجہ سے وہ قریبی رشتہ داروں کی ہر حرکت کو کچھ اور ہی معانی پہنا دیں۔
میڈیا جب قریبی رشتہ داروں کا لفظ استعمال کرتا ہے تو بعض اوقات کلیئر نہیں کرتا کہ قریبی رشتے دار کون ہوتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قریبی رشتہ داروں سے کیا مراد ہے لیکن میڈیا کچھ اس طرح سے گھما پھرا کے بات کر رہا تھا کہ سب کے ذہنوں میں کنفیوژن تھی۔ کچھ دنوں سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آ گئی جب میڈیا نے چاچو اور ماموں کو اس فہرست میں شامل کیا۔ شرم سے سر جھک گئے۔ میڈیا کی تلقین کے مطابق اب ایک ماموں یا چاچو جب پیار کرنے کے لیے اپنی چھوٹی بھانجی یا بھتیجی کو گود میں اُٹھائے تو بچی کو چاہیے کہ وہ زور زور سے شور مچانا شروع کر دے؟... لاحول ولا قوۃ۔
ذرا اپنا وقت یاد کرتے ہیں... جب ہم ماموں یا چاچو بنے تھے تو ہماری خوشی کی کیا انتہا تھی‘ کیا ہم اپنی بھانجیوں‘ بھتیجوں کو پیارکرتے وقت محتاط رہتے تھے۔ ہم سب کی اکثریت بہنوں اور بھائیوں کے بچوں سے دیوانہ وار محبت کرتی ہے۔ ہمارے بھانجے بھتیجیاں ہمیں اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ شرارتیں ہوتی ہیں‘ کھیل تماشے ہوتے ہیں‘ چھیڑ خانیاں ہوتی ہیں‘ سالگرہ منائی جاتی ہیں‘ تحفے تحائف دیے جاتے ہیں۔ ان کی شادیوں میں اِن کے ماں باپ نہیں بلکہ ماموں چاچو دیوانہ وار ناچتے ہیں۔ یہ بھانجے بھتیجیاں جب کسی بات پر اپنے ماں باپ سے ناراض ہو جائیں تو ماموں اور چاچو ہی ان کی محبت کا مرکز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے ماں باپ سے زیادہ ماموں چاچو سے اپنی دلچسپی کی باتیں شیئر کرتے ہیں۔ ان کی کسی کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو ماں باپ سے بھی پہلے ان کے ماموں چاچو میدان میں کودتے ہیں۔ کسی بچے کے موبائل‘ سمارٹ واچ‘ لیپ ٹاپ‘ امپورٹڈ ڈریس‘ ٹیبلٹ اور دیگر قیمتی چیزوں کا جائزہ لیجئے... اور پھر بے شک پوچھ کر دیکھ لیجئے‘ زیادہ چیزیں ماموں یا چاچو نے گفٹ کی ہوں گی۔
محبت کے اتنے بڑے رشتے کو میڈیا نے پل بھر میں خاک میں ملا دیا۔ جن گھروں میں میڈیا کا یہ سبق پہنچا ہے وہاں صرف والدین ہی شبہات میں مبتلا نہیں ہوئے‘ ماموں چاچو بھی شرم سے پانی پانی ہو گئے ہوں گے۔ رشتوں کی اِس توہین کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گھر گھر میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں والدین کو اپنے بچے کس کے حوالے کرکے جانا چاہیے؟ کاش میڈیا یہ بھی بتاتا کہ جو شادی شدہ نیوز کاسٹر اور میڈیا ورکر خواتین دفتر آتی ہیں وہ اپنے بچے کس کے حوالے کر کے آتی ہیں؟ دنیا میں بہت کچھ ہوتا ہے لیکن بہت کچھ نہیں بھی ہوتا۔ اگر ہمارے بچوں کے ماموں چاچو مشکوک ہیں تو پھر ہم سب بھی مشکوک ہیں۔

(گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *