محمد حسین کی کہانی !

ata-ul-haq-qasmi

جہاز نے دبئی کیلئے ٹیک آف کیا تو میرے برابر میں بیٹھے ہوئے دیہاتی نوجوان کی آنکھیں تارے لگ گئیں۔ جہاز جوں جوں اوپر کی طرف جا رہا تھا اس کی آنکھیں باہر کو ابلتی جا رہی تھیں۔ وہ تازہ بنے ہوئے کپڑوں میں ملبوس تھا جس کی دھلائی کی نوبت بھی نہیں آئی تھی چنانچہ اس کی قمیص اور شلوار پر دھاگوں کے ٹوٹے ابھی تک چمٹے ہوئے تھے۔ وہ تلاش روزگار میں بیرون ملک جا رہا تھا اور وضع قطع سے سو فیصد ’’دبئی چلو‘‘ ڈرامے کا کردار لگتا تھا۔ اس کے پائوں میں دیسی گھی کا ڈبہ پڑا تھا اور جب جہاز نے بندے دے پتروں کی طرح پرواز شروع کی تو اسکے ہوش کچھ کچھ ٹھکانے آئے اور اس نے ایک پوٹلی میں سے پنجیری نکال کر مجھے پیش کی۔ اس کا نام محمد حسین تھا، اسکے برابر میں بھی ایک سفید پوش بوڑھا دیہاتی بیٹھا تھا جسے غالباً بیرون ملک موجود اس کے کسی بیٹے نے ملنے کیلئے بلایا ہو گا۔
محمد حسین کی آنکھوں کی پتلیاں تو واپس اپنی جگہ پر آ گئی تھیں مگر وہ خاصا بے چین اور مضطرب نظر آتا تھا اور اپنا ایک ہاتھ بار بار اپنی جھولی کی طرف لے کر جاتا تھا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کروٹ بھی بدلتا اور اپنی حرکات و سکنات کے دوران کنکھیوں سے مجھے یوں دیکھتا جیسے مجھ سے کچھ چھپانے یا کچھ بتانے کی کشمکش میں ہو مگر تاحال کسی فیصلے پر نہ پہنچ پایا ہو کہ اپنی پریشانی کا اظہار کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔ دریں اثنا اس نے ایک بار پھر اپنا ہاتھ اپنی جھولی میں ڈالا اور بالآخر وہ ایک فیصلے تک پہنچ گیا۔
’’صاحب جی!‘‘ اس نے جھینپتے ہوئے مجھے مخاطب کیا۔ ’’یہ پٹہ تو کھول دیں، مجھ سے کھل نہیں رہا‘‘ میں نے اس کی کمر کی طرف دیکھا تو سیفٹی بیلٹ اپنی پوری سختی کے ساتھ اس کی کمر میں دھنسی ہوئی تھی۔ اس نے میری پیروی میں یہ پٹہ باندھ تو لیا تھا مگر اب کھولنے میں اسے اس طرح دشواری پیش آ رہی تھی جس طرح اکثر شریف آدمیوں کو اس ضمن میں پہلی بار پیش آتی ہے۔ میں نے جب ہاتھ کی ایک ذرا سی جنبش سے اس کی یہ مشکل رفع کر دی تو وہ خاصا حیران ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے ایک عظیم ’’سائنس دان‘‘ سمجھا ہو گا۔ فضائی میزبانوں نے اپنے مہمانوں کیلئے کھانا چننا شروع کر دیا تھا۔ میں نے اپنے اس رفیق سفر کو ایمبیرسمنٹ سے بچانے کیلئے اگلی نشست سے لگی ٹرے کا بٹن کھولا تو یہ ایک چھوٹی سی ٹرے کی صورت میں اسکے سامنے بچھ گئی۔ وہ میری اس ’’سائنسدانی‘‘ پر یقیناً ایک بار پھر حیران ہوا ہو گا۔ کھانے میں جو کچھ تھا وہ محمد حسین خاصی بے دلی سے چبا رہا تھا۔ اس دوران اس نے اپنے پائوں میں دھرے ٹفن کیریئر کی طرف ایک دو دفعہ ہاتھ بھی بڑھایا جس میں یقیناً گندلوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی ہو گی مگر وہ ہر دفعہ رک گیا۔ شاید وہ ایک اور ’’ندامت‘‘ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسکے برابر میں بیٹھے ہوئے باریش دیہاتی بزرگ بھی کچھ اسی طرح یہ کھانا زہرمار کر رہے تھے۔ کھانے سے فراغت کے بعد بھی جب کچھ دیر تک فضائی میزبانوں نے ادھر کا رخ نہ کیا تو اس بزرگ نے کچھ فاصلے پر سے گزرتی ہوئی ایک ایئر ہوسٹس کو ہاتھ کے اشارے سے بلایا اور پھر بآواز بلند کہا:
’’کڑیئے! اے بھانڈے تے چک کے لے جا‘‘ (لڑکی یہ برتن تو اٹھا کر لے جائو)
اس دوران میں نے اکتاہٹ کے عالم میں ایک جماہی لی اور کافی کا انتظار کرنے لگا۔ میں اگرچہ محمد حسین سے پہلی بار متعارف ہوا تھا مگر میرے لئے یہ شخص نیا نہیں تھا۔ میں نے کئی برس قبل میونخ کی ’’بابے دی ہانم‘‘ میں محمد حسین جیسے اپنے بے شمار ہم وطنوں سے ملاقات کی تھی۔
جرمنی میں ’’ہانم‘‘ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں بے شمار لوگ ایک چھت تلے رہتے ہوں۔ اپنے اپنے گھروں سے روزگار کی تلاش میں نکلے ہوئے ہزاروں پاکستانی میونخ کی اس نوع کی ہانموں میں اپنے اپنے گھروں سے بھی بدتر حالات میں رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی سہولت کیلئے ان ہانموں کے نام تجویز کر رکھے تھے۔ کسی کو وہ ’’چاچے دی ہانم‘‘ اور کسی کو ’’مامے دی ہانم‘‘ کہتے تھے۔ جو ہانم میں نے دیکھی تھی اس کا نام ’’بابے دی ہانم‘‘ تھا۔ وہ شہر میں دن بھر محنت مزدوری کرتے اور رات کو ’’بابے دی ہانم‘‘ میں قطار اندر قطار بچھی چارپائیوں پر باری باری آ کر سو جاتے اور سکھ کے سپنے دیکھتے۔
میں نے ان سب کی کہانیاں سنی تھیں۔ ان کے سروں پر کتنی ذمہ داریاں تھیں اور وہ کن حالات میں ترکِ وطن پر مجبور ہوئے تھے، یہ سب کچھ میں نے ان کی زبان سے سنا تھا۔ یہ بہت دلخراش کہانیاں تھیں اور ایک دلخراش کہانی محمد حسین کی صورت میں اس وقت بھی میرے ہمرکاب تھی۔ چنانچہ اس سے گفتگو کے نتیجے میں مجھے کوئی نئی بات معلوم نہ ہوئی۔ اگر معلوم ہوا تو یہی کہ اس کا باپ مر چکا ہے، سات بن بیاہی جوان بہنوں کا وہ اکلوتا بھائی ہے جن کی عمریں ڈھلنا شروع ہو گئی ہیں۔ ماں محنت مزدوری کرتی ہے اور اب اس نے پیسہ پیسہ جوڑ کر ادھر ادھر سے جمع کر کے اپنے بیٹے کو باہر بھجوانے کا انتظام کیا ہے۔ وہ اپنے جگر سے اپنے ٹکڑے کو علیحدہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ دبئی اب دور نہیں تھا چنانچہ جہاز اب آہستہ آہستہ بلندی سے پستی کی طرف آ رہا تھا ۔
محمد حسین نے ایک ہجرت 1947ء میں کی اور اس کی دوسری ہجرت کا سلسلہ 1947ء سے آج تک جاری ہے۔ 1947ء میں اس کی ہجرت اپنی روحانی ضرورتوں کے لئے تھی جبکہ اس کی دوسری ہجرت کا تعلق اس کی معاشی ضرورتوں کے تحت ہے۔ اس کے نبی ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف صرف ایک ہجرت کی تھی اور دین اور دنیا کے مقاصد کی تکمیل ہو گئی تھی۔ جوں جوں جہاز پستی کی طرف جاتا محمد حسین کا دل ڈوبنے لگتا۔ اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے اور وہ ہولے ہولے ورد کر رہا تھا ’’لَآ اِلٰہ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنََ اِنُِّنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *