بیانیہ اور ووٹ

tariq ahmed

بہت سال پہلے میں بھی اس بیانیے سے بہت متاثر تھا۔ اور اس بیانیے کا پورے جذبات سے دفاع کرتا تھا۔ کہ یہ ملک آرمی کی وجہ سے متحد ھے۔ اور قائم ھے۔ اگر آرمی نہ ھو تو یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ پھر میں بڑا ھو گیا۔ اور مجھے معلوم ھوا۔ کسی ملک کو صرف اس کے عوام متحد اور قائم رکھ سکتے ہیں ۔ پاکستان جیسے مختلف قومیتوں والے ملک میں مزھب یا آرمی ملک کو متحد اور قائم رکھنے کے لیے بائنڈنگ فورس نہیں ھو سکتی۔ صرف مشترکہ تجارتی منڈیاں اور مشترکہ قومی سیاسی پارٹیاں ھی پاکستان کو متحد اور قائم رکھ سکتی ھیں ۔ وہ مشترکہ تجارتی معاشی منڈیاں جہاں ساری قومیتیں ایک دوسرے پر انحصار کرنے پر مجبور ھوں۔ اور وہ قومی سیاسی پارٹیاں جن کے رہنما کو تمام قومیتیں اپنا رہنما تسلیم کریں ۔ اور اسے ووٹ دیں۔ گویا معاشی مفادات اور جمہوریت ھی اس ملک کو متحد اور قائم رکھ سکتی ھے۔ اور بدقسمتی دیکھیے۔ اس ملک کے عوام کو معاشی مفادات اور جمہوریت سے ھی محروم رکھا گیا ھے۔ کسی قومی سطح کی سیاسی پارٹی کو قائم نہیں رھنے دیا گیا۔ اور قومیتوں کا معاشی استحصال کیا گیا۔ اور ستم ظریفی یہ ھے۔ کہ خاکی برتری کو قائم رکھنے کے لیے دو بیانیے پھیلاے گئے۔ ایک یہ کہ آرمی کی وجہ سے ملک متحد ھے۔ حالانکہ اسی بیانیے میں جبر اور زبردستی کا پہلو پوشیدہ ھے۔ جبکہ ملک باھمی رضامندی اور خوشی سے متحد رھتے ھیں۔ اور دوسرا بیانیہ یہ پھیلایا گیا۔ کہ سیاستدان کرپٹ، نااھل اور سیکیورٹی رسک ھیں۔ اور اسی وجہ سے آرمی مداخلت کرتی ھے۔ اور ٹیک اپ کرتی ھے۔ اگر سیاستدان لوٹ مار نہ کریں ۔ بلدیاتی نظام قائم کریں ۔ پولیس کو خود مختار بنائیں۔ لوگوں کو تعلیم ، صحت اور ھاوسنگ کی سہولیات فراہم کریں ۔ مفت دوائیں اور صاف پانی اور انصاف مہیا کریں ۔ تو آرمی مداخلت نہیں کر سکتی۔ سوال یہ ھے۔ آرمی مداخلت ھی کیوں کرے۔ یہ عوام اور سیاستدانوں کا باھمی معاملہ ھے۔ ستم ظریفی یہ ھے اس بیانیے بلکہ پروپیگنڈے پر کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی یقین کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ھیں ۔ جن کو اس مسلسل منفی بیانیے سے مستقل نفرت کا شکار بنا دیا گیا ھے۔ اور یہ لوگ پاکستان کی سیاسی تاریخ، سیاسی و تاریخی شعور اور خاکی و سول برتری کی کشمکش اور اس کے اثرات سے یکسر بےبہرہ اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ھیں ۔ انہیں آپ نہیں سمجھا سکتے۔ اس ملک کے سول حکمرانوں نے اس ملک کو اپنی جان پر کھیل کر کیا دیا ھے۔ اور اس ملک کے فوجی آمروں نے اپنے طویل اقتدار کے لیے اس ملک کا کیسا نقصان کیا ھے۔ اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں کیسے اس ملک کا بیڑا غرق کر رھی ھیں۔ ان کا مائنڈ سیٹ اسی بیانیے سے بنایا گیا ھے۔ اور وہ ملک سے اپنی محبت اور اخلاص میں اسی بیانیے کا پرچار کر رھے ھیں کہ آرمی بائنڈنگ فورس ھے اور سیاستدان کرپٹ اور نااھل ھیں۔ اور سیاستدان آرمی کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ میرے خیال میں ان لوگوں سے الجھنے اور بحث کرنے کی ضرورت نہیں ۔ جیسا میں نے پہلے کہا۔ یہ معصوم اور مخلص لوگ ھیں۔ انہیں وقت پر چھوڑ دیں ۔ یہ بھی بڑے ھو جائیں گے۔ حالیہ برسوں میں جس طرح اس بیانیے میں ڈنٹ پڑے ھیں ۔ یہ کمزور ھوا ھے۔ اس کی مخالفت بڑھی ھے۔ دیوار پر لکھا نظر آ رھا ھے۔ یہ بیانیہ اب زیادہ دیر چلنے والا نہیں ۔ اس بیانیے کا پرچار کرنے والے اداروں کی موجودہ بے بسی ان کے سربراہان کے بیانات سے نظر آتی ہے ۔ ان کے ایکشنز سے نظر آتی ہے ۔ عظمی اور وقار شدید گلٹ کا شکار ھیں اور اس گلٹ کو چھپانے کی خاطر وہ جو حرکتیں کر رھے ھیں۔ جو تقریریں کر رھے ھیں۔ ان کا گلٹ اور کمزوری مزید ایکسپوز ھو رھی ھے ۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ھے۔ اس دنیا میں فورا نظر آ جاتا ھے۔ بادشاہ ننگا ھے یا ملبوس ھے۔ حساس مقامات چھپاتے چھپاتے اسکرٹ اوپر نیچے ھو رھی ھے۔ اس ملک کے جاھل عوام نے ووٹ کی طاقت سے یہ ملک حاصل کیا تھا۔ پھر کچھ عقل کل اداروں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا۔ ایک بار پھر اس ملک کے عوام ووٹ کی طاقت سے اس ملک کو آزاد کروائیں گے۔ ووٹ ھی فائنل طاقت ھے۔ ووٹ کی حرمت اور تقدس کو مانے بغیر چارہ نہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *