زبان کے زخم

2

راما چیمہ

ایک انسان کا حق مارنے سے ساری انسانیت کا حقوق خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ " یہ جان ایف کنییڈی کے الفاظ ان 16 دنوں کی سرگرمی کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہیں جس کی آج ہم سب وکالت کر رہے ہیں۔ پوری دنیا عورت کے ساتھ ذیادتی کے خلاف متحد ہے۔ جب ہم تشدد کی بات کرتے ہیں تو ذیادہ تر جسمانی تشدد اور مظلوم کے مسمار اور تباہ کن حالات ہی کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ لیکن عورت کے ساتھ جزباتی ذیادتی کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کا پورے دنیا میں عورتیں نشانہ بن رہی ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس لباس میں بہت خوبصورت لگتی ہیں ؟ "تم آج کے بعد ان رشتے داروں سے نہیں ملو گی ورنہ میں تمہاری ہڈیاں توڑ دوںگا۔" "آج کے بعد اگر اپنی شادی بچانی ہے توتم اس طرح کی محفلوں میں نہیں جاؤ گی۔" "جلدی سے فلاں شخص کو فیس ب کے فرینڈ گروپ سے ڈیلیٹ کرو" "تم کو پیسے کیوں چاہیں جب میں تمہاری ہر ضرورت کی چیز لے آتا ہوں؟" "کام ! تم جیسی عورت کو گھر بیٹھ کر بچے سمبھالنے چاہیں بس۔"" تم کسی کام کی نہیں ہو۔" اس طرح کے جزبات کو مجروح کرنے والے جملے کوئی جسمانی نشان نہیں چھوڑتے لیکن ان کے مسلسل استعمال سے عورت کی صحت اور ذہنی کیفیت پر بہت اثر پڑتا ہے۔ یہاں جزباتی طور پر حراساں کرنے کا مطلب ہے ظا لم کا عادتا دھمکانا، غنڈہ گردی کرنا، مسلسل طعنہ بازی،کڑوے بول، تشدد آمیز کنٹرول، تحقیر ، بے حیائی، اور سازبازی کرنا۔ کسی جسمانی ثبوت کے نہ ہونے کی بنا پر بہت سے ایسے کیسز کو بیان نہیں کر پاتے اور رپوٹ بھی نہیں کروا ئی جا سکتی۔ بہت دفعہ تو مظلوم بھی نہیں جان پاتا اور احساس جرم میں رہتا ہے۔ جزباتی زیادتی آہستہ آہستہ انسان کی ہمت، حوصلے اور تحفظ کو کھا جاتی ہے۔ اور اس محاورے کے باوجود کے "الفاظ سے مجھے تکلیف نہیں ہو گی " یہ جذباتی اور
تنقیدی جملے بہت دیر تک اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ انسان کے اندر سے اس کی اہمیتکو ختم کر دیتے ہیں ۔ اس کا اثر انسان پر بہت منفی پڑتا ہے اور ہمیشہ کے لیے انسان ٹوٹ کر رہ جاتا ہے اور اس کے نفس پر لگے زخم کبھی نہیں بھر پاتے۔ ذیدتی کرنے والا پوری طرح مظلوم پر قابو پا لیتا ہے۔ کبھی کبھی ظالم کا اندازمظلوم کو سمجھنے ہی نہیں دیتا کہ اس پر ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا ہے جس کو روکنا  ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، میں اایک بچوں کے ڈاکٹر کو جانتی ہوں جو اچھا کماتی ہیں، ان کے شوہر بہت تنقید کرنے والے غصیلے انسان ہیں اور انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہاپنی ساری کمائی ان کے اکاؤنٹ  میں ٹرانسفر کر دیں اور ان کوہر ماہ ایک محدود رقم دیتے ہیں خرچ کے لیے جو ان کی کمائی سے بہت کم ہے۔ انہوں نے اپنی ڈاکٹر بیوی کو کہا کی وہ بتایں گےکی ان کو کتنے پیسے چاہیں اور یہ ان کا فرض ہے کہ وہ گھر کے اخراجات میں مدد کریں۔ یہ نفسیاتی اور مالی بد سلوکی ہے جو کہ جذباتی زیادتی کا بڑا حصہ ہیں۔ اتنا کسی کو اس کی نظر میں گرا دینا کہ اسے خود اپنی اہمیت کا اندازہ نہ رہے اور اپنے آپ کو اپنے حق کا بھی اہل نہ سمجھے۔ کیا آپ کا تعلق ایسے شخص سے رہا ہے جو ہر روز آپ کو احساس دلاتا ہو کہ آپ کی یاداشت ہی کمزار ہے اور اہسا نہیں ہوا جیسا آپ واقع کو بیان کر رہے ہو؟ وہ سچ جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ اہسا ہے ہی نہیں؟ یہ سراسر جذبات کے ساتھ کھیلنا ہے۔ حراساں کرنے والا ہر بار آپ کے بتائے واقع کو بدل کر بتا تا ہے اورآپ کو احساس دہلاتا ہے کی آپ دماغی طور پر معزور ہورہے ہیں اور آہستہ آہستہ مظلوم کو بھی ایسا لگنے لگتا ہے اور وہ جب علاج کروانے کے لیے مسئلہ نہیں جان پاتا تو اور مسائل میں گھر جاتا ہے جیسے نشے کی لت، بے ہوشی، بے چینی اور ڈپریشن میں۔ صرف گھریلو سطح پر یا رشتے داریوں میں نہیں بلکہ پروفیشنل زندگی میں بھی جذباتی زیادتی ہوتی ہے۔ جیسا کے رسموں یا بزنس میں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے گریجویشن کے فورا بعد جاب کی تھی وہ مجھے بلکل پسند نہیں تھی کیوں کہ وہاں ہر وقت تنقید اور پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔میرے ساتھی ورکرز بھی نچلے درجے کے مطلبی تھے ۔وہ میرے وزنی ہونے پر جملے کستے اور وہ الفاظ جو تکلیف پہنچائیں زندگی بھر نہیں بھولتے۔ مجھے بہت سی سماجی سرگرمیوں سے محروم رکھا گیا اور مجھے اپنا آپ اکیلا اور دھتکارا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ جاب سے آپ زندگی گزارنے کی مہارت حاصل کریں گے لیکن یہ جذباتی دوزخ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کو گروپ سے نکال کر اکیلا کرنے سے حقیر ہونے کا احساس دیا جاتا ہے اور لمبے عرصے تک اس تکلیف میں رہنا پڑتا ہے۔ اور یہ سچ ہے چاہے آپ کا گروپ نسبتا معاون ہو۔ اگر وہ سماجی تنہائی کو اہمیت نہ بھی دیں تو بھی آپ کو انجانا احساس رہتا ہے۔ ہم آخر کارمعاشرتی حیوان ہیں ۔جیسا کے چارلز کولی کہتے ہیں کہ اگر ہم خود کو دوسروں کی نظر سے دیکھیں تو خود اعتمادی کھو بیٹھیں ۔ پاکستان گورنمنٹ نے پنجاب پروٹیکشن آف وومن اگینسٹ وائیلنس ایکٹ 2016 کے تحت جذباتی تشدد کو ایک جرم کے طور پر تسلیم کیا اور اس جرم کی عدالتی سزائیں بھی منتخب کی گئیں۔البتہ ہمارے پدرانہ معاشرے میں اس قانون کا نفاذ تقریبا ناممکن ہے۔ سب سے پہلے تو ہم عورتیں اپنے حقوق سے نا واقف ہیں اسی لیے بہت سی جگہوں پہ ہم اس جزباتی تشدد کو مان لیتی ہیں۔ ظاہر ہے ہماری جذباتی بہبود کے لیے کسی کا جبر بلکل ٹھیک نہیں۔ معاشرے کا حصہ ہونے کے باعث ان کم سمجھ آنے والے جذباتی
تشدد کے بارے میں جان لیں تو ہم ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں جوہمارے ارد گرد اس تشدد کا شکار ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس طرح کے تشدد پر بحث و مباحثہ ہونا چاہیے تاکہ چپ چاپ اسے سہنے والے ختم ہو جائیں۔یہ میرا پہلا قدم ہے اس کوشش کی طرف، جسے الفاظ کے ذریعے میں نے جذباتی زیادتی کے بارے میں معلومات دے کر پورا کیا ہے

courtesy : https://blogs.tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *