عمران خان کی پریشانی بڑھ رہی ہے

14

فہد حسین 

اگلے ہفتے وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو 6 ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ 28 جولائی 2017 کو شریف خاندان کی سیاست کے خاتمہ کا آغاز قرار دیا گیا تھا۔ اسی دن سے عمران خان کو اگلے الیکشن کےلیے متوقع وزیر اعظم بھی سمجھا جانے لگا اور پی ٹی آئی کو سب سے اہم پارٹی بھی سمجھا جانے لگا تھا۔ اس وقت یہ پیشین گوئیاں کی گئیں کہ ن لیگ کو ٹوٹنے اور بکھرنے میں بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے اور شریف برادران کی پارٹی اور خاندان کے حصے بخرے ہونے والے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ سیاست اب طے شدہ سکرپٹ کے مطابق ہو گی۔ اور کوئی اس کی خلاف ورزی نہیں کر پائے گا۔ یہ تب کی بات ہے لیکن اب لگتاہے کہ کچھ ایسا ہوا ہے جس کا سکرپٹ میں ذکر نہیں تھا۔  اس ہفتے جب عمران خان چئیرنگ کراس کے جلسے میں خالی کرسیوں سے خطاب کرنے والے تھے تب انہوں نے ضرور سوچا ہو گا کہ چھ ماہ کا عرصہ کتنا لمبا ہو سکتا ہے۔ 28 جولائی کو کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہو گا کہ چھ ماہ بعد ساری اپوزیشن مل کر جن میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور پاکستانی عوامی تحریک مل کر بھی لاہور میں ایک کامیاب جلسہ کرنے میں ناکام ہو گی۔ ایسا کچھ بھی متوقع نہیں تھا۔ لیکن کچھ ایسا ہوا جس کا امکان نہیں تھا۔ کچھ تو غلط ہوا تھا۔  ن لیگ میں پھوٹ پڑی نہ پارٹی کمزور ہوئی۔ نواز اور مریم کے عدالتی ٹرائل سے بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ پانامہ فیصلہ وقت کے امتحان کے سامنے اپنا اثر نہ دکھا سکا اور نہ ہی حکمران جماعت کو کوئی خاص نقصان پہنچا سکا۔ پنجاب کے ضمنی الیکشنز میں عوام نے پی ٹی آئی کو نہیں جتوایا۔ نواز ملک سے نہیں بھاگے۔ شاہد خاقان کی حکومت اپنی ہی تلوار پر گری نہ ٹوٹی۔ حدیبیہ کیس سے کچھ نہ نکلا۔ شہباز شریف کو حدیبیہ کیس نقصان پہنچا پایا نہ باقر نجفی رپورٹ۔
ٹیکنوکریٹ حکومت کے مشورے بھی نہیں دیے گئے اور اسے اب بھی برا ہی سمجھا جا رہا ہے۔ کنٹینر کے ذریعے انقلاب کی دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی اور چئیرنگ کراس کے جلسے میں اس کی ساکھ بھی ختم ہونے کو پہچنی۔ کہیں نہ کہیں کچھ تو غلط ہوا ہے۔  کچھ غلط ہوا تو اس کے ساتھ ساتھ کچھ غٰیر متوقع واقعات بھی پیش آنے لگے۔ خان، ان کے ساتھی اور قادری شریف برادران پر لعن طعن کرنے میں اتنے مگن رہے کہ انہیں معلوم ہی نہ ہوا کہ نواز اور مریم جس بیانیہ پر عوام کے سامنے پیش ہو رہے ہیں وہ اپنا اثر دکھانے لگا ہے۔ پانامہ اور اقامہ کے واقعہ کو اتنی بار بدل بدل کر بیان کیا گیا کہ عوام اس پر توجہ دینے لگے۔ نواز شریف نے جو جارحانہ انداز اپنایا اسے بہت سے لوگوں نے احمقانہ اور خطرناک قرار دیا تھا لیکن یہ فائدہ مند ثابت ہونے لگا۔ انہوں نے یہ بیانیہ پیش کیا کہ انہیں سسٹم نے انصاف نہیں دیا بلکہ ان سے زیادتی ہوئی ہے اس لیے وہ اپنے حق کے لیے لڑیں گے۔ اس بیانیہ کی وجہ سے نواز شریف کو انڈر ڈاگ قرار دیا گیا باوجود اس کے کہ وہ مرکز اور پنجاب میں حکومتی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ اس بیانیہ میں نواز نے مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپا اور عمران خان کو سسٹم کا لاڈلا قرار دیا۔ اس بیانیے کا مقصد ن لیگ کے ووٹر کو پارٹی سے جوڑے رکھنا تھا اور انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے اور اس میں طاقتور ادارے ملوث ہیں اور عمران خان ان کی گود میں بیٹھ گیا ہے۔ اس واپسی لڑائی نے ملک کے پولیٹٰکل لینڈ سکیپ پر خاطر خواہ اثر ڈالا۔ پہلا فائدہ یہ ہوا کہ پارٹی ٹوٹنے سے بچ گئی کیونکہ جو لوگ تماشا دیکھ رہے تھے اور نکلنے کے خواہاں تھے انہیں لگتا تھا کہ اگرچہ نواز شریف کی اپنی بیٹری لو ہے لیکن ان کے ساتھ بیڑی پیک موجود ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ خاندان میں بھی
دراڑ نہیں آئی اگرچہ یہ خبریں آتی رہیں کہ شہباز کیمپ اور نواز کے بیچ تعلقات میں خرابی آ رہی ہے۔ اگرچہ اچھے اور برے سسٹم کے معاملے میں دونوں بھائی علیحدہ نظریہ رکھتے رہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کہیں بھی بات پارٹی ٹوٹنے تک نہیں پہنچی۔ تیسرا فائدہ یہ تھا کہ مریم نواز کو اپنی لڑائی دشمن کے کیمپ تک لے جانے کا موق مل گیا اور انہوں نے اپنی جارحانہ تقاریر اور ٹویٹ کے ذریعے یہ تاثر دیا کہ ان کی پارٹی میں ابھی تک کوئی کمزوری آئ ہے نہ آنے کی توقع ہے۔ انہیں کھلا راستہ دیا گیا کہ نواز شریف کی نا اہلی میں ممکنہ ملوث لوگوں پر کھل کر حملے کریں۔ اسی وجہ سے مخالفین کو فوری طور پر دفاعی انداز اپنانا پڑا۔ اس کی علامت ججز کے کچھ ریمارکس اور بابا رحمتے والی تقریر تھی۔ اس کے بعد دوسری سیاسی پارٹیوں نے بھی نواز اور مریم کے بیانیہ کے سامنے گھٹنے ٹٰیکنے شروع کر دیے۔ جب اپوزیشن نے مدافعانہ انداز اپنایا تو شکار خود شکاری بن گیا۔ نواز کے پاس ایک بیانیہ تھا اور ان کے مخالفین کے پاس ایک فیصلہ۔ یہ ایک ساسی مِس میچ تھا کیونکہ نواز نے ایسا بیانیہ اپنایا جو آسان اور سیاسی لحاظ سے
مفید تھا۔ مخالفین کے پاس عدالتی فیصلہ تھا لیکن یہ قانونی اور کمزور تھا۔ عمران خان جتنا بھی فیصلے کی حمایت میں بولتے، اتنا ہی لاڈلا والےبیانیہ کی
حمایت کرتے دکھائی دیتے۔ جتنی عمران خان اعلی اخلاقی پوزیشن اپنانے لگتے، اتنا ہی بڑا انہیں دھچکا ملتا جیسا کہ جہانگیر ترین کی نا اہلی کے سلسلہ میں دیکھنے کو ملا۔ اس دوران نواز شریف عوام سے جڑے رہے۔ وہ بڑے بڑے جلسے کرتے تھے اور ہر بار عدالت میں پیشی کے بعد بھی میڈیا سے گفتگو کرتے تھے۔ ان کا ہر لفظ ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہوتا اور ٹی وی پر دکھایا جاتا۔ ہر موقع پر وہ ایک ہی بات کہتے اور بار بار کہتے۔ اس طرح ان کا پیغام عوام کے دل میں گھر کرنے لگا۔ ووٹرز کے دل میں ان کی بات سما گئی۔ نواز اب بھی لڑ رہے ہیں اور مضبوطی سے قدم جمائے کھڑے ہیں۔ لیکن اپوزیشن نے احتجاج کی دھمکیاں دینے کا رویہ اپنایا۔ ان کو لگا کہ اس وقت حکومت کو گرانے کا موقع ہے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان میں نواز شریف کی پارٹٰی کو حکومت سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔ چئیرنگ کراس میں اس احتجاجی جلسے نے اپوزیشن کی کمزوری کھول کر بیان کر دی۔ اب شکاری خود شکار بن چکے تھے۔ نا اہلی کو چھ ماہ پورے ہونے کو ہیں۔ لیکن چھ ماہ بعد بھی نواز کے جلسے میں عوام آتے ہیں اپوزیشن کے جلسوں میں نہیں آ تے۔ 6 ماہ بعد نواز شریف اپنے دعووں پر قائم ہیں اور الیکشن کی بھر پور تیاری کر رہے ہیں لیکن عمران انہیں پرانے دعووں اور جملوں کو بار بار دہرا رہے ہیں۔ 6 ماہ بعد صورتحال وہ نہیں ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ظاہر ہے عمران خان کو اس کی پریشانی ہو گی اور ہونی چاہیے۔

courtesy : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *