زینب کا قاتل عمران یا روحانی بابے؟

hafiz-yousaf-siraj
 زینب کا ملزم عمران علی ہے،" پولیس اور میڈیا کا، سر دست  یہی دعوی ہے۔ ان کے مطابق
"یہ شخص زینب ہی کی گلی کا رہائشی ہے، یہ پہلے بھی پکڑا گیا، اس نے جن آنے اور دورہ پڑنے کا بہانہ کیا، پولیس نے اسے چھوڑ دیا، یہ زینب کے جنازے اور احتجاج میں بھی  پیش پیش رہا، یہ پاکپتن چلا گیا اور شیو کروا کے اور حلیہ بدل کے واپس محلے میں آ گیا۔ اب یہ دوبارہ پکڑا گیا اور اس کا ڈی این اے میچ کر گیا ، اس کے گھر والوں کو اس کے جرم کا علم تھا، انھوں نے اسے بھگا دیا، وہ خود بھی کہیں روپوش ہو گئے۔ بہرحال اب یہ دوبارہ آیا اور گرفتار ہوا۔ اب یہ  قوم کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے"
اللہ کرے یہ عجیب و غریب کہانی واقعی حقیقت ہو، اور اللہ کرے یہ کہانی کچھ وقت بعد تک بھی درست ہی ثابت ہو، دراصل یہ ساری کہانی بہت حیرت انگیز ہے۔ اس میں اتنے خلا اور اتنے چھید ہیں جو اس پوری کہانی کو تار تار کر ڈالتے ہیں۔ ماننا مشکل ہے کہ ایسے ہائی پروفائل معاملے میں ایک شخص گرفتار ہو کے  اتنی جلدی اور ایسے آسان بہانے سے ہماری پولیس سے چھوٹ بھی سکتا ہے؟ جبکہ وہ سی سی ٹی وی ویڈیو میں اتنا واضح موجود بھی ہو۔
سوال یہ ہے کہ ڈی این اے تو پہلے دن سے ہو رہا ہے، اور ہزار سے زائد  لوگوں کا ہو چکا ہے۔ پھر کیا یہ مجرم اس  وقت احتیاطا ڈی این سے پہلے چھوڑ  دیا گیا تھا؟ یا ڈی این اے مشین اتنی سلو تھی کہ اس نے رزلٹ دینے میں آج کے دن تک سستی دکھائی؟
 جب مجرم خاکے میں اتنا واضح موجود ہے تو آخر وہ کہیں چھپنے کے بجائے جنازے اور احتجاج میں شریک کیوں ہوتا رہا؟ شریک ہی نہیں میڈیا کے مطابق پیش پیش بھی؟
 وہ اسی گلی کا باشندہ ہے مگر فورا شیو  کروا کے واپس پلٹ آتا ہے ، کیا اس لیے تا کہ سارا محلہ شک میں پڑ جائے؟ یا اسے علم ہو گیا تھا کہ ہمارے نظام کی مشین میں اس کے ڈی این اے میچ کرنے میں اس کی داڑھی رکاوٹ ہے؟
یہ سب اپنی جگہ ، اصل سوال البتہ وہ گفتگو ہے، جو اس مجرم کی بیان کی جا رہی ہے، بد قسمتی سے،  اس میں ایک دفعہ پھر  روحانیت کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
میرا خیال ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ اب ہم اس 'روحانیت' پر کچھ سنجیدگی سے بھی غور کر لیں۔
آپ اندازہ کیجیے،  اس ملک میں ایک شخص اپنے پیر کے کہنے پر کئی شخص قتل کر دیتا ہے۔ پھر وہ عدالت میں یہ دعوی  بھی کرتا ہے ، کہ اسے چھوڑ دیا جائے ، وہ سارے مقتولین دوبارہ زندہ کر دے گا۔
 نام روحانیت ہے!
اس ملک کے شہر گوجرانوالہ میں ایک شخص تین سو سے زائد خواتین کے ساتھ گھناؤنا کھیل ہی نہیں کھیلتا، وہ اس کی ویڈیو عکسبندی  کر کے خواتین کو بلیک میل بھی کرتا ہے۔
نام روحانیت ہے!
اب قصور کا یہ عمران کسی  پیر یا جن  کے کہنے پر تیرہ بچیاں درندگی کی نذر کر دیتا ہے۔ ان کی عفت لوٹتا ہے اور انھیں مسل کے رکھ دیتا ہے۔
نام روحانیت ہے!
اس ملک کے عوام ہی نہیں متعدد اعلٰی سیاستدانوں کی روحانیات کے نام پر احمقانہ حرکات بھی ریکارڈ پر ہیں۔ کسی نے وزیراعظم بننے کے لیے پیر سے ڈنڈے کھائے، کسی نے اپنے گھر تک گرا دئیے۔
نام روحانیت ہے!
جناب! آج آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں سب سے مقبول مارکیٹ، سب سے کارآمد کاروبار اور  ہر برائی کیلیے آڑ روحانیت کو بنا دیا گیا ہے۔ اس ملک کے ہر تیسرے شخص کو جادو جنات کا مسئلہ ہے۔ آپ اپنے سنڈے میگیزینز اٹھا کے دیکھ لیجئے، ان میں کالا جادو، بنگالی بابا اور پل بھر میں سب کر دینے  والوں کے اشتہارات دھڑلے سے چھاپے جا رہے ہیں۔
کوئی سوچنے کو تیار نہیں کہ روحانیات کے نام پر پوری قوم ایک مجرمانہ توہم پرستی اور غیر انسانی ضعیف الاعتقادی کا شکار کر دی گئی ہے، روحانیات کے نام پر یہ جرائم کے لامحدود منظم شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے۔ روحانیات کے نام پر یہ اخلاقی و مالی بدترین دلدل میں بھی دھنس چکی ہے۔
جناب اگر سچ پوچھیں تو وقت آگیا ہے کہ اس قوم کو جنسی تعلیم دینے کے بجائے روحانیت کے نام پر کھیلے جانے گھناؤنے کھیل کی تعلیم دی جائے۔ اس قوم کو ان کا اصل ایمانی سبق دوبارہ پڑھا کے ان میں مسلمانوں کی شان پیدا کی جائے۔ اس قوم کو کالے پیلے بابوں اورنیلے پیلے اشتہاروں سے بچانے کے قرآن اور اللہ سے جوڑا جائے۔
 اور جناب اس معاشرے کے لیے کینسر بن جانے والے اس کالے کاروبار  کے متعلق قانون سازی کرنے اور مجرموں کو بد ترین سزائیں سنانے کی بھی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں مجرم عمران ہی اگر اصلی مجرم ہے، اور اس نے واقعی کسی روحانیت کے زیر اثر آپ کا معاشرہ نوچا ہے تو قصور اس معاشرے کا ہے، جس نے روحانی بابوں کے نام پر جنسی بلے پال  رکھے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *