آپ کس کے ساتھ ہیں؟

faiza rasheed

فائزہ رشید

دنیا بھر میں جب پولیس کوئی پیچیدہ کیس حل کرتی ہے تو اسے انعام دیا جاتا ہے، شاباش دی جاتی ہے، حوصلہ افزائی کی جاتی ہے- یہی حوصلہ افزائی شہباز شریف نے بھی اپنی ٹیم کے لیے کی لیکن تنگ ذہن دماغوں نے فورا" نفرت کا نکتہ نکلا اور شور مچا دیا کہ زینب کی موت پر تالیاں بجائی گئی ہیں- شرم کریں اور دوبارہ سے پریس کانفرنس سنیں، کیا یہ تالیاں زینب کی موت پر بجائی گئی ہیں؟ اعتراض کرنے والوں کی اکثریت چونکہ پی ٹی آئی کی "بت پرست" ہے لہذا انہیں آگ لگی ہوئی ہے کہ زینب کیس اتنی جلدی کیوں حل ہوگیا- یہ کبھی مردان کی عاصمہ کی بات نہیں کریں گے، کبھی اس بارے میں واویلا نہیں کریں گے- انہیں صرف ن لیگ سے نفرت ہے چاہے وہ جتنا مرضی بہتر کام کیوں نہ کرلے- خان سے سوال ہوا کہ آپ نے مردان کی بچی کے لیے کیا کیا، جواب ملا ، آپ جیو کے رپورٹر ہیں مجھے پتا ہے- گویااس حساس موضوع پر صرف جیو کا "بے ضمیر" رپورٹر ہی سوال کرسکتا ہے ورنہ عمران خان کے سامنے کسی کی کیا مجال کہ وہ زینب کے علاوہ پختونخواہ کی کسی بچی کے بارے میں سوال کر سکے- یہ سارا حق عمران اور اس کے حواریوں کا ہے کہ وہ زینب قتل پر پنجاب حکومت کو گالیاں دیں، طعنے ماریں، سوالات کریں- یہی واقعہ اگر کے پی کے میں پیش آئے تو ان کی زبانیں کیسے بند ہوجاتی ہیں- شہباز شریف پر یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ انہوں نے زینب کے والد کا مائیک کیوں بند کیا- جناب عالی! کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے؟ زینب کے والد صاحب سارا دن مختلف چینلز پر آن ایئر رہتے ہیں، ہر بات کرنے میں آزاد ہیں، ایک پریس کانفرنس میں اگر انہیں بات نہیں کرنے دی گئی تو وہ کسی بھی چینل پر اپنی بات کرسکتے تھے- بائی دی وے ذہن میں رہے کہ شہباز شریف لیہ کے جلسے سے واپس آئے تھے، لاہور میں انہیں زینب کے قاتل کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور انہوں نے پریس کانفرس کی- ایک بندہ سارا دن کا تھکا ہوا ہو تواسے کم وقت میں بات ختم کرنا ہوتی ہے-تیسری بات یہ کہ داد کیوں دی گئی- جناب عالی! اخبارات میں ہم روز پڑھتے ہیں کہ پولیس نے فلاں قاتل کو گرفتار کرلیا جس پر ان کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا-خود ہماری فوج نے جب آپریشن ضرب عضب میں کامیابی حاصل کی تو ہلاک ہونے والوں بے گناہ پاکستانیوں کا سوگ بھی منایا اور کامیابی کا فخر بھی شیئر کیا-بات پھر وہی ہے، بعض لوگوں کو مرچیں لگی ہوئی ہیں کہ قاتل کا پکڑا جانا ن لیگ کی کامیابی ہے لہذا اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں اور ان معمولی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تاکہ حکومت یہ کریڈٹ نہ لے سکے- لیکن کریڈٹ تو مل چکا۔زینب کا قاتل پکڑا جاچکا-اب آپ طے کرلیں کہ آپ کی ہمدردیاں قاتل کے ساتھ ہیں یا قاتل کو پکڑنے والوں کے ساتھ-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *