عمران خان، سیاسی سفر کا امکانی انجام

saeed azhar (actual)

قومی سیاسی مستقبل کے تسلسل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے حالات تشویشناک حد تک قابل ذکر خدشات کی زد میں آچکے ہیں۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف اپنی مسلسل جدوجہد میں نظام کے بجائے ا فراد کو نشانہ بنایا، چنانچہ ’’ن‘‘ لیگ کے منتخب آئینی اقتدار کے ساڑھے چار برسوں سے زائد کے اس دورانیے میں افراد یقیناً متاثر ہوئے، نظام وہیں کا وہیں رہا، وہ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد، کے مصداق ایک لمحے کو کسی تبدیلی کا مظہر نہیں بن سکا، عمران خان کی انرجی البتہ نفسیاتی گتھیوں میں الجھ گئی ہے!
عمران خان اپنی ذات میں سخت جان مقدمہ ہیں مگر یہ انفرادیت اپنی جگہ تاہم عدم توازن کامیزانیہ ہر گھڑی اپنے نتائج مرتب کرتا رہتا ہے۔ عمران کے طرز فکر اور طرز عمل کا پہلا نتیجہ قومی پیمانے پر’’عہد فراموشی‘‘ یا مزید محتاط زبان میں کہہ لیں’’لاپروائی‘‘ کی عادت کو سامنے لایا ہے۔ ثبوت کے طور پر قریب قریب 10برس پہلے کی نہایت اہم ترین قومی مثال ریکارڈ پر لاتے ہیں!
4۔جون 2007کو تحریک انصاف کے چیئرمین نے ایم کیو ایم کے بانی کے حوالے سے تاریخی اقدام اٹھانے کا اعلان کیا۔ اس تاریخ اور اس برس پاکستان کے قومی اخبارات میں متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں عمران خان کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم کے دفتر میں چارج شیٹ جمع کرانے کی خبریں پوری صحافتی سنسنی خیزی کے ساتھ شائع ہوئیں!ہنگامہ برپا ہوگیا۔ عمران خان بلاشبہ وہ’’حریت پسند مجاہد‘‘ کہلائے جنہوں نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کےقلعے پر دن کی روشنی میں دھاوا بول دیا تھا۔ 4۔جون 2007کو تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے لندن میں برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا۔ تحریک انصاف کے اقبال عمر چیمہ، شاہد دستگیر، اکرم دریجو اور مصدق خان نے برطانوی وزیر اعظم کے دفتر میں ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف چارج شیٹ جمع کرائی، ان دس برسوں کے بعد بھی یہ حضرات تحریک انصاف کے کارکن ہیں یا نہیں؟ افسوس اس بارے میں میں آپ کو اپ ڈیٹ رکھنے سے معذور ہوں۔
10۔ڈائوننگ اسٹریٹ میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو پیش کردہ اس چارج شیٹ میں بانی ایم کیو ایم کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے‘‘ کا مطالبہ بلکہ ہدایت کی گئی تھی، اس وقت عمران خان نے ٹونی بلیئر کے دفتر میں ایک پٹیشن بھی دائر کی، برطانیہ میںموجود ایک بیرسٹر صاحب کواس مقدمہ میں اپنا وکیل بھی مقرر کردیا۔
عمران خان لندن سے واپس پاکستان آگئے، ایک عرصہ بعد تحریک انصاف کے ایک رہنما فیصل واوڈاجیو ٹی وی ٹی کی اسکرین پر کہہ رہے تھے ’’ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف پیش کردہ شواہد دیکھ کر اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران حیران رہ گئے، بقول ان کے’’وہ اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ دو گھنٹے تک اسکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام کو حیران کرتے رہے‘‘۔ لندن میں اپنے قیام کے دوران میں کسی پاکستانی سے دو گھنٹے تک ملاقات،پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
2007میں عمران خان کا لندن جاکر پاکستان کی خاطربانی ایم کیو ا یم کے خلاف ’’جہاد‘‘ کی اس للکار کو دس برس سے زائد ہونے کو ہیں، لیکن کون سے بانی ایم کیو ایم ، کون سے فیصل واڈا، کون سا اسکاٹ لینڈ یارڈ، کون سا وکیل؟ حتیٰ کہ کون سا عمران خان؟
قومی سیاست کے میدان میں عمران خان نے ذاتی اپروچ کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے عہد کی پاسداری کے حوالے سے لاپروا رویے کا اصول روا رکھا، محسوس ہوتا ہے وہ اپنے ذاتی شخصیاتی کرشمے کے تناظر میں ناقابل تلافی نقصانات کا اندازہ نہیں لگا سکے، عمران خان کا یہ لاپروا رویہ ان کی شخصی پہچان کا مقام حاصل کرچکا ہے!
واقعہ کو گو عرصہ دراز ہوچکا، باوجود اس کے عمران کے اس ’’لاپروا رویے‘‘ نے انہیں پاکستان کی قومی تاریخ کے ایک المیے میں قومی ناپسندیدگی کی رائے کا حامل بنادیا۔ یہ کہ وہ صف اول کے غالباً واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جو بی بی کی شہادت پر ان کے پسماندگان سے تعزیت کرنے نہیں گئے۔ ضروری نہیں عمران کو اس واقعہ کی حقیقت یا اس کے غیر اخلاقی پن کی انتہا سے متفق کرنے پر وقت ضائع کیا جائے، کہ عرصہ دراز گزرنے کے باوجود قومی معاملات میں ’’ذات کی برتری‘‘ کا’’لاپروا رویہ‘‘ عام پاکستانی نہیں بھولا، وہ آج بھی اس سلسلے میں اگر مکمل جنونی ہے تب بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گویا اسے اس واقعہ میں عمران کی مذمت کئے جانے سے کوئی اختلاف نہیں!
بلاشبہ عمران خان’’ مسٹر کلین‘‘ ہوں گے، ہوں گے کیا موجودہ سیاستدانوں کی لاٹ میں انہیں سب سے زیادہ ’’مسٹر کلین‘‘ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو، اب یہ ان کی سیاسی بدقسمتی یا سیاسی محرومی کا بھیانک باب ہے جس کے ہر صفحے نے ان کے ساتھ ملکی سیاست میں "Establishment" کے مہرے کا "Perception" چپکا دیا ہے، ایسی چپکاہٹ جس کی موجودگی میں وہ’’مسٹرکلین‘‘ کے دعوے پر لوگوں کی ذومعنی مسکراہٹوں کا سلسلہ نہیں روک سکتے۔
آصف علی زرداری نے عمران خان کو عوامی سطح اور پارلیمنٹ میں’’اخلاقی سوال‘‘ بنادیا ہے، پارلیمنٹ یا پارلیمنٹرین کے لئے ان کی جانب سےلعنت کی اصطلاح نے انہیں عوامی سیاسی قوت فراہم کرنے کے بجائے، لوگوں کو خواجہ آصف کے ریمارکس’’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘‘ کی واقعتاً یاد دہانی کرادی ہے۔
’’ن‘‘ لیگ کی منتخب آئینی حکومت کی تمام حرکات کے باوجود ساڑھے چار برس سے زائد مدت ہوجانے اور عدالت عظمیٰ کے نواز شریف کے خلاف فیصلے کے باوجود، عمران خان کی ’’ن ‘‘ لیگ اور نواز شریف کے خلاف تمام تر ساری مہم جوئیوںکے علی الرغم ان کی سیاسی وکٹ ’’ن‘‘لیگ اور نواز شریف کے ہاتھوں نشانے پر ہے، نواز شریف تاریخی طور پر اسٹیبلشمنٹ کا’’تعارف‘‘ ہونے کے باوجود آئینی جمہوری بالادستی کا مزاحمتی استعارہ اور عمران خان کو’’ مہرے‘‘ کے عوامی تاثر سے دوچار ہونا پڑا۔
آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی جمہوری تسلسل کے ساتھ کمٹ منٹ کے اعلانات سے عمران کی سیاسی مہم وہ قوت سو فیصد کھو چکی جس میں اقتدار کی متوقع جھلکیاں دکھائی دینے سے اب قومی انتخابات کے مرحلے میں فیصلہ کن اعتماد کے ساتھ داخل ہوتے ہیں، آپ دیکھیں گے اب عمران انتخابی میدان میں نفسیاتی پسپائی کے ساتھ اتریں گے۔
موجودہ منتخب حکومت کے آئینی مدت مکمل کرنے، آئین کے تحت نگران حکومتوں کا قیام اور پھر اسی آئینی تسلسل میں قومی انتخابات کا انعقاد ، عمران خان کے سیاسی سیلاب کو حددرجہ گدلا اور بھاری کرچکا ہوگا، تحریک انصاف کے متوقع اقتدار کی منزل کا فاصلہ شاید ہی طے ہوسکے۔
باقی اللہ بہتر جانتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *