کچھ 1977ء والے حالات بنتے جا رہے ہیں!

ayaz amir

جنرل ضیاء الحق اور اُن کے ساتھی جرنیلوں نے جب ذوالفقار علی بھٹو کو جولائی 1977ء میں اقتدار سے ہٹایا تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ بھٹو کی سیاسی قوت ختم ہو جائے گی۔ شروع میں یہ اندازے درست بھی سمجھے گئے کیونکہ اُن کی معزولی پہ ملک میں سناٹا چھا گیا اور اُن کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے واجبی سا احتجاج بھی نہ ہوا۔ لیکن رہائی پانے کے بعد عوامی لہر اُن کے حق میں پھر سے اُبھری اور جب وہ لاہور آئے تو یوں لگا کہ سارا شہر اُن کے استقبال کیلئے اُمڈ آیا ہے۔
جنرل ضیاء اور اُن کے رفقاء گھبرا گئے۔ فوجی پلاننگ میں بھٹو کی دوبارہ پذیرائی کا نہیں سوچا گیا تھا۔ نوّے دن میں انتخابات کا وعدہ جنرل ضیاء نے قوم سے کیا تھا۔ نئی صورتحال میں انتخابات کا انعقاد اقتدار پہ قابض جرنیلوں کیلئے مہلک ثابت ہوتا۔ بھٹو صاحب سے منسوب یہ الفاظ بھی پھیل چکے تھے کہ فلاں کی مونچھوں کو میں تسمے بناؤں گا۔ جرنیلوں کے سیاسی حمایتی‘ جو نو جماعتی پاکستان قومی اتحاد کی چھتری تلے جمع تھے‘ بھی ڈر گئے تھے۔ اُن میں سے چند چوٹی کے رہنماؤں نے انتخابات کے التواء کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ فوری انتخابات نہ تو جرنیلوں کے وارے میں تھے اور نہ ہی قومی اتحاد کے لیڈروں کے۔
بہانے تراشے جانے لگے۔ جنرل ضیاء نے پہلے اعلان کیا کہ احتساب ضروری ہے۔ پھر اسلام کا پرچم بلند کر دیا اور اعلان کیا کہ ملک کو اسلامائزیشن کی ضرورت ہے۔ انتخابات التواء کا شکار ہوئے اور نئی تاریخ اکتوبر 1979ء کی دی گئی۔ تب کے بڑے بھٹو مخالف لیڈر مرحوم ایئر مارشل اصغر خان تھے۔ اُنہیں اتنا یقین تھا کہ وہ اگلے وزیر اعظم ہوں گے کہ اُن کی جماعت تحریک استقلال اپنی کابینہ کے بارے میں سوچ بچار کرنے لگی۔ اُس وقت لاہور کے ایک صنعت کار گھرانے کے چشم و چراغ، محمد نواز شریف، بھی تحریک استقلال کے سرگرم کارکن تھے۔ جنرل ضیاء ایئر مارشل کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ اچانک ماہ ستمبر میں جنرل ضیاء نے سب کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا جب اعلان کیا کہ پہلے اسلام کا نفاذ لازم ہے اور اگلے ماہ کے انتخابات ملتوی کیے جا رہے ہیں۔ ایئر مارشل اصغر خان کو اُن کے ایبٹ آباد گھر میں نظر بند کیا گیا‘ جہاں وہ اگلے پانچ سال گزرے وقت کی یادوں میں گم رہے۔
2017-18ء کا پاکستان 1977ء والا پاکستان نہیں۔ نہ نواز شریف ذوالفقار علی بھٹو اور نہ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل ضیاء الحق ہیں۔ لیکن1977ء کے حالات سے ایک مماثلت پائی جاتی ہے۔ جب نواز شریف سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار پائے اور اُنہیں وزیر اعظم ہاؤس چھوڑنا پڑا تو اُمید کے مارے حلقوں میں یہ خیال عام تھا کہ نواز شریف کی سیاست جلد ختم ہونے کو ہے اور (ن) لیگ کو اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔ نااہلی کی چوٹ نواز شریف نے سہہ لی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان کی پارٹی مرکز اور پنجاب میں برسر اقتدار ہے اور وہ خود اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں جو آئے روز کھلے عام ججوں پہ اور اشارتاً جرنیلوں پہ تنقید کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ساری اُنگلیاں گھی میں ہیں، اقتدار کا مزہ اور اپوزیشن لیڈر کا بھی تڑکا۔
وزیر اعظم تھے تو پانامہ پیپرز کی رُسوائی کا سامنا تھا۔ آئے روز صفائیاں پیش کرنا پڑ رہی تھیں اور (ن) لیگ کے بینڈ باجے والے بریگیڈ کا اور کوئی کام نہ تھا سوائے مائیکروفونوں کے سامنے اور ٹی وی چینلوں پہ آکے شریف خاندان کی معصومیت اور پارسائی کے گُن گانے کے۔ سیاسی اور ذہنی طور پہ (ن) لیگ مفلوج ہوکے رہ گئی تھی۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ نااہلی اور اپوزیشن لیڈر کا درجہ حاصل کرنے کے بعد نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز میں نئی جان آگئی ہے۔ جہاں پہلے کہنے کوکچھ نہ تھا اب جمہوریت کا ورد قوم کو سُناتے نہیں تھکتے۔ میڈیا کے سر سے بھی پانامہ کا بخار اتر چکا ہے۔ قطری خطوط جیسے لطیفے عوامی حافظے میںدھندلا چکے ہیں۔ نتیجتاً جس قیادت سے منسوب کرپشن کی کہانیاں عام ہو چکی تھیں اور جس خاندان کا موازنہ جناب آصف علی زرداری کے کارناموں سے کیا جانے لگا تھا‘ بہت حد تک ڈرائی کلین ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بدنامی اور رسوائی کا تصور‘ دونوں جمہوریت کے بیانیے کے نیچے دبے جا رہے ہیں۔
سونے پہ سہاگہ دیگر پارٹیوں کے حالیہ مال روڈ پہ مشترکہ جلسے نے کر دیا۔ لیگیوں میں نئی جان آگئی ہے۔ خادمِ اعلیٰ کو موقع ملا‘ یہ کہنے کا کہ مال روڈ پہ پاکستان کے سارے مسخرے اکٹھے ہوئے تھے اور عوام نے اُنہیں نااہل کر دیا۔ ایک بات واضح ہے۔ (ن) لیگ میں کوئی گروپنگ نہیں ہوئی۔ شہباز شریف اور خاص طور پہ حمزہ شہباز نے پَر ہلانے کی کوشش کی تھی اور حمزہ شہباز نے یہاں تک کہہ دیا کہ ٹکراؤ کی پالیسی کے بارے میں تایا جان کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب باپ بیٹے کا جوش تھوڑا کم پڑ چکا ہے اور (ن) لیگ کی طرف سے کوئی بات کر رہے ہیں تو وہ نواز شریف ہی ہیں۔ نثار علی خان بھی کچھ چوں چرا کے بعد چپ کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ اُن کا اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کرنے کا سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے۔ لگتا ہے جناب پرویز رشید ان کیلئے مختص کر دئیے گئے ہیں‘ اور آپس میں دونوں لیڈران بچگانہ بیان بازی میں لگے ہوئے ہیں۔ کابینہ میں صرف ریاض پیرزادہ تھے جنہوں نے بڑھک ماری کہ بہتر ہو گا اگر شہباز شریف پارٹی قیادت سنبھالیں۔ ان کا ساتھ کسی نے نہ دیا اور اب وہ بھی اپنی کہی بات پہ پچھتا رہے ہوں گے۔ حسب سابق پارٹی پہ مکمل کنٹرول نواز شریف کا ہی ہے اور شہباز شریف پرانی تنخواہ پہ پنجاب میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے خواب شہباز شریف ضرور دیکھ رہے ہیں لیکن ہونٹوں اور پیالے میں کافی کچھ حائل ہے۔
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اگر پانامہ کی ساری جَھک مارنے کے بعد یہ اندیشہ لاحق ہو چکا ہے کہ (ن) لیگ انتخابات میں بڑی پارٹی کی حیثیت سے پھر سے اُبھر سکتی ہے تو فیصلہ کرنے والے انتخابات کا رسک لیں گے؟ آئین کیا کہتا ہے یہ بالکل صاف اور واضح ہے۔ حکومت کی ٹرم ختم ہونے کے بعد انتخابات کے سوا کوئی اور راستہ اور چارہ نہیں۔ لیکن ہماری تاریخ کا سبق ہے کہ جن کے پاس طاقت رہی انہوں نے طاقت استعمال کرتے وقت کم ہی آئین کا مطالعہ کیا۔ 1977ء میں بھی آئینی راستہ واضح تھا لیکن تب کے جرنیلوں نے درپیش حالات کو سامنے رکھتے ہوئے آئین کو ایک طرف رکھ دیا اور وہی کیا جو اُنہوں نے اپنے مفاد میں بہتر سمجھا۔ اُن کے کیے گئے فیصلوں کے نتائج قوم کو دس سال بھگتنے پڑے۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ نواز شریف اُنہی فوجی مشقوں اور تجربات کی پیداوار ہیں‘ لیکن یہ ایک الگ داستان ہے۔ اب حقیقت کچھ اور ہے۔ فوجی پیداوار ہونے کے باوجود اُن کی سیاست فوجی تصورات کے مدمقابل ہے۔
تو کیا ہونے جا رہا ہے؟ یہ کہنا کہ پاکستان فلاں چیز کا متحمل ہو سکتا ہے اور فلاں کا نہیں‘ بیکار کی باتیں ہیں۔ قتل کے مقدمے میں ذوالفقار علی بھٹو جب سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو اُنہوں نے بہت کہا کہ 1977ء کی بغاوت کے بعد پاکستان کو سنگین آئینی بحران کا سامنا ہو گا۔ بینچ کی اکثریت نے اُن کی باتوں کو بڑے تحمل سے سُنا اور پھر وہی فیصلہ دیا جو جرنیل چاہتے تھے۔ اُن دنوں پاکستان کی معاشی حالت آج کی نسبت ابتر تھی۔ خزانہ خالی تھا اور بیرونی دنیا جنرل ضیاء کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتی تھی۔ نام نہاد افغان جہاد نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا اور مغربی دُنیا کے جنرل ضیاء کے بارے خیالات بدل گئے۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے؟ کیا 1977ء کا ری پلے ہونے والا ہے؟ موجودہ سیاسی بحران کی اصلیت ہی یہ ہے کہ ایسے سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *