امریکہ اور پاکستان کو آگے کا سوچنا چاہیے

1

مدیحہ افضل

پاکستان کی ملٹری اور سکیورٹی امداد کی معطلی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور اہم فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس امداد کی بحالی کے لیے امریکہ نے یہ شرط رکھی ہے کہ پاکستان ان حقانی اور طالبان گروپوں کے خلاف کاروائی کرے جو پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں سے افغانستان اور امریکی افواج پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ امریکہ کو پکا یقین ہے کہ پاکستان اپنا کردار موثر انداز سے نہیں نبھا رہا اس لیے یہ امداد روکی گئی ہے۔  ایک با اختیار ملک امریکی صدر کی دھمکیوں کے سامنے چپ سادھ لے گا یہ سوچنا ایک حماقت ہو گی۔ جس ٹرمپ نے سر عام پاکستان کے بار ے میں واہیات الزام لگا کر ملک کو بدنام کر کے رکھدیا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے امداد معطل کر دینے کے فیصلے سے پاکستان کے ایک بیانیہ کو تقویت ملی ہے۔ وہ یہ کہ امریکہ بے وفا اور دھوکہ باز ملک ہے۔ پاکستانی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ انہیں استعمال کر رہا ہے اور جب اس کا فائدہ نہیں ہوتا تو وہ پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔  میں نے بہت سے پاکستانیون کو ایسا کہتے خود سنا ہے جب میں اپنی کتاب لکھ رہی تھی: **Pakistan Under Siege: Extremism, Society, and the State." ** ایک طالب علم نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم امریکی غلام ہیں۔  یہ یقین دلانے کے لیے کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے پاکستانی 1980 کی دہائی کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں جب امریکہ نے پاکستان کو مجاہدین کے ذریعے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے کا ٹاسک دیا۔ اس موقع پر ہزاروں افغان اور دوسرے ممالک کے مجاہدین پاکستان میں گھس آئے۔ ان جہادیوں نے بعد میں پاکستان طالبان کا گروپ بنا لیا اور پاکستان پر ہی حملے شروع کر دیے اور ہزاروں پاکستانی مرد، خواتین اور بچوں کو ابدی نیند سلا دیا۔ اصل میں اس کی زیادہ تر ذمہ داری پاکستانی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔  لیکن پاکستان طالبان کا کہنا تھا کہ وہ صرف پاکستان کے خلاف اس لیے لڑ رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے۔ بہت سے پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی مداخلت اور پاکستان کے ذاتی مسائل کے بیچ ایک واضح لکیر ہونی چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ کی نصابی کتاب میں لکھا ہے: پاکستان نے امریکہ کی افغان جنگ میں مدد کی لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوا۔  امریکی انتظامیہ اس بات کا تو اقرار نہیں کرتی کہ 1980 کے دور کی خفیہ جنگ کس حد تک ان کے لیے علاقائی مسائل کا باعث بنی ہے لیکن وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی جانیں قربان کی ہیں اور پاکستان اور امریکہ ایک لمبے عرصے سے بہت اہم پارٹنر ہیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ ایک مختلف سوچ رکھتی ہے۔ اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ پاکستانی شہری امریکہ کے خلاف بپھرے ہوئے ہیں۔ اینٹی امریکہ جذبات پاکستان میں کوئی نئے نہیں ہیں۔ لیکن پاکستان میں عوام کے امریکہ کے بارے میں احساسات بدلتے رہتے ہیں۔ جب امریکہ کسی معاملے پر پاکستان کی سختی سے مخالفت کرتا ہے تو عوام بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔ تین واقعات جو 2011 میں پاکستان میں پیش آئے اس کے بعد پاکستانی عوام امریکہ سے ناراض ہی دکھائی دیئے ہیں۔ پہلا واقعہ ایبٹ آباد آپریشن تھا دوسرا 24 پاکستانی فوجیوں پر ڈرون حملہ تھا اور تیسرا ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ تھا۔ پاکستانی سیاستدانوں نے بھی ٹرمپ کے الفاظ پر سخت رد عمل دیتے ہوئے اسے امریکہ کی طرف سے دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے لیے امریکہ نہ تو اتحادی ہے اور نہ ہی دوست۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان نے بھی امریکہ سے علیحدگی کا راستہ تجویز کیا۔ اسلامسٹ اور بنیاد پرست گروپوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے اور امریکہ کے جھنڈے اور امریکہ لیڈر شپ کے پتلے نذر آتش کیے۔ اس سال پاکستان میں جنرل الیکشن ہونے والے ہیں۔ نوازشریف کی نا اہلی کے فیصلہ کے بعد حکمران پارٹی کمزور پڑ چکی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ تعاون سیاسی طور پر نامناسب اور نا پسندیدہ مشق ہو گی۔ امریکہ مخالف جذبات صرف پاکستان اور امریکہ کے بیچ تعاون پر ہی اثر انداز نہیں ہو رہے بلکہ ملک میں شدت پسندی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ مذہبی بنیاد پرست اور ملی ٹینٹ گروپ امریکہ مخالف جذبات کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے عوام کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔  امریکہ کو حقانی نیٹ ورک کی پریشانی جو لاحق ہے وہ پاکستانی شہریوں کےلیے بہت کنفیوژن کا باعث ہے کیونکہ پاکستنانی عوام کو نہ تو یہ ملی ٹینٹ کہیں نظر آتے ہیں، نہ ان پر حملے حقانی نیٹ ورک کی طرف سے ہوتے ہیں، اور ریاست بھی یہی رٹ لگائے رکھتی ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں اس لیکن عوام کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ امریکہ کس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج نے پاکستانی طالبان کے خلاف بہت سے آپریشن کیے ہیں لیکن حقانی گروپ اور بھارت مخالف شت پسند گروپوں کو آزاد چھوڑے رکھا ہے۔ امریکہ کی پاکستان پر عدم اعتماد کی وجہ یہی ہے کہ امریکہ کو لگتا ہے ک پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کچھ انتہا پسندوں کو افغانستان میں اپنی سٹریٹجک پوزیشن مضبوط رکھنے کےلیے اپنے اہم اثاثے سمجھتی ہے۔ یہ بد اعتمادی وقت کےساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ لیکن پاکستان کے کچھ جمہوری طریقے سے منتخب حکمرانوں نے اس بات کا کھلے عام اظہار کیا ہے کہ ملی ٹینٹ گروپوں کی حمایت پاکستان پر بوجھ بنتی جا رہی ہے کیونکہ اس وجہ سے پاکستان کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا ہے۔  امریکہ اس معاملے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور یہ پاکستانی شہریوں کو یہ سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے کہ مذہبی شدت پسند گروپ اپنی ترجیحات اور اتحادی بہت تیزی سے بدلتے ہیں اور اس طرح یہ پاکستان کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے 3 جنوری کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہو گا۔ نواز شریف خود ملٹری ڈکٹیٹر ضیا الحق کے منظور نظر بن کر سیاست میں آئے تھے لیکن لگتا ہے کہ اب ان کا نظریہ بدل چکا ہے اور وہ سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ 2016 میں شریف کی حکومت کے فوج سے اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب کہ خبر سامنے آئی کہ انہوں نے فوج پر دباو ڈالا ہے کہ بھارت مخالف اور افغانستان مخالف شدت پسند گروپوں کو ایجنسیوں کی طرف سے تعاون روکا جائے۔ اس اختلاف کے بعد نواز شریف حکومت کمزور پڑتی گئی اور کچھ ماہ بعد ہی کرپشن کے الزامات پر نواز شریف کو حکومت سے علیحدہ کردیا گیا۔  جب امریکہ کی سویلین حکومت اور پاکستانی ملٹری کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ امریکہ کا لیوریج بہت محدود ہے اور یہ پاکستانی ملٹری کو تعاون سے انکار پر آمادہ کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت ملک کی سکیورٹی پالیسیاں فوج کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی طاقتور فوج کے ساتھ پچھلے کئی دہائیوں سے تعاون کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ سٹیٹس کو سے آگے بڑھنے کے لیے اس نظام کو بدلنا ہو گا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو فوج کو سکیورٹی ایڈ تو معطل کی جا سکتی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ امریکہ پاکستان کی سویلین حکومت کے ہاتھ مضبوط کرے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی اور ملٹری اسسٹنٹ کو مکس نہ کرے اور ملک کو سویلین سپورٹ مہیا کرتا رہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ غٰیر مشروط مالی سپورٹ کی وجہ سے پاکستان کا امریکہ سے رویہ بہتر ہوتا رہا ہے۔ اگر پاکستان سے کسی قسم کے تعاون کی توقع رکھنی ہے تو پاکستانی عوام کے ساتھ جڑنا ہو گا۔ صبر کا
دامن بھی تھامے رکھنا ہو گا۔ پاکستان کے **incentive** کو ری الائن کرنا ایک طویل المدتی منصوبہ ہے اور یہ صرف پاکستان کے سویلینز کی مدد سے مکمل ہو سکتا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *