اس کا پسندیدہ سرخ سویٹر اوربھیا

2

فاطمہ رضا

میرا سویٹر سرخ ہے اورمیری شلوار بلیو ہے۔ میری چوڑیاں چمکدار ہیں اور جوتے نئے ہیں۔ میرے دانت صاف ہیں اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی ہے۔ میں باہر جاکر کھیلنا چاہتی ہوں اور سب کو اپنے نئے جوتے دکھانا چاہتی ہوں۔ لیکن ماں کہتی ہے باہر مت جانا وہاں جانور گھومتے ہیں۔ مجھے کوئی جانور نظر نہیں آتے صرف ایک اچھا انسان نظر آتا ہے جسکے پاس بہت سی مٹھائیاں ہیں۔ میں ماں کو بتاتی ہوں کہ جانور جنگل یا چڑیا گھر میں ہوتے ہیں۔ اور اگر میں اسے اچھی لگی تو یہ اچھا انسان مجھے وہاں لے جائے گا۔  وہ صبح صبح موٹر بائیک کے انجن کی آواز سے بیدار ہوئی۔ اندر سے آواز آئی ۔
ابا جا رہے ہیں۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔  وہ بھاگ کر باہر آئی اور ابا سے کچھ بات کہنے کی خواہش ظؓاہر کی ۔ ماں نے کہا: دھیان سے چلو فرش گیلا ہے۔ ماں فرش دھو رہی تھیں۔ وہ والد کے پاس پہنچی تو ان کی بائیک اب سٹارٹنہیں ہو پارہی تھی۔ وہ تیزی سے والد کے پاس پہنچی تو وہ بہت حیران رہ گئے اسے اس حالت میں بھاگتا دیکھ کر۔ وہ بولی: ابا آج تو آپ نے چڑیا گھر للے جانا تھا کام پرکیوں جا رہے ہیں؟ وہ اپنے والد کے اس رویہ پر پریشان تھی کہ وہ اپنا وعدہ بھول گئے تھے۔  ابا نے جواب دیا: پتر مجھے یاد ہے لیکن ابھی تو اتنی صبح ہے ادھر شام کو جائیں گے۔ میں آج جلدی آجاونگا نا۔ کاکے کو بھی لے جائیں گے ساتھ۔ وہ بائیک سے اترے اور بیٹی کو اٹھا لیا۔ اس کو گال پر پیار دیا اور یقین دلایا کہ وہ آج ضرور اسے چڑیا گھر لے جائیں گے۔  اس نے ابا کی بات مان لی۔وہ ایک ہفتے سے اس دن کا انتظار کر رہی تھی اور ابا نے وعدہ کیا تھا کہ اتوار کے روز وہ اسے لے جائیں گے۔ اس نے ابو کو اللہ حافظ کہا اور اپنی ماں کے پاس چلی گئی جو اسے بلا رہی تھیں۔ ناشتہ کرنے کے بعد زارا اپنا ہوم ورک کرنے لگی اور بار بار گھڑی پر دیکھتی کہ کب 6 بجیں اور وہ چڑیا گھر جا سکیں۔  ریڈ والا سویٹر نکالو نا اماں۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا جو گھر کے کام میں مصروف تھی۔ یہ اس کا فیورٹی سویٹر تھا جو اس کی خالہ نے اسے 8 ویں سالگرہ پر دیا تھا۔ وہ آئے روز یہ سویٹر پہنے رکھتی۔ ماں اسے منع کرتی کہ یہ اتنا زیادہ پہننے سے جلدی پھٹ جائیگا لیکن وہ ماں کو کہتی یہ ریڈ اس کا پسندیدہ کلر ہے۔  ماں نے جواب دیا: میرے بچے اس میں ٹھنڈ لگے گی۔ یہ پتلا سا ہے۔ کچھ موٹاپہن کے جانا۔ آج بہت سردی ہے۔ لیکن زارا کی ضد تھی کہ وہ ریڈ سویٹر ہی پہنے گی۔  وہ روزانہ جب گلی میں کھیلنے جاتی تو وہ ریڈ سویٹر پہن لیتی۔ اس نے زارا کو بتایا تھا کہ اسے اس کا ریڈ سویٹر بہت پسند ہے۔ شاید اسی لیے وہ باہر جانے سے پہلے وہ سویٹر پہننے پر اصرار کرتی تھی۔ وہ بیٹھی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ایک بار اس نے اپنی ماں کو اس اچھے بھیا کےبارے میں بتایا تھا جس نے زارا کو اس وقت اٹھایا جب وہ ہاپ سکاچ کھیلتے ہوئے گر گئی تھی۔ اس کی ماں نے کہا تھا
کہ تم اس بھیا کا شکریہ ادا کرنا اور آئندہ دھیان سے کھیلنا۔ لیکن جب زارا نے بھیا کو بتایا کہ اماں نے شکریہ ادا کرنےکا کہا ہےتو بھیا کو یہ اچھا نہیں
لگا۔  میں تمہارا دوست ہوں اماں کا تو نہیں پھر ان کو کیوں بتایا؟ میری تم سے کٹی۔ اب چاکلیٹ نہیں لایا کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ زارا نے پریشان ہو کر وعدہ کر لیا کہ وہ کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتائے گی۔  پھر سے پکے ہو جائیں؟ ہم دوست ہیں نا؟  وہ ہر روز اس سے ملنے لگی۔ وہ گلی کےکونے میں اپنی بائیک پر بیٹھا ہوتا اور کبھی لڑکوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلتا تھا۔ جب وہ ہاتھ ہلاتا تو زارا بھاگ کر اسکے پاس جاتی۔ وہ اسے چاکلیٹ اور ٹافیاں دیتا تھا۔ اس کے پاس زارا کی پسندیدہ مٹھائیاں اور چاکلیٹس اکثر موجود ہوتیں۔ زارا زیادہ دیر اسکے ساتھ نہیں رکتی تھی کیونکہ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہتی یا پھر مٹھائیاں کھا کر بور ہو جاتی اور واپس چلی جاتی۔  ایک دن اس نے زارا کو ایک نئے چڑیا گھر کے بارے میں بتایا جو قریب ہی تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نے پیشکش کی کہ وہ زارا کو وہاں لے کر جائے گا۔ اس نے اس سے پہلے اس بار میں نہیں سنا تھا۔ اسے اب پتہ چلا تھا کہ وہ کتابوں پر جن جانوروں کی تصاویر دیکھتی ہے وہ سب اصلی شکل میں چڑیا گھر میں موجود ہوتے ہیں۔  اس نے زارا کو بتایا تھا: وہ ادھر رہتے ہیں۔ ببر شیر اور اسکے بچے، بندر اور ہاتھی بھی۔ یہ سن کر زارا بہت پر جوش ہو رہی تھی۔ اس کی دلچسپی بڑھ رہی تھی۔ وہ بولی: میں ابا کو کہوں گی میں نے بھی جانا ہے چڑیا گھر دیکھنے۔  وہ نہیں لے جائیں گے تمہیں۔ پوچھ کر دیکھ لینا۔ وہ رات تک کام پر ہوتے ہیں۔ میں لے جاوں گا تمہیں۔ جانا ہے؟ اس نے کہا۔ زارا نے پر جوش ہو کر ہاں میں سر ہلا دیا۔ لیکن اس نے زارا سے ایک وعدہ لیا کہ وہ کسی کو اپنی دوستی کے بارے میں نہیں بتائے گی تو ہی وہ اسے لے کر جائے گا۔ زارا نے وعدہ کیا اور خوشی خوشی اکلئیر ٹافیاں کھاتے ہوئے گھر چلی گئی۔  اس کے بعد کئی دن تک بھیا واپس نہیں آیا۔ زارا ہر روز اس کا انتظار کرتی لیکن کافی دن تک کوئی نہ نظر آیا۔ پریشانی کے عالم میں زارا نے فیصلہ کیا کہ وہ ابا کو کہے گی کہ وہ اسے چڑیا گھر لے جائیں۔ پت جی لے جاوں گا۔ کسی دن دکان جلدی بند کر کے آ جاوں گا جلدی۔ اس کے والد نے بتایا لیکن ان کے لیے ایسا کرنا مشکل تھا۔  پھر وہ اتوار کا دن آ گیا جس دن کا ابا نے اسے چڑیا گھر لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ زارا اپنا ریڈ سویٹر پہن کر بیٹھی ابا کا انتظار کر رہی تھی۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا جب وہ اٹھ کر دروازے پر دیکھنے گئی۔ اس کی ماں کچن کے کاموں میں مصروف تھیں اور چھوٹا بھائی سو رہا تھا۔ گلی کے کونے پر ہی ابا کو روک لوں گی اور وہاں سے چلے جائیں گے ہم چڑیا گھر۔ اس نے سوچا۔  اس نے دروازہ کھولا اور چپکے سے باہر نکل گئی۔ باہر نکل کر اسے معلوم ہوا کہ شام تو پڑ چکی ہے اور اندھیرا پھیل رہا ہے۔ زارا خوف کی حالت میں مڑی اور اپنے گھر کی روشنی میں جانے لگی تو پیچھے سے آواز آٗئی: زارا، بھیا کی جان۔ یہ
وہی تھا۔ زارا خوشی سے بھاگ کر اس کی طرف چلی گئی۔ ابا نہیں آئے نا؟ اس نے پوچھا۔ زارا نے نفی میں سر ہلایا۔ اس نے زارا کو اٹھایا اور اپنے بائیک کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا۔ پھر بولا: میں ابھی چڑیا گھر لے جاتا ہوں تمہیں۔ ادھر سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ پہلے زارا نے سوچا کہ واپس جا کر ماما سےپوچھ لیتی ہوں لیکن تبھی انجن سٹارٹ ہوا اور چڑیا گھر جانے کی خوشی نے زارا کو سب بھلا دیا۔  جب وہ چڑیا گھر پہنچے تو زارا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے چمکتی ہوئی لائیٹیں دیکھیں اور سامنے ایک بورڈ بھی دیکھا جس پر لکھا تھا خوش آمدید۔ وہاں بہت سے غبارے بھی لٹکائے گئے تھے اور لوگ ہجوم کی شکل میں اندر جا رہے تھے۔ وہ بھی بہت جلد اندر جانا چاہتی تھی۔ لیکن جب وہ ہجوم کی طرف بڑھی تو بھیا نے اسے روک لیا۔ کیوں کیا ہوا بھیا؟ ہم بھی اندر چلتے ہیں نا؟ اس نے زارا کا ہاتھ پکڑا اور بولا: مجھے ایک سیکرٹ راستہ پتا ہے وہاں سے ہم جلدی اندر چلے جائیں گے اور وہاں بندر بھی ملیں گے تمہیں۔ زارا جلد از جلد اندر جانا چاہتی تھی اور بھیا کہہ رہا تھا کہ وہ اسے بندر دکھائے گا۔ وہ بولی: چلیں بھیا، پھر ہم مور بھی
دیکھیں گےنا؟  ہاں بیٹا، بلکل۔ یہ کہہ کر اس نے زینب کا ہاتھ زور سے پکڑا اور ایک گلی میں نکل گیا۔  اندھیرا گہرا ہوتا گیا اور وہ اس گلی میں چلتے گئے۔ بھیا اور کتنی دیر میں پہنچیں گے؟ اس نے پوچھا: بس تھوڑا اور۔ اس لڑکے نے جواب دیا اور اسے مزید جکڑ کر پکڑ لیا۔ اب اسے اپنی سویٹر میں سردی اچانک لگنا شروع ہو گئی تھی۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب ماں نے کہا تھا کہ کچھ موٹا پہن لو۔ وہ سوچنے لگی: اماں کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ بہت ٹھنڈ ہے یہاں تو۔ زارا نے پیچھے دیکھا تو ہر طرف اندھیرا تھا اور کوئی چیز اسے نظر نہیں آ رہی تھی۔ بھیا مجھے ڈر لگ رہا ہے اس نے آگے دیکھتے ہوئے کہا جہاں اسے ایک بلی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔  اس نے کوئی جواب نہ دیا اور وہیں رک گیا۔ اس نے زارا کا ہاتھ چھوڑا اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر بولا: مجھے تمہارا یہ سویٹر بہت اچھا لگتا ہے۔ زارا نے اوپر دیکھا تو اسے بھییا کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی۔ اسے معلوم تھا کہ بھیا کو سویٹر اچھا لگتا ہے اور وہ اس کو تھینک یو کہنا چاہتی تھی۔  لیکن اس کی سانس اکھڑ کر رہ گئی ۔جو اس نے دیکھا وہ اس کا بھیا نہیں تھا۔ وہ دیکھ کر ڈر گئی۔ وہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس نے اس کے پاوں پر گرفت بنا لی۔  بھیا مجھے اماں کے پاس جانا ہے۔ وہ روئی اور آنسو اس کے گال سے ٹپکنے لگے۔ خاموش! اس نے آہستہ آواز میں کہا اور اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے دبوچ لیا۔  نشا جو زارا کی دوست تھی اس کی ماں نے زارا کو کسی اجنبی کے ساتھ موٹر بائیک پر بیٹھتے ہوئے دیکھا۔ وہ حیران ہوئیں کہ یہ بائیک والا شخص کون تھا کیونکہ اس نے اس شخص کو کبھی زارا کے گھر نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی وہ کوئی رشتہ دار لگتا تھا۔ پریشان ہو کر اس کے خود زارا کے گھر جا کر پتا کرنے کا سوچا تا کہ زارا کی ماں سے پوچھ سکے۔ جب زارا کی ماں پریشانی کی حالت میں باہر بھاگی تو زارا چڑیا گھر کی طرف نکل چکی تھی۔  اس کے بعد ماں کبھی اپنی زارا کو نہ دیکھ سکی۔ کچھ دن بعد زارا کی لاش قریب بستی کے کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا تھا جسم پر زیادتی اور تشدد کے نشانات تھے۔ ہر طرف واویلا مچ گیا۔ بڑے بڑے دعوے کیے گئے۔ ملک بھر سے لوگوں نے واقعہ کی مذمت کی اور قاتل کو سخت سزا دینے کے دعوے کیے گئے لیکن بے
سود۔ کوئی مجرم کو پکڑ نہ سکا۔ لیکن اس کا فیورٹ سویٹر مل گیا۔ یہ سویٹر چڑیا گھر کے پاس ایک گلی سے ملا جانوروں کو رکھا جاتا تھا، جہاں ایک ایسے انسان نے لڑکی کی عزت لوٹ لی تھی جسے وہ بھیا پکارتی تھی، ایک معصوم لڑکی جسے یقین تھا کہ وہ شخص ایک درد مند انسان ہے نہ کہ جانور۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے اس کا سویٹر ملا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *