پاکستان میں غربت ختم کیوں نہیں ہوتی

3

جاذب نیلسن

پاکستان میں غربت پر بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ اگرچہ بہت سے مباحثے معاشی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن غربت پر بحث کبھی نہیں ہوتی۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ اس قدر اہم مسئلے کو ہمارے ملک میں اکثر نذر انداز کیا جاتا ہے۔ حکومتیں اپنے دور سے گزر جاتی ہیں لیکن جان بوجھ کر اس معاملے کو زیر بحث نہیں لاتیں۔ مثال کے طور پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں غربت کے اعداد و شمار ریلیز کرنے سے گریز کیا۔ اسی طرح ن لیگ نے بھی اپنے دور میں غربت سے متعلقہ اعداد و شمار مخفی رکھے۔ 2016 میں احسن اقبال نے جو اعداد و شمار پیش کیے وہ 2013 کے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ اعداد و شمار سامنے رکھ کر کوئی بھی پارٹی اپنے آپ کو مشکلات کا شکار نہیں کرنا چاہتی۔ تعلیم بھی اس معاملے میں کوئی خاص مدد فراہم نہیں کرتی۔ غربت کی شرح معلوم کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ بہت ہی مبہم ہے۔ اسی لیے مختلف ذرائع مختلف شرح بتاتے ہیں۔ ہر تعلیمی درجہ میں بھی ان اعداد و شمار میں فرق نظر آتا ہے اور کچھ کیسز میں تو بہت زیادہ ہی فرق ڈال دیا جاتا ہے۔ البتہ کچھ سرکاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 30 فیصد آبادی کی شرح آمدن 3030 روپے ماہانہ سے کم ہے اور وہ غربت کی سطح سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی59ملین لوگ ایسے ہیں جو اس طرز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی طرف سے جو اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ حکومت 3030 ماہانہ کمانے والے کو غریب تصور نہیں کرتی۔ اسی وجہ سے حکومت کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔*غربت کی شرح جاننے کے لیے بہتر طریقہ بین الاقوامی معیار کو دیکھنا ہے جو 2 ڈالر یومیہ کم از کم ہے۔ اس لائن کے لحاظ سے دیکھیں توپاکستان کی60 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔ یہ غربت ہی ہے جس کی وجہ سے بہت سے بین الاقوامی اداروں جیسے ورلڈ بینک کو ہمارے منصوبوں کی تکمیل کے لیے آگے آنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو غربت مٹانے کے لیے دنیا بھر سے کروڑوں ڈالر کی امداد ملتی رہی ہے۔ حکومتیں بھی بہت سے نئے نئے معاشی پروگرام غربت مٹاو سکیم کے تحت متعارف کرواتی رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے دنیا بھر کے ڈونر اداروں سے غربت مٹانے کے لیے بے شمار رقم حاصل کی ہے لیکن ملک میں غربت میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ یہ اور بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے جب پاکستان کو بھارت اور چین سے موازہ کرتے ہوئے دیکھا جائے۔ ان دونوں ممالک میں غربت کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پاکستان کی غربت مٹانے کے حوالے سے کوئی خاص پروگریس دیکھنے کو نہیں مل رہی۔  پاکستان کی غربت مٹانے کے بارے میں کیا اپروچ ہے؟ 1951 سے آج تک کوئی ایسا سال نہیں گزار جس میں کوئی نہ کوئی غربت مٹاو پروگرام نہ چل رہا ہو۔ ابتدا میں زیادہ تر پروگرام ڈونر حضرات کے فںڈز سے چلتے تھے اور زیادہ فوکس دیہی عوام کی تعلیم اور صحت کی بہتری پر تھا۔ اس کے بعد ایسے پروگرام بھی پیش کیے گئے جن کا مقصد ہاوسنگ، روڈ اور سینی ٹیشن میں بہتری لانا تھا۔ یہ پروگرام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے متعارف کروائے گئے۔ اسکے ساتھ ساتھ حکومت کچھ ری ڈسٹریبیوشن پالیسیاں متعارف کروا دیتی ہے جیسے لینڈ ریفارم، ذرعی پراڈکٹس کی قیمتیں، سبسڈی، سوشل سکیورٹی پے منٹ، بہت زیادہ ٹیکس ریٹ، ڈائریکٹ انکم ٹرانسفر وغیرہ وغیرہ۔ پچھلے چند سال میں ان پالیسیوں کو عوام اور سیاسی پارٹٰیوں کے ہاں بہت مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس نئی اختیار شدہ پالیسی پر اس لٹریچر کا گہرا اثر ہوتاہے جس کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ غربت میں کمی کا واحد طریقہ عدم مساوات کو کم کرنا ہے اور وہ صرف ان پالیسیوں کے ذریعے ممکن ہے۔ غربت مٹانے کے بارے میں بہت سی تحاریر میں یہی نظریہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرح کی پالیسیاں حکومت کو واحد نجات دہندہ کا درجہ دے دیتی ہیں۔ حکومت کی ناکامی  پروگرام اور ری ڈسٹریبیوشن کی پالیسیوں پر حد سے زیادہ فوکس ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ تقریبا تمام پروگرام میں
حکومت کی ناکامی اور کرپشن کی جھلک نظر آتی ہے۔ بہترین مثال کچھ عرصہ قبل شروع ہونے والا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے۔ ہر کوئی اس پروگرام میں ہونے والی کرپشن سے واقف ہے۔ کیونکہ جب بھی کوئی پروگرام سیاستدانوں کے ہاتھ چڑھتا ہے تو وہ اسے معاشی نہیں سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بی آئی ایس پی کے فارمز پارٹی کے ایم این ایز کو دئیے گئے جنہوں نے حقدار لوگوں کی بجائے اپنے منظور نظر لوگوں کو یہ فارم تھما دیے۔ اگرچہ یہ بات سچ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر مکمل کیے جانے والے منصوبے حکومتی نگرامی میں مکمل ہونے والے مںصوبوں کے
بر عکس زیادہ اثر دکھاتے ہیں۔ ری ڈسٹریبیوٹشن پالیسیوں سے پرائسنگ مکینزم پر بھی الٹا اثر پڑتا ہے۔ اہم ذرعی آلات کی سپورٹ پرائس ایسی صورتحال پیدا کر دیتی ہے جس سے معاشی فوائد زیرو کے برابر رہ جاتے ہیں۔ ویلفئیر پروگرام چلانے والی کارپوریشنز پر ٹیکس بڑھانے سے بھی لوگ ملک میں بزنس کرنے سے اکتا جاتے ہیں۔  یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حکومتی پالیسیوں نے ملک میں معاشی ترقی کا راستہ بند کر رکھا ہے اور غربت میں کمی کی کوئی گنجائش پیدا نہیں کی ہے۔ اگر غربت میں واقعی کمی لانا ہے تو ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانا ہوں گے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بزنس کمپنیوں کو زیادہ ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب ری ڈسٹریبیوٹش پالیسیاں ختم کر دی جائیں گی۔

courtesy : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *