حجابی ماڈل امینہ خان نے لاوریل مہم سے علیحدگی اختیار کر لی

4

برفی کلچر ٹیم

پچھلے ہفتے امینہ خان اس وقت ہیڈ لائن میں آ گئیں جب انہیں پہلی حجابی ماڈل کے طور پر ایک بڑی کاسمیٹکس کمپنی نے اپنی مہم کے لیے منتخب کیا۔ لیکن آج انہوں نے اس مہم سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنی تازہ ترین انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے لکھا: میں اپنے 2014 کے ٹویٹس پر بہت شرمندہ ہوں اور جن لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچی ہے ان سے معافی کی طلبگار ہوں۔ تنوع کی حوصلہ افزائی میرا مشن ہے اور میں کسی کو بھی امتیازی سلوک کا حقدار نہیں سمجھتی۔ میں ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر رہی ہوں کیونکہ وہ اس پیغام سے مطابقت نہیں رکھتے جو میں پھیلانا چاہتی ہوں۔  میں نے کچھ دن قبل ایک اشتہاری مہم میں حصہ لیا کیونکہ یہ مجھے مناسب معلوم ہوتا تھا لیکن مجھے افسوس ہے کہ مجھے یہ مہم ترک کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ موجودہ ماحول میں جوچہ میگوئیاں ہو رہی ہیں وہ منفی تاثر پیدا کر رہی ہیں اور میں جو حاصل کرنا چاہتی ہوں وہ مشکل ہو رہا ہے۔  امینہ خان کو ایک کمپنی نے بالوں کی خوبصورتی کے لیے تیار کیے گئے ایل اوریئل پیرس اشتہاری مہم میں شرکت کےلیے دوسری 15 ماڈلز کے ساتھ منتخب کیا گیا تھا۔
برطانوی نژاد سٹائلسٹ سوشل میڈیا پر بہت شہرت رکھتی ہیں کیونکہان کے یو ٹیوب پر 4 لاکھ سب سکرائبر اور انسٹاگرام پر 6 لاکھ کے قریب فالوورز ہیں۔ ان کی ویڈیو میں خوبصورتی، میک اپ، گھر کی سٹائلنگ اور زاتی زندگی کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے ٹویٹس کی بات کر رہی ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ ٹویٹس ہیں جو انہوں نے 2014 میں اسرائیل کے بارے میں کیے تھے۔ ان ٹویٹس کو ٹویٹر پر شئیر کر کے ان پر سخت تنقید بھی کی گئی تھی۔ یہ ٹویٹس اور سکرین شاٹس ڈیلی کالر اور دوسرے میڈیا آوٹ لیٹس نے بھی استعمال کیے تھے۔ دوسری طرف2008 میں لا اورئیل کو اسرائیل کے ساتھ بزنس تعلقات کی وجہ سے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔  اس فیصلہ نے ان کے بہت سے فالوورز کو مایوس کیا ہے۔ ایک انسٹا گرام صارف نے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا: آپ علیحدگی اختیار مت کیجیے ۔ آپ اس اشتہار میں کام کی حقدار ہیں۔ جو گزر گیا وہ ماضی ہے۔ چار سال پرانے ٹویٹس تھے۔ لوگ ہر روز بدلتے ہیں چار سال میں کتنی تبدیلی آتی ہے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتیں۔ اس لیے مہم چھوڑ کر مت جائیں۔ کچھ لوگوں نے اس واقعہ پر لا اورئیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیلم نامی صارف کا کہنا تھا: اگر لا اوئیل نے آپ کو چال سال پرانے ٹویٹس پر مستعفی ہونے پر مجبور کیا تو یہ بہت افسوسناک بات ہے۔  میں تو لا اورئیل کے آپ کو منتخب کرنے پر بہت متاثر تھی اور یہ بہت اچھا لگتا تھا کہ کوئی تو کمپنی ہے جو دوسروں سے مختلف سوچ رکھتی ہے۔  کچھ لوگوں نے امینہ خان کے اس فیصلے پر حوصلہ افزائی بھی کی۔  مس ہنا ماریہ نامی خاتون نے امینہ خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: میں آپ کے ٹویٹس پر سخت ناراض تھی لیکن آپ نے ان کو ڈیلیٹ کر کے اور معافی مانگ کے میرا دل جیت لیا ہے۔ غلطی ہر کسی سے ہوتی ہے اور غلط معلومات کی وجہ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ اس کے لیے استعفی دینے کی ضرورت تھی لیکن میں اس فیصلے کا احترام کرتی ہوں

courtesy : http://barficulture.tv

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *