مال روڈ کے دھرنے سے امکانی انجام تک

saeed azhar (actual)

پاکستانی عوام کے حق انتخاب اور آئینی طرز ِ فکر کے علمبرداروں اور مفادات پسند ابن الوقت سیاسی کرداروں کے مابین لڑائی جاری ہے۔ یہ پاکستانی عوام کی آئینی جدوجہد کے 70برسوں کا تسلسل ہے۔ پاکستانیوں کی اس قومی تگ و تاز کا عنوان ہے:
’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘17جنوری 2018کو چیئرنگ کراس مال روڈ پرمتحدہ اپوزیشن کے جلسے کو پاکستانی عوام کی اس آئینی جدوجہد کوعملاً معروضی نتائج کے تناظرمیںدیکھنے کی ضرورت ہے!علامہ ڈاکٹر طاہر القادری سے ہی آغاز کرنا چاہئے۔ وہ ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ کے نام سے اس اتحاد کے روح رواں ہیں۔ آپ نےمال روڈ کےاس عوامی اجتماع میں سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوموںکا مقدمہ قانونی عدالت کے صبرآزما مراحل کے بجائے غیرعدالتی فورموں کی ’’جذباتیت‘‘ کے سپرد کردینے کاعمل دہرایا۔ مقدمے کے موجودہ "Status" کی بنیاد پر لوگوں کو نہ کسی باضابطہ تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی قصور واروں کوتعزیر کے مراحل تک پہنچانے کے سلسلے میں ممکنہ سعی و جہد کے طریقہ کار کو زیربحث لایا گیا۔ مسلسل اس جذباتیت نے سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوموں کو انصاف کے بجائے ان کی مظلومیت کو دھندلا دیاہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کے عزم کا یہ سفر مظلوموںکو کار ِ بے خیر کے سنگ میل کی جانب جاتا دکھائی دیتا ہے۔
علامہ طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹائون کے سلسلے میں پاکستان پیپلزپارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی جیسی قومی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر متعدد سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو جمع کرکے اپنے لئے عمل اور فیصلے کا راستہ منجمد کردیا۔ وہ آصف علی زرداری اور عمران خان دونوں کی اس اجتماع میں شمولیت کے باوجود اس کو کوئی نتیجہ خیز قوت فراہم نہیں کرسکے۔ جلسے میں ان دونوں کی آمد سے ایسا کوئی مجموعی ماحول سامنے نہیں آیا جس سے دو متحارب رہنمائوں کے اشتراک سے کسی طاقتور سیاسی تحریک کی اٹھان کا ذرا سا امکان بھی ابھر سکتا۔ علامہ طاہر القادری شاید مستقبل میں دونوں حضرات کےلئے کوئی پراعتماد دعویٰ نہ کرسکیں۔ عام قومی انتخابات کاآئینی شیڈول کے مطابق انعقاد ڈاکٹر صاحب کی تمام تر کوششوں، مہمات، اعلانات اور توقعات کے لئے سیلاب بلاخیز ثابت ہوسکتا ہے۔ خدانخواستہ عام انتخابات کے آئینی شیڈول کے مطابق انعقاد میں کوئی گڑبڑ ہوتی ہے تب بھی ڈاکٹرصاحب شاید اب ایکبار اور دوسروں کو ساتھ ملا کر مال روڈ جیسے ’’عوامی دبائو‘‘ کامظاہرہ بھی نہ کرسکیں گے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوموں کی دادرسی کے مقدس مشن کی عظمت سے کوئی پاگل ہی منکر ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ان کے اس مقدس مشن میں متعدد دنیاوی آلودگیوں کے آثار کے مجسم ہو کر ان کے سامنے صبرآزما قانونی راستہ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار ہی نہیں چھوڑا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلومین کو انصاف دلانے کا ’’مقدس مشن‘‘ تو موجود رہے گا لیکن ڈاکٹرصاحب اور ان کی جماعت کے عوامی سفر کا باب شاید ہمیشہ کے لئے دھندلا جائے کہ ڈاکٹر صاحب کےدامن میں سانحہ ماڈل ٹائون ہی واحد ایشو ہے۔ سیاست نہیں ریاست بچائو۔ کا بلند آہنگ ’’انقلاب‘‘ قصۂ پارینہ بن چکا!مستعار لی گئی اصطلاح کے مطابق ’’راولپنڈی سے اٹھے بقراط‘‘ شیخ رشید نے مال روڈ کے اس اجتماع میں وحشت انگیز ذہنی اختلال کی انتہائوں پر لہجے اور لفظوں کی غضبناکی میں کوئی کسر نہ چھوڑی، حاضرین ان کی رجزیہ للکاروں کے علی الرغم جیسے ٹھس بیٹھے تھے، ایسے ہی بیٹھے رہے۔ رہی سہی کسر ان کے ’’استعفے‘‘ کی عہدشکنی نے پوری کردی۔ اب وہ زندگی کی کسی آخری دستیاب سیاسی دیوار سےسر بھی ٹکرا دیں تب بھی عوامی عدالت میں انہیں بھروسے کی سند کے بجائے ہمیشہ کے لئے محرومی کی سند مل چکی۔ 2018کے عام انتخابات میں ان کی نشست ان کی سیاسی زندگی کا وہ آخری باب بھی ہوسکتا ہے جس پہ ’’حتمی ناکامی‘‘ کا عنوان لکھا ہو!مخالف سیاسی کارکن کے مطابق ’’شیخ رشید پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔‘‘ شیخ رشید اپنی نجی مجالس میں ڈاکٹر طاہر القادری کے بار ےمیں کیا انداز ِگفتگو اختیار کرتے ہیں اس کی نوعیت اور واقعیت کن الفاظ پرمشتمل ہوتی ہے۔ بقول ایک کالم نگار کے: ’’اسے اخبار میں لکھنا ممکن نہیں!‘‘ چنانچہ راولپنڈی کا ’’بقراط‘‘ لاہور میں منعقدہ اس شو کے غیرموثر امیج میں ذرا سی کمی کرنے میں بھی کلیتہً ناکام رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے البتہ نواز شریف کے پس منظر میں جس طرز پر دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانے کی راہ اپنائی ہے اس کی کتھا بہت تاریخی ہے۔ یہ تاریخ سیف الرحمٰن کے طرزِ عمل کی غیرانسانی سرحدوںکو چھوتی برہنہ تصویر ہے۔ جلسے کے تناظر میں سابق صدر اور ان کی جماعت وہ واحد سیاسی عنصر ہے جس نے کھویا کچھ نہیں پایا بہت کچھ مثلاً عمران خان کی اس اسٹیج پر جس پر آصف علی زرداری کو آنا اور بیٹھناتھا ، شرکت نے انہیں زرداری صاحب کو مادرپدر آزادانہ اصولوں کے تحت گالیاں دینے کے قابل نہیںرہنے دیا۔ سندھ میں وہ اب عوام کے سامنے ’’آصف زرداری کے لئے‘‘ دشنام کا بازار نہیں سجاسکیں گے! پیپلزپارٹی نے عمران خان کی جانب سے جلسے میں پارلیمنٹ کے لئے ’’لعنت‘‘ کے الفاظ استعمال کرنے پر فی الفور انہیں ’’مسترد‘‘ کردینے کا بیان جاری کردیا۔ بلاول نے عمران کے منہ سے بات نکلتے ہی ٹویٹ جاری کردی۔ ’’میری جماعت اس طرز ِ فکر کی حامی نہیں‘‘ ’’ایک روزکا ہی جلسہ ہوگا‘‘ کے فیصلے میں بھی ایک رائے کے مطابق آصف صاحب کا ہی ہاتھ ہے۔ ساتھ ہی پاکستان پیپلزپارٹی نے جمہوری تسلسل کے خلاف تمام متوقع اقدامات کو بڑی خوبصورتی سے ’’بعد میں غور کریں گے‘‘ کے فارمولے پر چھوڑ دیا۔عمران خان پاکستان کے تسلیم شدہ قومی ادارے کے آئینی وقار پر براہ راست حملہ آور ہو کر ایسی دفاعی پوزیشن پر آگئےہیں جس میں ان کے لئے پاکستان کے تمام اہل الرائے نے ’’عذر گناہ بد تر از گناہ‘‘ کا محاورہ طے کر دیا اور یہ کہ وہ فی نفسہٖ پارلیمنٹ کے بجائے ’’ارکان پارلیمنٹ‘‘ کہہ دیتے تب بھی ان کے سیاسی نظریے کا شاید کسی حد تک جواز تلاش کیا جاسکتا۔ لوگوں کو یاد آگیا تحریک انصاف کے لوگوں نے پاکستان کی ’’قومی پارلیمنٹ‘‘ کی مسلسل توہین اور ایک بار استعفے اسپیکر کے حوالے کردینے کےبعد بھی آج تک پارلیمنٹ سے اپنی ماہانہ تنخواہوں اور مراعات میںایک دن کی ’’آمدن‘‘ بھی نہیں چھوڑی!کیا عمران خان کو ’’سیاسی فتح‘‘ کے امکانی مستقبل میں کمین گاہوں میں چھپے تیراندازوں کا قیاس ہو گیا ہے؟ عمران کی فرسٹریشن اس کا لاشعوری مظہر محسوس ہورہی ہے۔ ہر گزرے دن کے ساتھ یہ اضافہ پذیر رہے گی!
پاکستان کے عوام کی ’’آئینی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘ کی اس جنگ میں فتح کے ’’اسباب‘‘ 15فروری 2018یا مارچ سے کچھ پہلے جمہوری تسلسل لپیٹے جانے کے امکانی اسباب‘‘ سے پائیدار دکھائی زیادہ دے رہے ہیں۔ اولاً ایک منتخب جمہوری نظام کوصرف چار پانچ ماہ قبل کسی قسم کی ’’تعطل آمیز مدت‘‘ سے دوچار کردینا، عالمی برادری تو ایک طرف پاکستانی عوام کے ناقابل تصور ردعمل کا باعث ہوگا۔ خواہ وہ خاموش ردعمل ہو یا بولتا۔ ہوگا بے حساب! آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی جمہوری تسلسل کے ساتھ کمٹ منٹ کے بعد اسٹیبلشمنٹ سول بالادستی اور ریاستی ادارں میں تصادم کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ عسکری قیادت ایسی اندرونی انارکی اور سیاسی فساد فی الارض کی اجازت دینے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی۔ آئینی شیڈول کے مطابق عام قومی انتخابات کا انعقاد طاہر القادری اور غیرمنتخب مذہبی جماعتوں کو سیاسی پاتال تک لے جاسکتا ہے۔ عمران خان کی اقتدار کی چوٹی تک پہنچنے کی قومی سیاسی کیمسٹری ضعف کے دائرہ میں داخل ہوچکی جس کی بحالی ممکن نظر نہیں آ رہی بلکہ یہ ضعف شکست و ریخت کا منتظرہے۔ باقی وہ جانتا ہے جو سب جانتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *