ہم کہاں کھڑے ہیں؟

3

فیصل باری

23 جنوری کو ڈان اخبار کی بڑی سرخیاں یہ تھیں: آٹھ سالہ بچی کا ریپ اور قتل، اس سے متعلقہ ایک نوجوان کا جعلی انکاونٹر میں پولیس کے ہاتھوں قتل، ایک طالب علم کااستاد پر حملہ کرنے کا واقعہ، ایک ٹرانسجینڈر کا گینگ ریپ، ایک پروفیسر کی موت کا فالو اپ اور ایک استاد کے ہاتھوں بچے کا قتل، اور ایک پرنسپل کا قتل۔ یہ سب اس دن کی ٹاپ سٹوریز تھیں۔ پاکستان میں جس طرح ہم تشدد کی فضا میں رہتے ہیں اور اسے ایک نارمل چیز بنا لیا ہے یہ بہت افسوسناک امر ہے۔ کرائم ریٹ میں پاکستان کسی دوسرے ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ لیکن تکیلف دہ بات وہ طریقے ہیں جو جرم کے لیے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ ایک استاد بچے کو کلاس میں ڈسٹربینس پیدا کرنے سے روکتا ہے اور کچھ دیر بعد وہ طالب علم دس بارہ غنڈوں کےساتھ آ کر نہ صرف سکول میں توڑ پھوڑ کرتا ہے بلکہ استاد پر بھی براہ راست حملہ آور ہوتا ہے۔ آخر کیا چیز ہے جو ایک طالب علم کے علاوہ 10 مزید لوگو ں کو ایک ٹیچر پر تشدد کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ان 10 لوگوں میں سے ایک نے بھی یہ مشورہ دینا مناسب نہ سمجھا کہ اختلافات سے نمٹنے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ مذاکرات اور بات چیت کو کیوں ترجیح نہیں دی گئی؟ فوری طور پر ٹیچر پر جسمانی تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا؟ معاملہ جو بھی ہو، کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے کچھ دوسرے امن پسند عوامل پر غور کر لیا جاتا؟ طالبعلم کے ہاتھوں پرنسپل کے قتل کا واقعہ لے لیں۔ پرنسپل نے طالب علم کو کلاس سے غیر حاضری پر تنبیہ کی تھی اور شاید اسے اپنے رویہ پر شرمسار کرنے کی بھی کوشش کی ہو لیکن ایسا کیوں ہوا کہ طالب علم نے پرنسپل پر فائرنگ شروع کر دی اور کئی گولیاں داغ دیں؟ طالب علم کے مطابق پرنسپل نے مذہب کی توہین کی تھی۔ اگر ایسا تھا تو بھی طالب علم نے قانون کی مدد کیوں نہ لی؟ اس نے یہ کیوں سوچا کہ خود ہی گن لے کر پرنسپل کو مار ڈالنا سب سے بہتر آپشن ہے؟ اسی طرح مدرسہ میں جو بچے کو تشدد کر کے مارا گیا وہ معاملہ بھی بہت عجیب اور تکلیف دہ ہے۔ کیا کوئی چھوٹا بچہ اتنا بڑا جرم کر سکتا ہے کہ اسے سزا دیتے
ہوئے انسان اس کی جان ہی لے لے؟ اگربچے نے سبق یاد نہ بھی کیا ہو ، کلاس میں مسائل پیدا کرتا ہو، یا سبق یاد کرنے میں کمزور ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو، ٹیچر نے یہ کیسے سوچ لیا کہ اسے مار کر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے؟ بچے کی تصاویر دیکھ کر لگتا ہے کہ معاملہ یہ نہیں تھا کہ ایک چوٹ غلط جگہ پر لگ گئی اور بچے کی موت واقع ہو گئی بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسے بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیا یہ مسائل نفسیاتی طور پر متاثرہ لوگوں کے ہیں یا یہ معاشرے میں نارمل سمجھے جاتے ہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعات عوام کے سامنے واقع ہوئے جہاں دوسرے لوگ موجود تھے۔ ایک شخص کی کیا ذمہ داری بنتی ہے جب وہ کسی کو تشدد کا نشانہ بنتا ہوا دیکھے؟ کیا تشدد کو روکنا قانون، اخلاقی یا معاشرتی ذمہ داری نہیں ہے؟ کیا یہ ہونی نہیں چاہیے؟ یہ سب واقعات ان لوگوں کے ساتھ پیش آئے ہیں جو اس طرح کے واقعات کو معاشرے میں نارمل چیز سمجھتے ہیں۔جس طرح چھوٹے چھوٹے جھگڑے قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں یہ اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے نوجوان سائیکو سوشل مسائل کا شکار ہیں۔ اگر آپ نے روڈ ایکسیڈینٹ دیکھا ہو اور پتہ کیا ہو کہ کیسے لوگ پہلے گالی گلوچ اور پھر دست و گریبان تک پہنچ جاتے ہیں تو آپ اس چیز کو نارمل سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر آپ گہرائی میں جائیں گے تو معلوم ہو گا کہ کس قدر چھوٹی سی بات پر لڑائی کتنی آگے بڑھ جاتی ہے۔ عوامی جگہوں پر ڈیوٹی کا مسئلہ زیادہ ہی بھیانک روپ اختیار کر رہا ہے۔ جب مشال خان پر حملہ ہوا تو پاس کھڑے لوگ اس کی مدد کو کیوں نہ آئے۔ پشاور کے بچوں کو جب تشدد کر کے مارا گیا تو آس پاس موجود لوگ انہیں بچانے کیوں نہ آئے؟ اگر لوگ خود بھی ان کو مارنے میں لگ گئے تو یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر وہ اس کو تماشہ سمجھ کر دیکھتے رہے تو یہ اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے اور اگر ان کو معلوم تھا کہ یہ غلط ہو رہا ہے لیکن وہ پھر بھی خاموش رہے تو یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ جب تک آپ پر کوئی آفت نہیں آتی دوسروں پر آفت دیکھتے ہوئے اسے برداشت کرنا، نظر انداز کرنا اور دوسرے کی مدد نہ کرنا معاشرے میں کسی طور پر قابل قبول نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کی پرزور مذمت کرنی چاہیے اور اسے برا اور غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔ اگر یہ حرکات پاگل پن کی نشانی نہیں، تو پھر ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور یہ جاننے کی کوش کرنی چاہیے کہ ہم انہیں کیا پڑھا رہے ہیں۔  پڑھانے سے مراد سکول کی پڑھائی نہیں ہے بلکہ وہ اقدار ہیں جب بچوں کو ہم گھر میں اور سماجی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سکھاتے ہیں۔  ہم اپنے عوام میں برداشت اور مباحث کی اقدار ڈالنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو تشدد اور بات چیت کے بیچ کا فرق نہیں بتا پا رہے اور ہم اس تشدد پسند رویہ کے معاشرے پر اثرات کا اندازہ بھی نہیں لگا پا رہے۔ اس کی تازہ ترین مثال زینب کے قاتل کے لیے سر عام پھانسی کا مطالبہ ہے۔ انصاف کا مطالبہ کرنا درست ہے۔ لیکن یہ سوچ کر سر عام پھانسی کا مطالبہ کرنا کہ اس سے مجرم ڈر جائیں گے درست نہیں کیونکہ یہی چیز ہمارے معاشرے کو مزید تشدد پسند بنائے گی۔ اس مضمون میں صرف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مجھے امید ہے اور تعلیم سے تعلق رکھنے والے اور دانشور لوگ ان معاملات پر ضرور غور و خوض کریں گے

courtesy :https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *