ہارے ہوئےلوگوں کا المیہ

5

عمران خان ایک بہت اچھے کمپینر ہیں۔ وہ ایک فطری لیڈر بھی ہیں۔ وہ ذہین ہیں، بہت اچھے تقریری صلاحیت رکھتے ہیں اور دوسروں کو آمادہ کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ولڈ کپ، شوکت خانم ہسپتال، نمل یونیورسٹی اور تحریک انصاف کی قیادت کی بڑی ٹرافیاں اپنے نام کر رکھی ہیں۔ رقم کے لحاظ سے پاکستانی عوام صرف ان پر اعتبار کرتے ہیں اور انہیں ہی چندہ دیتے ہیں تا کہ وہ پبلک سروس میں اپنی خدمات جاری رکھ سکیں۔ پی ٹی آئی نے 2011 میں پہلے لاہور میں اور پھر کراچی میں ایک بڑا جلسہ کر کے اپنی سیاست میں بھارتی قوت ہونے کا اعلان کیا۔ پاکستان بھر سے بہت سے نوجوان عمران خان کو اپنی آخری امید سمجھنے لگے اور انہوں نے عمران خان کو ایک صوبے کی حکومت اور قومی اسمبلی میں بھی ایک اہم
نمائندگی دلوائی اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی مین سٹریم طاقت کو چیلنج کیا۔ 90ء کی دھائی میں اسٹیبلشمنٹ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی رہی تا کہ ان میں سے کوئی اسٹیبلمشنٹ سے لڑنے کی جرات نہ کر سکے۔ زرداری کے پانچ سالہ دور حکومت میں بھی اسٹیبلمشنٹ نے یہی حربہ استعمال کیا اور ن لیگ کے ذریعے زرداری حکومت کو کنٹرول میں رکھا۔ 2013 کے الیکشن تک پیپلز پارٹی کی مقبولیت منظور وٹو، بابر اعوام، فردوس عاش، رحمان ملک جیسے سیاستدانوں کی وجہ سے گر کر صفر تک پہنچ گئی۔ تبھی سے اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ پیپلز پارٹی کی بجائے تحریک انصاف کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے نواز شریف حکومت پر کنٹرول رکھے گی۔ اس کے بعد بہت سے بڑے سیاستدان تحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوئے جنہیں اسٹیبلشمنٹ نے ہی پروموٹ کیا تھا۔ یہ لوگ یا تو اسٹیبلمشنٹ کی نصیحت پر اس جماعت میں شامل ہوئے یا اس کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اس میں گھس گئے۔ کچھ لوگ پارٹی جائن کیے بغیر اس کے قریب آ گئے۔ ان میں سب سے بڑے نام شیخ رشید اور طاہر القادری کے ہیں۔ جس دن عمران خان نے قادری اور شیخ رشید کے ہمراہ ریڈ زون میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تب سے ان کی سیاست ریورس گئیر میں لگ گئی۔اس دن سے معلوم ہونے لگا کہ عمران نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو چھوڑ کر ضیا الحق کا نظریہ سیاست اپنا چکے ہیں۔ عمران خان نے سدھ اور بلوچستان تک پارٹی کو پھیلانے کی بجائے سارا زور ن لیگ کو کمزور کرنے اور گرانے کی کوشش میں لگا دیا۔انہوں نے مشرقی پنجاب کو بھی نظر انداز کیے رکھا اور صرف سینٹرل پنجاب پر نظر رکھی جہاں ن لیگ بہت مضبوط پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ نتیجہ تو سامنے ہی تھا۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ چونکہ عمران خان نے اس ٹرم کے 54 ماہ صرف شریف حکومت کو گرانے پر لگا دیے ہیں اس لیے انہوں نے کے پی کے میں جو بھی اصلاحات متعارف کروائی ہیں یا ترقیاتی کام کروائے ہیں وہ عوام کی نظروں سے عمران خان کے دھرنوں، عدالتی گہما گہمی کی وجہ سے اوجھل رہے ہیں۔ مزید حماقت انہوں نے یہ کی کہ 2014 میں آئی ایس آئی اور میڈیا گروپ کے بیچ کی لڑائی میں ایک سائیڈ کو اپنا لیا۔ عمران کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ پاکستان میں زیادہ تر میڈیا تنظیمیں اخلاقیات کا لحاظ نہیں کرتیں اور ایک چینل تو ایسا ہے جو ہر حد عبور کر جاتا ہے۔ اس لڑائی میں سائیڈ لینا عمران کی سب سے بڑی غلطی تھا۔  عمران خان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر یہ توقع کی جا رہی تھی وہ خود رہنما ہیں اور پاکستان کے عوام کو خود لیڈ کریں گے نہ کہ طاہر القادری اور شیخ رشید کی شاگردی اختیار کریں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شیخ رشید اور طاہر القادری نے انہیں اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ ان کا ڈیپ سٹیٹ سے براہ راست رابطہ ہے اور
اسٹیبلشمنٹ اگلی حکومت ان کو ہی دلانے والی ہے یا پھر وہ خود طاقتوں کا مہرہ بن کر ان کے ہاتھ میں کھیلنے پر آمادہ ہو چکے ہیں

courtesy : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *