خواتین مردوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ تحقیق نے ثابت کر دیا

6

دنیا کی سب سے بڑی الجھن ختم ہو گئی۔ الجھن یہ تھی کہ مرد زیادہ مضبوط ہوتے ہیں یا خواتین ۔ اس ماہ کے آغاز میں ساودرن ڈنمارک یونیورسٹی کے پروفیسر نے تاریخی اعدا د و شمار کےذریعے یہ تجزیہ پیش کیا کہ خواتین ہی قحط، غلامی اور دوسرے مشکل دور میں مردوں سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ثابت ہوئی ہیں۔ ہر معاملہ میں خواتین کو ہی زیادہ مضبوط اور مزاحمت کرنے والا پایا گیا ہے اور ان کے مقابلے میں مرد ہمیشہ کمزور ثابت ہوئے ہیں چاہے صورتحال خواتین کے حالات کے مقابلے میں کم خطرناک کیوں نہ ہو۔مثال کے طور پر 1845 سے 1849 کے بیچ ہونے والے آئرش پوٹیٹو قحط کے دوران مرد اور خواتین دونوں کی اوسط عمر 38 سال تھی۔ لیکن جب مسئلہ بہت گمبھیر ہو تو مردوں کی اوسط عم میں خواتین کے مقابلے میں *
*22.4** فیصد کا اضافہ ہوا ۔ سویڈن میں 18 ویں صدی میں آنے والے قحط میں اور یوکرین میں 20ویں صدی کے دوران فصلیں تباہ ہونے کے بعد بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ 19ویں صدی کے آئس لینڈ کے خسرہ کی وبا پھیلنے کے موقع پر بھی خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں 2 سال زیادہ تھی۔ خواتین جسمانی طور پر مضبوط اور سخت جان ہوتی ہیں۔  محققین کے مطابق نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ خواتین جسمانی لحاظ سے مردوں کے مقابلے میں سخت جان ہوتی ہیں جس کی وجہ جنسی ہارمون کا فرق ہوتا ہے۔ اوئسٹریجن ایک اینٹی فلیمیٹری مادہ ہے جو ویسکولر سسٹم کو تحفظ فراہم کرتا ہے جب کہ ٹیسٹوسٹیرون ایک رسک فیکٹر ہے جو بہت سی جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ مردوں کے جنسی ہارمونز نظام دفاع کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایوولوشنری سائنسدان یہ یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کا نظام دفاع زیادہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ انہیں بچے کی پیدائش کےلیے 9 ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ چونکہ مردوں میں صرف ایک **x** کروموسوم ہوتا ہے اس لیے اگر وہ کام کرنا بند کر دے تو بیک اپ کےلیے کچھ نہیں بچتا جب کہ خواتین کے دو کروموسومز ہوتے ہیں اور ایک ناکارہ ہو جائے تو بھی دوسرا کام کرتا رہتا ہے۔ مرد زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایوولوشنری سائیکالوجی کے پروفیسر رابن ڈن بار نے کہا:اس کا جواب اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ مردزیادہ کمزور ہوتے ہیں۔ خواتین زیادہ
پر عزم ہوتی ہیں۔ جب معاملات بگڑتے ہیں تو مرد جلدی ہمت ہار جاتے ہیں۔ خواتین اآخری دم تک کوشش کرتی رہتی ہیں جب کہ مرد ایک سطح تک ہی کوشش کرنے کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف برسٹل کے فزیالوجی پروفیسر میکس ہیڈ لے کے مطابق یہ ایک جانی پہچانی حقیقت ہے کہ خواتین کے جسم میں چربی یادہ اور میٹابولک ریٹ کم ہوتا ہے۔ اس لیے وہ زیادہ دیر تک مشکل صورتحال کا سامنا کر لیتی ہیں

source : http://gulfnews.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *