کیا ہم محفوظ ہیں۔۔۔

afshan huma
آپ جانتے ہیں کہ انسان کی ابتدائی زندگی کیسی تھی، وہ کیسے رہتا تھا اور کیسے جیتا تھا۔ جینے کے لیے کتنے جتن کرتا تھا۔ اس کی زندگی کو کیسے کیسے خطرے لاحق تھَے اور کیسی کیسی کاوشوں سے اپنی حفاظت، بھوک، پیاس اور زندگی کی دیگر ضروریات کو پورا کرتا تھا۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ کسی اور مخلوق خدا نے اپنی اور انے پریوار کی حفاظت کے لیے اتنی تگ و دو نہیں کی جتنی انسان نے کی ہے۔ ایسا لگتا ہے انسان کو اپنی زندگی سے بے انتہا محبت رہی ہو گی۔ تبھی تو اس نے اپنے لیے ایک سے ایک کی ایجادات کی اوراعلی ترین حفاظتی ہتھیار بنائے۔ میں نے کسی ذہین ترین جانور کو بھی اینٹ یا پتھر تک اٹھا کر مارتے نہیں دیکھا۔ جبکہ اللہ کی اس بہترین مخلوق نے ایک ہی وار میں سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں جانوں کو مار ڈالنے کے ہتھیار بنا ڈالے ہیں۔ روز اول سے انسان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور نہ جانے کب تک لڑتا رہے گا۔ خود کو جانوروں اور موسمی حالات سے محفوظ رکھتے رکھتے ایک اور جنگ جس میں انسان جانے کب سے پڑا رہا ہے وہ ہے انسان کی انسان کے خلاف محاظ آرائی۔
ایک طرف تو انسان ایک گھرانے، گروہ اور اس دور میں ایک معاشرے کا حصہ بن کے رہنا چا ہتا ہے اور دوسری طرف اسے ہر دوسرے تیسرے چوتھے شخص سے بیزاری ہے۔ ایسا کیوں اور کب ہوتا ہے۔ انسان نے اپنے لیے جن معاشرتی اقدار کو اپنا لیا ہے اس میں خوراک، صحت، معاشرت اور زندگی کی تمام تر ضروریات و سہولیات، ایک ملکیت اور طاقت کی صورت دیکھی جا رہی ہیں۔ اگر اس کے کا اچھا زریعئہ معاش ہے، اچھا اور محفوظ گھر ہے، اچھی گاڑی ہے، بینک میں رقم موجود ہے، ایک صحتمند کنبہ ہے، دوست یار ہیں؛ یعنی ایک خوش کن طرز زندگی ہے تو اسے لگتا ہے یہ سب اس کے لیے نعمتیں تو ہیں جو اس نے بڑی محنت سے حاصل کی ہیں، لیکن ان کے چھن جانے کے خوف سے وہ آج تک باہر نہیں نکل سکا۔ اور نکلتا بھی کیسے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے آس پاس بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ سب حاصل نہیں کر پائے۔ اب یہ شخص اپنے تئِیں سوچ لیتا ہے کہ لوگ اسے رشک اور بہت ممکن ہے حسد کی نظر سے دیکھتے ہوں گے ۔ یہ سوچ خوف کی سیڑھی کا پہلا قدم ہے۔ اس سوچ سے اس نے زندگی جو کچھ پا رکھا ہے وہ باعث رحمت ہونے کی بجائے باعث زحمت بننا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی کی آسودگی ہی اس کی سب سے بڑی پریشانی بننا شروع ہو جاتی ہے۔ اس پریشانی سے نکلنے کے لیے وہ اور کماتا اور مزید حفاظتی اقدامات کرتا ہے۔ اکثر لوگوں کو اپنی زندگی میں اس کا انجام یاد نہیں رہتا، اور وہ بقا کی جنگ میں پڑے رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہی زندگی ہے۔
فرائیڈ میری نظر میں اپنے دور کا بہترین ماہر نفسیات تھا۔ جس نے جنسی اور طاقت کی ہوس کو دو اہم ترین محرکات کے طور پر بیان کیا۔ فرائیڈ کی تھیوری کو ماننے والے لوگ بھی اکثر یہ ماننے سے ہچکچاتے ہیں۔ اور دبے سے لفظوں میں بس اتنا کہتے ہیں کہ ہاں کافی حد تک فرائیڈ صحیح کہتا تھا، لیکن۔۔۔ اور پھر اس لیکن کے بعد مختلف تاویلیں دی جاتی ہیں۔ انسان نے اپنے رویوں سے بارہا یہ ثابت کیا ہے اور کرتا رہے گا کہ ہاں اسے طاقت اور جنسی خواہشات نے بہت سے اعمال کرنے پر آمادہ کیا لیکن کیوں کہ آج کا انسان ایک مہزب معاشرے کی معاشرت کا لبادہ اوڑھے رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ دونوں محرکات کے تابع ہونے کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا۔ وہ انہیں دونوں محرکات سے سب ذیادہ منکر رہتا ہے۔ اپنی ذات کی نفی کرنا اور اپنے محرکات سے اختلاف رکھنا عام بندے کے بس کی بات نہیں۔ اس کوشش میں صرف وہ لوگ کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں جو درویشی، صوفیانہ یا فقیرانہ راہ پر چل نکلتے ہیں۔ یہ عام بندے کے بس کی باتیں نہیں۔ یہ وہ مشکل راستہ ہے جس کے پہلے سنگ میل تک پہنچنے والا بھی لاکھوں میں پہچانا جاتا ہے۔ ابتدا میں،لوگ اسے جنونی، دیوانہ اور جانے کیا کیا کہتے ہیں مگر تب تک جب تک کہ وہ اس کی سچی اور مخلص سوچ کو سمجھ نہیں جاتے۔
انہیں دو محرکات کے مرہون منت دوسری نہج پر پہنچنے والے لوگ اور طرز کے جنونی ہوتے ہیں۔ وہ طاقت اور جنسی ہوس کا اس قدر شدت سے شکار ہوتے ہیں کہ ہر جائز و ناجائز طریقہ سے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان پر سوار جنون بھی ان کے آس پاس کے لوگوں پر ویسے ہی عیاں ہوتا ہے جیسے کہ درویشی کا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے آس پاس پائے جانے والے ذیادہ تر افراد ان دونوں انتہائی حدود کے درمیان ہوتے ہیں۔ جو لوگ میانہ رو ہیں، نہ تو اپنے محرکات اور دنیاوی خواہشوں سے اس قدر دور کہ فقیری اپنا لیں اور نہ ان کے اس قدر حصار میں کہ بر بریت پر اتر آئیں۔ ایک صحتمند معاشرہ وہی ہے جہاں دونوں انتہائوں پر پائے جانے والے لوگوں کی تعداد میانہ رو لوگوں کی نسبت کم رہتی ہے۔ ان انتہائوں پر پائے جانے والے لوگوں کو ایسے صحتمند معاشرے میں پہنچاننا آسان ہے لیکن زرا تصور کیجئے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں میانہ رو افراد کے روپ میں جنسی اور طاقت کی ہوس کے مارے لوگ چھپے بیٹھے ہوں اور درویشی کا لبادہ تک اوڑھ لیں تو اس میں انسان کس قدر غیر محفوظ ہو گا۔ وہ اپنے آس پاس کس پر یقین کرے گا جب طاقت کے نشے سے چور خود کو درویش اور صوفی گردانتا ہو، جنسی ہوس میں ڈوبے ہوے لوگ خود کو دین داری کی پوشاک میں لیے پھرتے ہو۔ ایک عام آدمی کس قدر خوف و خطرے میں ہو گا۔ کیا آپ جانتے ہیں ایسا معاشرہ پنپنے دینے میں کسی اور کا نہیں وہاں کے رہنے والوں ہی کا دوش ہے۔ انہوں نہے آسانی اور سہل پسندی کی زندگی اپنائی۔ خود کو سوچ، احساس اور شعور سے بے بہرہ رہنے دیا۔ وہ کام جو اپنے کرنے کے تھے، کسی اور کے کرنے کے منتظر رہے اور آج طاقت اور جنسی ہوس اور بے راہ روی ان کے دروازوں کی دہلیز پھلانگ چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *