کیا امریکہ نیا سعودی عرب ہے؟

11

سمانتھا گراس

جنوری آئل مارکیٹ رپورٹ میں آئی ای اے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے آئل کی پروڈکشن میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ آئل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ ایک کانگریس اجلاس میں فاتح بیرول جو آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں نے امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا آئل اور گیس لیڈر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق 2018 میں امریکہ کی یومیہ آئل پروڈکشن 10 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی اور سعودی عرب اور روس پیچھے رہ جائیں گے۔ پروڈکشن کی اس تیزی کے بعد ایک سوال اٹھتا ہے ۔ کیا امریکہ آئل مارکیٹ میں سعودی عرب کو اوور ٹیک کرنا چاہتا ہے؟ یہ بہت دلچسپ سوال ہے لیکن اس کا جواب نفی میں ہے۔ امریکہ آئل انڈسٹری سعودی عرب کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑ سکتی چاہے جتنی مرضی پروڈکشن میں اضافہ کر لیا جائے۔ اس کو سمجھنے کے لیے آئل مارکیٹ کے ایونٹس پر نظر ڈالنی پڑے گی۔ جب آئل پرائس 2014 میں 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 2016 کے آغاز تک 30 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی۔ اس کے جواب میں اوپیک نے روس کے ساتھ مل کر آئل پروڈکشن میں کمی لانے کی کوشش کی جس کا مقصد آئل کی قیمت بڑھانا اور آئل انوینٹریز میں کمی لانا تھا۔ نومبر 2016 میں ان دونوں کے بیچ ایک ڈیل ہوئی جس کا پروڈکشن کو کم کر کے 1 اعشاریہ 8 ملین فی بیرل یومیہ تک محدود رکھنے کا معاہدہ کیا گیا اور پھر اس معاہدے کو 2018 تک توسیع دے دی گئی۔
سعودیوں نے سپلائی میں سب سے زیادہ کمی کا ریکارڈ قائم کیا اور تعداد کو 4 اعشاریہ 86 ملین بیرل یومیہ تک لے آئے۔ جب سے پروڈکشن میں کمی ہوئی، آئل کی پرائس میں 25 ڈالر فی بیرل تک اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ چیز اوپیک کے لیے فائدہ مند رہی ہے۔ لیکن اوپیک کی یہ کامیابی عارضی ہے۔ شیل آئل جو امریکی پروڈکشن میں سب سے آگے ہے وہ باقی تمام آئل اور گیس کی قیمتوں کے مقابلے میں سستا ہے۔ اس کی وجہ سے امریکی پروڈکشن قیمتوں پر بہت زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ یہ رد عمل کی امریکی پروڈکشن اوپیک پروڈکشن کٹ کے مقابلے میں تیزی سے کاونٹر ایکٹ کرنے کی کوشش مین ہے۔ سچ یہ ہے کہ آئی ای اے کے مطابق صرف امریکی آئل پروڈکشن میں اضافہ 2018 تک صرف اوپیک کی طرف سے کمی کی گئی میعاد تک ہی پہنچ پائے گا۔ امریکی پروڈکشن میں اضافے کی وجہ سے اوپیک کےلیے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اوپیک نے پروڈکشن میں کمی لانے اور آئل پرائس میں اضافہ کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے لیکن یہ کرنے کے لیے اسے مارکیٹ شئیر میں سے نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ پروڈکشن صرف تیزی سے قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے بڑھایا ہے۔ مارکیٹ شئیر کا یہ نقصان اوپیک کےلیے آج کے حساب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو
سکت اہے۔ آ ج کے دور میں آئل ڈیمانڈ میں اضافہ کو سمجھنا آئل اکانومسٹ کی اصل گیم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر کو یہ معلوم ہے کہ دنیا میں 10 سے 20 سال تک آئل ڈیمانڈ گروتھ میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا لیکن اس بدلتے وقت میں مارکیٹ شئیر کو مینٹین کرنا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اوپیک قیمت بڑھانے کی جنگ جیت بھی گیا ہو تو بھی مارکیٹ شئیر میں یہ ہار رہا ہے۔امریکہ ایک اہم آئل پروڈیسر بن چکا ہے اور گلوبل آئل مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا چکا ہے کیونکہ یہ آئل پروڈکشن کو قیمت کے مطابق رکھنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ لیکن امریکہ اور سعودی آئل کمپنیوں کے بیچ اہم فرق کی وجہ سے امریکہ کبھی سعودی عرب سے آئل مارکیٹ میں فوقیت حاصل نہیں کرسکتا اگرچہ پروڈکشن کے لحاظ سے یہ سعودی عرب سے آگے ہی کیوں نہ نکل جائے۔ سعودی آئل پروڈکشن صرف ایک کمپنی یعنی آرمیکو کے ہاتھ میں ہے اور یہ کمپنی سعودی حکومت کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ یہ کمپنی صرف پرافٹ کے مقصد سے کام نہین کرتی ۔ وہاں پروڈکشن میں اضافہ یا کمی سیاسی صورتحال اور گلوبل آئل
مارکیٹ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ سعودی آرمیکو اپنی ویلیو کے 5 فیصد شئیرز فروخت کرنے کی کوشش میں ہے لیکن بنیادی ڈھانچہ اور فیصلہ سازی کا عمل حکومت کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔ امریکہ میں آئل انڈسٹری بہت سی کمپنیوں پر مشتمل ہے جو انویسٹ منٹ اور پروڈکشن کے فیصلے خود کرتی ہیں اور اپنی قیمتیں اور فائنانشل پوزیشن کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ کرتی ہیں۔ امریکی آئل انڈسٹری کبھی ایک کمپنی کی طرح مارکیٹ اور قیمتوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ اس طرح کا رویہ اینٹی ٹرسٹ لا کے مطابق غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آرمیکو اور دوسرے اوپیک ممبر ایسے ہی آپریٹ کرتے ہیں اور اوپیک کا مقصد ہی یہی ہے۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی پروڈیوسرز کا مارکیٹ میں اثر و رسوخ نہیں ہے ۔ لیکن سعودی کمپنی آرمیکو اپنے پروڈکشن فیصلوں اور قیمتوں کی وجہ سے مارکیٹ پر کنٹرول رکھتی ہے۔پروڈکشن کم کر کے قیمت بھڑانے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب پروڈکشن
میں اضافہ کر کے آئل سپلائی کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب واحد ملک ہے جس کے پاس سپئر پروڈکشن کی کافی گنجائش ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اندازہ کے مطابق سعودیہ کے پاس ڈیڑھ سے 2 ملین بی بی ایل/ڈی کے ذخائر موجود ہیں ۔  ایک اور بڑا فرق جو امریکہ اور سعودی آئل پروڈکشن میں نظر آتا ہے وہ آئل پروڈکشن کی کم قیمت ہے۔ قیمت کے بارے میں اصلی معلومات تو خفیہ رکھی جاتی ہیں
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب کم اخراجات پر آئل پروڈکشن یقینی بناتا ہے۔ اسی وجہ سے آئل کے خاتمہ کے قریب والے عرصہ میں بھی سعودی عرب بہت فائدہ مند صورتحال میں ہو گا۔ امریکہ بھی پروڈکشن قیمتوں میں تیزی سے کمی لا رہا ہے اور کم قیمت کے حوالے سے مارکیٹ میں سخت مقابلے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن شیل آئل ریسورسز جن کی وجہ سے امریکہ کی پروڈکشن شروع ہوئی ہے وہ سعودیہ کے مقابلے میں بہت مہنگے داموں پروڈکشن کے عمل سے گزرتا ہے۔  اگرچہ امریکہ خود ابھی آئیل اور گیس پروڈکشن کا اہم حصہ بن چکا ہے لیکن آرمیکو کمپنی گلوبل آئل مارکیٹ میں ابھی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی پہلے تھی جس کی وجہ اس کا بااثر ہونا اور اس کی سستے داموں پروڈکشن کی خاصیت ہے۔اگلے کچھ
سال میں سب سے زیادہ اہمیت والا سوال یہ ہے کہ آرمیکو کمپنی بے شمار سپلائی اور ڈیمانڈ گروتھ کے خاتمہ کے کمبی نیشن کے مقابلے میں کیا رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ صورتحال پیدا ہونے میں کافی سال لگ سکتے ہیں لیکن وقت قریب آ رہا ہے جب یہ سوال درپیش ہو گا۔ ابھی تک تو سعودی حکومت نے اس بات کو یقینی بنائے رکھا ہے کہ مناسب قیمت پر تیل کی فروخت جاری رہے اور مستقبل کےلیے بھی ذخائر موجود رہیں۔ لیکن ڈیمانڈ گروتھ میں کمی آنے کے بعد کیا وہ قیمت کے لحاظ سے مارکیٹ مین مقابلہ چھوڑ دیں گے اور امریکی پروڈیوسرز کی طرح کا رویہ اختیار کریں گے، اس بات کا جواب صرف وقت ہی دے گا۔

courtesy : https://www.brookings.edu

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *