بچ نکلنے والے کی گواہی

12

سدرہ نیازی

بہت سے درندے انسانوں کے بھیس میں گھوم رہے ہیں اور ہمارے معاشرے کا حصہ  ہیں جن پر ہمارے لوگوں کو کبھی شک بھی نہیں گزرتا کہ وہ بچے پر جنسی حملہ کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بہت قریبی اور درد مند انسان کے طور پر دکھاتے ہیں اور باعزت شہری ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں اور پھر اپنے ڈرامہ بازی کے زریعے حاصل کیے گئے رتبہ کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں کو جنسی اور جذباتی طور پر تکلیف دیتے ہیں۔ زینب قتل کے بعد پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث ہے ۔ اس واقعہ نے میرے پرانے زخموں کو بھی تازہ کر دیا ہے۔ میں میڈیا کوریج پر مکمل توجہ مرکوز کیے رکھتی ہوں اور بچوں پر تشدد روکنے کے لیے سرگرم ہوں لیکن اندر سے مجھے یہ خوشی بھی ہے کہ زینب کی موت ہو گئی اور وہ اب اس تشدد کے بعد جینے پر مجبور نہین ہو گی۔ میں نہین جانتی کہ کوئی شخص ایک بن ماں کے بچے کی تکلیف کو محسوس کر سکتا ہے جسے بچپن سے جنسی، جسمانی اور ذہنی طور پر تکلیف میں رکھا گیا ہو۔ لیکن یہ ایک گھناونا سچ ہے کہ میں زندگی کے ہر سٹیج پر اس طرح کی تکالیف سہ چکی ہون، مدرسہ کی لڑکیوں کے ہاتھوں اور اپنے رشتہ داروں کے ہاتھوں جنسی اور جسمانی حملوں کا سامنا کرتی رہی ہوں۔ میں نے باعزت انسان کے روپ میں چڑیلیں، بھیڑیے اور وحشی درندوں کو دیکھا ہے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی مجرمانہ خاموشی اور گناہ کی سپورٹ کو دیکھتی آئی ہوں۔
آج جب میں اپنے بچوں کو تعلیم دینے لگتی ہوں کہ وہ کیسے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں تو میرا بیٹا مجھ سے سوالات پوچھتا ہے۔ وہ میری آواز کی کپکپاہٹ کو محسوس کر لیتا ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے کہ کبھی میرے ساتھ ایسا ہوا تو نہیں ہے۔ میں خاموش ہو جاتی ہوں اور کندھے اچکا دیتی ہوں۔ وہ محفوظ رہنے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے بتاوں کہ خاندان کے افراد کے ساتھ رہنا حفاظت کی ضمانت ہے۔ مدرسہ اور سکول بھی محفوظ جگہیں ہیں اور تمام ماموں اور چاچو تمہارے پاپا کی طرح ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ آدم خور درندے انسانوں کے روپ میں کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں۔ یہ بے شرم لوگ پاک ترین اور محفوظ ترین جگہوں پر بھی اپنی گھناونی حرکتیں کرنے پہنچ جاتے ہیں چاہے آپ کے والدین آپ کو بچانے کے لیے زندہ ہوں یا نہ ہوں۔ میں ایسا کہنا پسند نہیں کرتی لیکن میں اس کو بتاتی ہوں کہ وہ ہر وقت الرٹ رہے اور اپنے آپ کا دفاع کرنے کے لیے تیار رہے۔ جب وہ زینب اور اس طرح کی دوسری بچیوں کے مسائل کے بارے میں پوچھتا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اسے بتاوں کہ کیسے ایک جنسی حملہ انسان کو پاگل بنا دیتا ہے ، اس کے اعتماد کو تبا ہ کر دیتا ہے ، اس کی معصومیت کو مسل دیتا ہے اور زندگی جہنم بن جاتی ہے کیونکہ انسان کو شرم، خوف اور حوصلہ شکنی کے ساتھ زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ میں یہ بتانا چاہتی ہوں لیکن نہیں بتاتی کیونکہ میں اسے اس ٹراما کے بارے میں اسے کچھ سوچنے پر مجبور کروں ۔ لیکن میں اس کی نگرانی کروں گی، اس کو بتاوں گی کہ اپنا خیال رکھے ۔اسے بتاوں گی کہ اپنی بہن کا خیال رکھے، اپنے ساتھی بچوں کا بھی خیال رکھے اور جب کبھی ظلم ہوتا دیکھے تو فورا آواز بلند کرے۔ جب وہ پوچھتا ہے کہ بچوں کو کیسے درندوں سے بچایا جا سکتا ہے تو میرا دل کرتا ہے کہ یہ بتاوں کہ صرف ظالم کو ڈھونڈ نکالنا کافی نہین ہے۔ لوگوں کو اپنی زاتی باونڈریز کا خیال رکھنا چاہیے۔ لوگوں کو تعلیم دی جائے کہ وہ سوشو پیتھی اور پیڈو فیلیا کے بیچ کے فرق کو سمجھ سکیں اور جو لوگ اس طرح کی ذہنیت رکھتے ہوں انہیں دماغی مریضوں کے ہسپتال میں علاج کےلیے بھیجیں۔ نظام عدل کو بھی محرک ہو کر مجرم کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اس طرح کے جرم پر خاموش رہیں گے تو نہ صرف مظلوم کی روح تڑپے گی بلکہ معاشرے کا ضمیر بھی مرتا جائے گا۔ میں اس کو یہ نہیں کہتی اگرچہ اس نے مجھے ہمت دی کہ اپنی تکلیف کا اظہار کر سکوں اور اپنی روح کو ا س بہت بڑے بوجھ سے آزاد کر دوں۔ میں یہ اس لیے کہہ رہی ہوں کہ 90 فیصد حملہ آور کے خاندان کے فرد یا قریبی ہوتے ہیں کیونکہ والدین اور سرپرست اپنے بچوں پر اعتبار نہیں کرتے اور انہیں اپنے خاندانی تعلقات خراب کرنے کا الزام دے دیتے ہیں کیونکہ خاندان خود اس طرح کے جرائم میں حصہ دار بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ میرے ساتھیوں اور خاندان کے افراد نے مجھے خاموش رہنے پر مجبور کیا اور کہا کہ اگر بولو گی تو لوگ تم پر انگلیاں اٹھائیں گے۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ مظلوم کو دوش دینے کی روش ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کروں۔ میں اپنے بیٹے کو ایسا بنانا چاہتی ہوں کہ وہ دوسروں کی تکلیف محسوس کر سکے اور بیٹی کی ایسی تربیت کرنا چاہتی ہوں کہ و ہ
یہ سمجھتی ہو کہ یہ جسم اس کا ہے اور کوئی دوسرا اس کے جسم پر غلط طریقے سے تسلط قائم نہیں کر سکتا۔  میری اپنی کوشش اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو گی۔ میں اپنی یادوں کے ساتھ ہمیشہ سامنا کرتی رہوں گی۔ لیکن میں اپنے آپ کو کندھے پر ہاتھ مار کر شاباش بھی دوں گی کہ میں نے اتنی مشکل برداشت کرنے کےبعد جینے کوترجیح دی وہ بھی مثبت سوچ کے ساتھ اور دوسروں کو معاف کرنے کی ہمت کر پائی۔ میں اپنے زخم کو گلے لگاوں گی
جو میرے تجربات کا حصہ ہیں کیونکہ جس طرح کی شخصیت میں بن چکی ہون اس پر مجھے فخر ہے۔  جب تک خاموشی اختیار کی جاتی رہے گی، بچوں پر جنسی حملوں کا ظلم ہوتا رہے گا۔ ہر کسی کےلیے لازم ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ جب اسے کوئی چیز غلط لگے تو یہ اس کا اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائے۔ کسی بھی وجہ سے چاہے وہ ذاتی فائدہ ہو یا مجبوری، خاموشی اختیار کرنا یا انجان بنے رہنا ظلم
کا ساتھ دینے کے برابر ہے ۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *