بائیکاٹ ایل ایل ایف

yasir pirzada

ایک صاحب ہیں، نام ہے فصیح احمد، کروڑ یا غالباً ارب پتی خاندان کے چشم و چراغ ہیں، اقبال زیڈ احمد کے فرزند ہیں، نیوز ویک پاکستان کے مدیر ہیں اور لاہور ادبی میلے (ایل ایل ایف) کے بورڈ آف گورنر میں شامل ہیں، کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑ کر گھومنے والی کلاس سے تعلق ہے، تمام کام انگریزی میں کرتے ہیں، لبرل، روشن خیال اور پروگریسو خیالات کے مالک ہیں، یوں سمجھئے گویا ایلیٹ (اشرافیہ )کی تیسری فارم ہیں۔ گزشتہ دنوں موصوف نے زینب قتل کیس کے پس منظر میں ایک شوشا چھوڑا (ٹویٹ کا اردو ترجمہ)، ٹویٹ چونکہ انگریزی میں تھی اس لئے من و عن یہاں نقل کی جا رہی ہے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے :
"The sexual abuse of children will always exist. You can never eliminate it. Sometimes it lead to great art. So there's also that."
اس بیہودہ بلکہ سفاکانہ ٹویٹ پر مسٹر احمد کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، موصوف نے تنقید کرنے والوں کو جواب میں ننگے القابات سے نوازا، اس دوران جب زینب کا قاتل سامنے آیا اور معلوم ہوا کہ اسی نے دیگر بچیوں کا ریپ بھی کیا ہے تو مسٹر احمد نے ٹویٹ کی "On the bright side atleast he is straigh"۔ اس کے بعد مزید طوفان اٹھا مگر مسٹر احمد ٹس سے مس نہیں ہوئے اور اپنے کہے کی تاویلیں گھڑنے لگے، بالآخر جب خمار اترا اور پتہ چلا کہ معاملہ زیادہ ہی گھمبیر ہے اور دنیا بھر سے لعن طعن ہو رہی تو جناب نے اس قسم کی ’’معذرت‘‘ کی :
"My tweets of yesterday were coming from anger, were poorly phrased and misread. I am sorry to have upset the people who have survived child abuse. I have been angry at the conspiracy of silence around this evil."
مسٹر احمد کی ان باتوں کے بعد نیوز ویک نے کہا کہ یہ جریدہ اس قسم کے خیالات کی تائید ہرگز نہیں کرتا اور ہم نیوز ویک پاکستان سے اپنے تعلق کا ’’جائزہ‘‘ لے رہے ہیں، لاہور ادبی میلے والوں نے بھی یہی کہا اور ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ فصیح احمد نے خود کو ایل ایل ایف سے علیحدہ (rescued) کر لیا ہے اور بورڈ نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
ہمارا ملک بھی عجیب ہے، ایک طرف لٹھ بردار مذہبی جنونی ہیں تو دوسری طرف طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی الٹرا لبرل کلاس، ایک طبقہ مذہب سے محبت کا دم بھرتے ہوئے غلیظ گالیوں کا استعمال کرتا ہے تو دوسرا معصوم بچی کے ریپ میں سے مزاح کا پہلو نکال کر عظیم تخلیق کار بننے کی کوشش کرتا ہے۔ مسٹر احمد کا یہ کہنا کہ اُن کی ٹویٹ میں فقروں کی ساخت کمزور تھی سو لوگوں کو تفہیم میں مشکل پیش آئی، عذر گناہ بدتر از گناہ ہے۔ ایک بین الاقوامی جریدے کا مدیر اگر فقرے کی ساخت درست نہیں رکھ سکتا تو پھر وہ کہاں کا مدیر ہے! مسٹر احمد کا مزید فرمانا کہ لوگوں کو اُن کی بات سمجھ نہیں آئی سوائے تکبر کے اظہار کے اور کچھ نہیں، ایک طرح سے موصوف نہ صرف اپنے کہے پر قائم رہے بلکہ تاویل یہ پیش کی کہ وہ اس بات پر غصے میں تھے کہ اس برائی کے خلاف خاموشی سازش سے کم نہیں۔ بندہ پوچھے کہ پوری دنیا میں زینب قتل کیس کا طوفان مچ گیا اور آپ فرما رہے ہیں کہ خاموشی پر آپ کو غصہ آ گیا تھا جس کا اظہار آپ نے ایک بدنما ٹویٹ کے ذریعے کیا! یہ اس شخص کا حال ہے جو اپنے تئیں ادب و فن کا سرپرست ہے، لاہور کے ادبی میلے کا روح رواں ہے، بین الاقوامی انگریزی رسالے کا مدیر ہے اور کہنا اس کا یہ ہے کہ وہ پیڈوفیلیا پر نہایت اعلیٰ پائے کی تنقید نما طنز کر رہا تھا جسے ’’کمی کمین‘‘ سمجھ نہیں پائے ورنہ اس کا کوئی قصور نہیں۔ ایل ایل ایف کے بورڈ نے، جس میں زیادہ تر مسٹر احمد کے خاندان کے لوگ شامل ہیں، اس ٹویٹ کی مذمت کرنے کی زحمت نہیں کی بلکہ الٹا فصیح احمد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے خود کو بورڈ سے علیحدہ کر لیا ہے جبکہ تاحال ایل ایل ایف کی ویب سائٹ پر مسٹر احمد کا نام بورڈ ممبران میں شامل ہے۔ نیوز ویک نے بھی اب تک اپنا تعلق اس گروپ سے نہیں توڑا اور فقط یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وہ اس کا ’’جائزہ‘‘ لیں گے۔ اشرافیہ کے دیگر ممبران بھی مسٹر احمد کی حمایت میں کودے مگر اِن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی، ایک محترمہ عائشہ ٹیمی حق ہیں، لاہور کی سوشل کلچرل ایلیٹ کی نمائندہ ہیں، انہوں نے ٹویٹ کیا کہ بہت سے لوگو ں کو فصیح احمد کا یہ انداز پسند نہیں آیا ہوگا جس طرح انہوں نے ہمارے معاشرے کے ایک تاریک پہلو کو بے نقاب کیا مگر جو انہوں نے کہا وہ سچ ہے، وہ زیادتی کرنے والوں میں سے نہیں بلکہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک اور محترمہ ہیں فریحہ الطاف، ماڈل ہیں، انہوں نے کچھ اس قسم کی ٹویٹ کی کہ ہائے فصیح میں جانتی ہوں تم ایسے نہیں! یہ ہے ہماری لبرل کلاس۔ بجائے اس کے کہ انہیں اپنے رویے پر شرم آتی وہ بے شرمی سے اس کا جواز تراشتے رہے۔ یہ وہ نام نہاد لبرلز ہیں جنہیں آزاد خیالی کے نام پر آمریت بھی قبول ہے، اسی لئے اِس کلاس کے زیادہ تر لوگ مشرف کے کلب میں شامل تھے، انہیں اس ملک میں جمہوریت سے غرض ہے نہ اخلاقی اقدار سے، اپنے آپ کو یہ آسمان سے اتری ہوئی مخلوق سمجھتے ہیں، غیر ملکی فنڈ سے تھیٹر میں انسان دوستی کے موضوع کے ڈرامے کرواتے ہیں اور اِن کی انسان دوستی کا معیار یہ ہوتا ہے کہ ڈرامے کے دوران کوئی عام آدمی تھیٹر کی حدود میں داخل نہ ہو سکے۔ یہ اِس ملک کی اشرافیہ، پڑھے لکھوں اور انگریزی ادب کے ٹھیکے داروں کا حال ہے، ان پڑھوں سے کوئی کیا گلہ کرے!
فصیح احمد کی پے در پے بیہودہ ٹویٹس (جو اب انہوں نے اپنی ٹائم لائن سے مٹا دی ہیں) میں ایک ٹویٹ یہ بھی تھی کہ باراک اوبامہ تو نہیں البتہ ٹام کروز اگر کسی کا ریپ کرے تو سمجھو جیسے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہو۔ ان تمام خرافات کے جواب میں دنیا بھر سے لوگوں نے فصیح احمد کے ساتھ ساتھ نیوز ویک اور ایل ایل ایف کے بھی لتے لئے اور بائیکاٹ ایل ایل ایف کا ایک ٹرینڈ چلایا۔ لاہور کا ادبی میلہ تمام تر خرابیوں کے باوجود ایک اچھی روایت ہے تاہم اس کے بورڈ ممبران اگر اس قسم کے خیالات رکھتے ہیں اور ننگی طاقت کے نشے میں فصیح احمد کی دوٹوک مذمت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے تو ایسے ادبی میلے کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے، ہمیں لاہور میں ایسا ادبی میلہ نہیں چاہئے جس کا سرپرست بچوں سے جنسی زیادتی کے المیے سے آرٹ ڈھونڈتا ہو۔ ہماری بھی کیا بدنصیبی ہے، مولوی ملے تو وہ جنہوں نے مذہب کی ٹھیکیداری شروع کردی اور لبرل ملے تو ایسے جن کے سر سے نشہ ہی نہیں اترتا۔
Fasih Ahmed's tweets didnt come from anger rather they came from intoxication.
کالم کی دُم:میڈیا کا جنازہ تو اٹھ گیا ہے، اب صرف قُل کا اعلان باقی ہے۔اس موضوع پر قلم اٹھانے کا ارادہ تھا کہ پیرکے روزانصار عباسی صاحب کا کالم’’بے لگام میڈیا کا علاج‘‘ پڑھ بیٹھا اور’’یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ‘‘ والی صورت ہو گئی، جو کچھ میں لکھنا چاہتا تھا انصار صاحب نے لکھ ڈالا، میرے اور انصار عباسی کے خیالات ایک روز اتنے مل جائیں گے میں نے سوچا بھی نہیں تھا، خدا خیر کرے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *