"آئی کیا" فرنیچر کمپنی سے لوگ خوش یا ناخوش؟؟

5

کیٹی ہوپ

اگر آپ کسی کے سامنے آئی کیا کا نام لیں گے تو یا تو اس کے چہرےپر مایوسی چھا جائے گی یا مسکراہٹ پھیل جائے گی۔ یہ سویڈش دیو کمپنی ریٹیل آوٹ لیٹ کی مارمائٹ کے طور پر جانی جاتی ہے جسے کچھ لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کچھ اس سے بہت محبت کرتے ہیں۔  لیکن نفرت اور محبت نے اس کے تیس سالہ ترقی کے سفر پر کوئی منفی اثر نہیں دکھایا اور اس کی مقبولیت بڑھتی ہی گئی۔ اس کمپنی سے محبت کرنے والے اس کے سکینڈی نیوین ڈیزائن کا حوالہ دیتے ہیں جو بہت مناسب قیمت میں دستیاب ہوتے ہیں۔ لیکن جتنے اس کمپنی کے عاشق ہیں اتنے ہی مخالف بھی ہیں جنہٰں اس کمپنی کے سامنے لمبی لائن، لیبیرنتھ لے آوٹ، فلیٹ پیک سٹرکچر، ایلن کی، میٹل بولٹ اور عجیب و غریب معلومات پر اعتراض رہتا ہے۔ عجیب کانسیپٹ تو پھر یہ کمپنی انگلینڈ کی سب سے بڑی فرنیچر کمپنی کیسے بن گئی اور 5 سال کے اندر 20 سے زیادہ سٹور کھولنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟ پال فش وک جو اس کمینی کے ابتدائی دنوں کے ملازم تھے کے مطابق جب یہ چین شروع ہوئی تو کسٹمرز کا ملا جلا رجحان تھا اور کوئی خاص دلچسپی یا عدم دلچسپی کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ 1987 میں اسے ایک عجیب و غریب کانسپٹ سمجھا جاتا تھا اور لوگ حیران ہوتے تھے کہ آیا یہ فرنیچر سٹور ہے یا سپر مارکیٹ۔ زیادہ تر لوگ کنفیوژ نظر آتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا آُپ ہمارا آرڈر بک کر سکتے ہیں؟ اس کے باوجود کسٹمر کی کمی نہیں تھی۔ شروع سے ہی مقبولیت اتنی بڑھی کہ ہمیں ایک دن میں صرف 100 افراد کو مارکیٹ میں داخل ہونےکی پالیسی اپنانا پڑی۔ پیٹرک اوبرین جو برطانیہ کے ریٹیل ریسرچ ڈائریکٹر ہیں کے مطابق اس بزنس چین کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس نے ایک نیا کانسیپٹ متعارف کروایا ہے۔ اس کمپنیکا سٹائل چنٹز اینڈ ڈوڈی کمپنی کے بلکل بر عکس تھا جو اس وقت انگلینڈ میں عروج پر تھی جب یہ کمپنی قائم ہوئی۔ آئی کی کا نہ صرف پراڈکٹس کا مجموعہ مختلف تھا بلکہ بیچنے کا طریقہ بھی بلکل مختلف تھا۔   مسٹر اوبرین کے مطابق کسٹمر کو بادشاہ ماننے کا رواج جس ملک میں ہو وہاںکسٹمر کو سفر پر مجبور کرنا کمپنی کےلیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ اس کمپنی کی بھی یہ خامی ہے کہ کسٹمر کو دور دور تک سفر کرنا پڑتا ہے جو کسٹمرز پسند نہیں کرتے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے بزنس سائیکالوجسٹ ڈاکٹر ڈمٹریوس کا کہنا ہے کہ آئی کی کی حکمت عملی یہ ہے کہ یہ کسٹمر کو سمجھائے کہ وہی با اختیار ہے وہ کاپی پینسل اور ٹرالی لے اور جو چاہے خرید لے اسے ہر قسم کا تعاون فراہم کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ایک مجبور ی ہے ہر کسٹمر کے لیے کہ اسے سفر کرنا پڑتا ہے۔ جب ایک انسان اپنے گھر کے بیڈروم اور کچن کو دیکھتا ہےاور پھر اس کا موازنہ آفس فرنیچر کے ساتھ کرتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی چیز خریدنے میں غلطی کر بیٹھتا ہے۔ اس کمپنی کے پھیلاو اور کامیابی میں دوسری اہم چیز اس کی قیمتوں کا فرق ہے۔ یہاں کچھ چیزیں حد سے زیادہ سستی ہیں اور کچھ بہت مہنگی بھی ہیں۔ چونکہ کسٹمر ہر چیز کو ایک سودا سمجھتے ہیں اس لیے وہ اپنی ٹرالی میں کوئی نہ کوئی مہنگی چیز ضرور رکھنا پسند کرتے ہیں۔ ٹاون سے دور جا کر خریداری اور دکان کے سامنے لائن میں کھڑا ہونا بھی کمپنیکی کامیابی کا ایک اہم راز ہے۔ لوگ ایک ہی بار زیادہ چیزیں خریدنا چاہتے ہیں تا کہ انہیں مستقبل قریب میں دوبارہ سٹور میں آنے کی ضرورت نہ پڑے۔*اب کچھ حالات بدلنے لگے ہیں اور کچھ آئٹم کی آن لائن خریداری بھی ممکن بنا دی گئی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں امریکی سٹارٹ اپ فرم ٹاسک ریبٹ بھی خرید لی ہے جس کے ذریعے مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دوسرے آن لائن ریٹیلرز کے ذریعے مال کی فروخت کر کے بھی کمپنی نے اپنے بزنس کو پھیلانے کا عمل جاری رکھا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی ملک بھر میں سٹی سینٹر سٹور کھولنے کے تجربات کے
عمل سے بھی گزر رہی ہے اور ٹاون سینٹرز میں پک اپ پوائنٹس بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ اوبرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی پہلے ہی اتنی بڑی ہے کہ اس میں کوئی ریڈیکل تبدیلی لانا بہت مشکل ہو گا۔ سب سے بڑا چیلنج کسٹمر کو اس بات پر مطمئن کرنا ہے کہ یہ کمپنی کم قیمت پر اعلی کوالٹی کا مال تیار کرتی ہے۔  اس کمپنی سے لوگ طالب عملی کے دور سے جڑتے ہیں جب انہیں سستی اشیا درکار ہوتی ہیں۔ جب وہ جاب حاصل کر کے اچھی اور مہنگی چیزیں خریدتے ہیں تو اسی کمپنی سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ تو کیا ایسا ممکن ہے کہ گاہک تھک جائے اور آئی کی کو چھوڑ کر کسی دوسری مارکیٹ کا انتخاب کر لے؟ مسٹر اوبرین کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔ جب تک لوگ صوفہ یا میٹریس استعمال کرتے رہیں گے تب تک آئی کیا جیسی دکانیں چلتی رہیں گی اور انہیں کوئی آن لائن شاپنگ سینٹر بھی ہرا نہیں سکتا۔ کچھ لوگ ہر حال میں ایسے موجود رہتے ہیں جو آٗیی کی سٹور میں خود آ کر خریداری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر ایسے لوگ جو سویڈش میٹ بال کے شوقین ہوتے ہیں۔

courtesy : http://www.bbc.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *