ایرانی اپنے انقلاب سے مایوس ہورہے ہیں؟

7

حال ہی میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد ایرانی شہریوں نے موجودہ حکومت کا موازنہ 1979 کے انقلاب سے پہلے کی حکومتوں سے کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد ایران ایک بادشاہت کے دور سے ہٹ کر اسلامی جمہوریہ بنا دیا گیا تھا ۔ ایک ہیش ٹیگ ٹویٹر پر جاری کیا گیا جس کے زریعے اپوزیشن جماعتوں کے حامی شہریوں نے ملک کی گرتی ہوئی معیشت اور سیاسی صورتحال کو قبل از انقلاب ایران کے مقابلے میں دیکھنے کی روایت ڈالی ہے۔ یہ ہیش ٹیگ
**#What_we_gave_vs_what_we_got
<https://twitter.com/hashtag/%DA%86%DB%8C_%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D9%85_%DA%86%DB%8C_%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%DB%8C%D9%85?src=hash>کے
نام سے شروع کیا گیا ہے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے حامی شہریوں نے بھی واپس جارحانہ انداز اپنا کر ناقدین کو خاموش کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور پچھلی تین دہائیوں میں ملک میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس ہیش ٹیگ کو منگل کے روز 25000 بار استعمال کیا گیا جن میں سے زیادہ تر ایران میں موجود شہریوں کے تبصرے شامل تھے لیکن امریکہ، برطانیہ، جرمنی وغیرہ میں موجود ایرانی کمیونٹی ممبران نے بھی اس میں بھر پور حصہ لیا۔ چونکہ ایران میں ٹویٹر سرکاری طور پر ممنوعہ ہے اس لیے بہت کم لوگ پرائیویٹ نیٹ ورک کے ذریعے ٹویٹر تک رسائی
رکھتے ہیں اور اپنی لوکیشن بھی مخفی رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایرانی انقلاب سی آئی اے نے 1953 میں ایران میں بغاوت کروا کر منتخب وزیر اعظم مصدق کو برطرف کروا دیا اور شاہ محمد رضا پہلوی ملک کے ایڈمنسٹریٹر مقرر ہو گئے جنہوں نے امریکہ اور مغربی طاقتوں سے قریبی تعلقات قائم کیے۔ انہیں 1979 میں ایک انقلابی تحریک کے ذریعے حکومت سے بے دخل کیا گیا ۔ اس انقلاب کے رہنما آیتہ اللہ روح اللہ خمینی تھے جنہوں نے اقتدار میں آ کر ایران کو اسلامی جمہوریہ بنا دیا۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ نے ایران سے تمام تعلقات منقطع کر دیے اور ایران کے حکمرانوں نے مغربیت کو اپنی پالیسیوں میں شامل کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے انہیں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب 1989 میں خمینی اس دنیا سے رخصت ہوئے تو علی خمنائی ملک کے سپریم لیڈر بن گئے۔ ایران میں اس کے بعد کئی بار سول لبرٹی اور معاشی مشکلات کے خلاف مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں اور رواں ماہ جو مظاہرے ہوئے یہ 2009 کی گرین تحریک کے بعد سب سے زیادہ وسیع اور سخت تحریک سمجھی جاتی ہے۔  اگرچہ ملکی حکام نے احتجاج کو قابو میں کر لیا ہے لیکن ایرانی شہری اب آزادی سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ انقلاب کے بعد چار دہائیوں میں ان کی معاشی پوزیشن ابھی تک مضبوط کیوں نہیں ہوئی اور اس کا ذمہ دار مذہبی حکومتیں نہیں تو اور کون ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سماجی آزادی اور رہن سہن کے طریقے پچھلی دہائیوں سے مسلسل تباہی کی طرف گامزن ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ کے حامی اس کے جواب میں ملک کے الیکشن ، شرح خواندگی اور فلاحی پروگراموں کا حوالہ دیتے ہیں۔ وحید یامین پور جو ایک ہارڈ لائن ٹی وی پریزنٹر ہیں نے حال ہی میں آیتہ اللہ خمینی
کے جورڈن کے بادشاہ حسین بن طلال کے بارے میں بیان کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اسے کہا: جورڈن کے بادشاہ نے ایک پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ایک اور بادشاہ؟ اسے بھی جانا ہو گا۔ پوریا زراتی جو ایک صحافی ہیں اور لندن میں قائم مانوٹو چینل کے ساتھ وابستہ ہیں نے اپنے گاوں بابولسر کی کیسینو کا موازنہ انقلاب سے پہلے کے دور سے کرتے ہوئے لکھا: میرے گاوں بابولسر کے کیسینو کی حالت دیکھیں انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد۔ ایک تہران میں موجود شہری نے شاہ کے دور حکومت اور انقلاب کے بعد کے زمانہ کی خواتین کے لباس کی تبدیلی کا موازنہ کیا۔ انقلاب کے کچھ عرصہ بعد ہی خواتین پر حجاب لازمی قرار دے دیا گیا تھا اور انہیں گھنٹوں سے نیچے تک لمبی قمیض پہننے کا بھی حکم جاری کیا گیا تھا۔ ایک قدامت پسند ٹویٹر صارف نے شیراز شہر میں شاہ کی سابقہ ملکہ ڈنمارک کے ہاتھ چومتے ہوئے تصویر شئیر کی اور اس کا موازہ آیتہ اللہ خمینی کے اس بیان سے کیا: ہم نے ان کو ذلیل کیا اور خود عزت کمائی۔ لیکن اب اس بحث کے بعد کچھ لوگ مستقبل کے بارے میں اپنی خواہشات کے اظہار کےلی ایک نئے ہیش ٹیگ کا استعمال کرنے لگے ہیں۔ اب نوجوان جس ہیش ٹیگ کا استعمال کر رہے ہیں وہ مارٹن لوتھر کنگ کی شاندار تقریر میں سے لیا گیا ہے جو انہوں نے 1963 میں واشنگٹن میں کی تھی۔ #I_have_a_dream** کو اب تک 14 ہزار سے زیادہ لوگ استعمال کر چکے ہیں جس میں سے زیادہ تر اپوزیشن گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ایک ٹویٹر صارف نے یوں ٹویٹ لکھا: میری خواہش ہے کہ ہم سب آزاد رہیں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار سے پیش آئیں اور رنگ ، نسل فرقہ اور کپڑوں کے فرق کو نظر انداز کرنا سیکھ لیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *