نقیب قتل کیس ، گواہوں نے 3 اہلکاروں کو شناخت کر لیا

download (2)

کراچی ۔ ملیر کورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس کے ملزمان کی شناخت پریڈ ہوئی۔ گواہوں نے 3 اہلکاروں کو شناخت کر لیا۔ ملزمان شناخت کے باوجود خود کو بے قصور کہتے رہے۔ کراچی کی ملیر کورٹ میں پیش کئے گئے 3 ملزمان کو دونوں اہم گواہوں نے شناخت کر لیا۔ شناخت پریڈ سے قبل ایک ملزم نے بچنے کے لئے خوب پھرتیاں دکھائیں۔ ملزم نے اعتراض کیا کہ اسے تھانے سے انہیں کپڑوں میں لایا گیا ہے، گواہ سمیت سب نے دیکھا ہے اس لئے کپڑے تبدیل کروائے جائیں۔ ملزم نے کپڑے تبدیل کرکے سر پر گرم ٹوپی پہن لی۔ ڈمی کی جیکٹ بھی اتار دی۔ عدالت نے ملزم سمیت سب کی ٹوپیاں اتروا دیں۔ شناخت پریڈ میں گواہ نے سب سے پہلے ملزم اقبال کو شناخت کیا۔ گواہ نے ڈمیز کے درمیان کھڑے اقبال کے سینے پر انگلی رکھ کر کہا یہ ملزم ہے۔ گواہ قاسم نے بیان دیا کہ ملزم اقبال گاڑی کی سائیڈ پر کھڑا تھا، ملزم نے ہمیں پکڑا نہیں تھا لیکن وہ پولیس موبائل کے ساتھ سادہ لباس میں موجود تھا۔ دوسرے گواہ علی نے بھی اقبال کو شناخت کرتے ہوئے یہی بیان دیا۔ ملزم اقبال بولا، میں بے قصور ہوں، 24 گھنٹے چوکی پر ہوتا ہوں، نہ ان گواہوں کو جانتا ہوں، نہ ان کو پکڑا ہے۔ شناخت پریڈ میں گواہوں نے دوسرے ملزم مظہر کو بھی شناخت کر لیا اور بیان دیا کہ یہ ملزم اس موبائل میں تھا جس میں ہمیں لے جایا گیا۔ ملزم مظہر نے بھی خود کو بے قصور کہا۔ تیسرے ملزم کو گواہوں نے انہیں ہوٹل سے اٹھانے والے اہلکاروں میں شامل قرار دیا۔ گواہان نے بتایا کہ اے ایس آئی اللہ یار اس ہوٹل کے اندر آیا جہاں ہم چائے پینے بیٹھے تھے، ملزم سادہ لباس میں تھا اور ہاتھ میں کلاشنکوف تھی۔ یہی ملزم دیگر کے ساتھ ہمیں سچل پولیس چوکی لے گیا۔ گواہوں کے اس بیان کو ملزم اللہ یار نے جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ آپ اس سلسلے میں ٹرائل کورٹ کو آگاہ کریں۔ شناخت پریڈ کے دوران تمام لوگوں کو باہر نکال دیا گیا تھا۔


سینیٹ میں نقیب قتل کیس پر گفتگو


 دوسری جانب، سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں نقیب قتل کیس پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری، آئی جی سندھ، وزیرِ داخلہ اور جرگہ ارکان نے بریفنگ دی۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ ماورائے عدالت قتل ہے، کمیٹی کی جانب سے یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی پیش کی جا چکی ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *