زینب، معاشرتی شکست و ریخت اور ہماری قوم

HOLD FOR PAKISTAN CHILDREN UNDER ATTACK BY KATHY GANNON. In this Thursday, Jan. 18, 2018. Photo Mohammed Amin shows the picture of his seven year old daughter Zainab Ansari in Kasur, Pakistan. The brutal rape of Zainab Ansari, whose body was left in a garbage dump earlier this month, has roiled Conservative Pakistan and revealed a sexual predator who has raped and killed at least 11 girls in Zainab’s hometown of Kasur. He is still at large. (AP Photo/B.K. Bangash)
معاشرہ اس وقت جس جگہ آ پہنچا ہے وہ کسی جنگل سے کئی زیادہ خطرناک اور غیر محفوظ ہے اور جنگل میں ایک طاقت کا قانون سب کو خبر کرتا
ہے کہ اپنا بچاؤ آپ کرو لیکن اس معاشرے میں طاقت پہ قبضہ ہی اس دھوکے میں کیا گیا کہ ہم کمزور کو تحفظ فراہم کریں گے اور پھر خود ہی کمزور کا شکار کرنے لگے جنگل میں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ کون سا جانور گوشت خور ہے کون سا مردار کھاتا ہے کون سے شکار کرتا ہے اور کسے شکار کرتا ہے لیکن اس معاشرے میں تو یہ خبر ہی نہیں کہ مرے ساتھ بیٹھا شخص انسان ہے یا شیطان، یہ داڑھی والا نمازی شخص دین کا رکھوالا ہے یا دھوکے کا، معلم تعلیم دینے کے لیے ہے یا بد راہ کرنے کے لیے،  قلم کار حق اور سچ کو سامنے لانے کے لیے لکھ رہا ہے یا کسی کو خوش کرنے کے لیے، کون کیا ہے اس معاشرے نے سب کی پہچان کھو لی ہے اور اب یہ معاشرہ ایک طلسمی دنیا کی طرح بن چکا ہے جہاں ہر لمحہ ہر شخص کو ہر دوسرے شخص سے خطرہ ہے
زمین پہ رہنے والے ایک ساتھ زندگیاں بسر کرنے والے ہی جب ایک دوسرے کی زندگیوں کے دشمن ہو جائیں تو پھر جان بچانا مشکل ہوتا ہے اور اس معاشرے اوراپنی تہذیب کو اس جگہ پہ لاتے ہی ہم خود ہیں اور ہمارے رویے ہیں،  ایک جگہ پر ہمارے سامنے غلط کام ہو رہا ہو تو ہم صرف یہ کہہ کر نظر انداز کر جاتے ہیں کہ ہمیں کیا ہمیں تو کچھ نہیں ہو رہا اور اگر ہم نے مداخلت کی تو ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہو جائے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کل کو ہمارے ساتھ جو اسی قسم کی صورت حال پیدا ہو گئی اور دوسروں نے بھی ایسا کیا تو کیا ہو گا اور پھر ہم ہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے تو کسی کے ساتھ برا نہیں کیا تھا پھر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا لیکن ہمیں خبر ہونی چاہیے تھی کہ جب ہم کسی کی مشکل میں اسے نظر انداز کر رہے تھے تو وہ ہم اپنے لیے ہی ویسی صورتحال مستقبل میں پیدا کر رہے تھے
کچھ دن پہلے ایک بچی زینب کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس کا ذمہ دار صرف وہی ایک شخص نہیں اس کا ذمہ دار یہ معاشرہ بھی ہے اس آدمی کو تو پھانسی پہ لٹکائیں سو لٹکائیں لیکن کاش اپنے معاشرے کے ناسور اور برائیوں کو بھی پھانسی پر لٹکا دیں تو پھر ایسا واقعہ نہ ہو اور میں تنبیہہ کرتی ہوں کہ ہم نے ایسا نہ کیا تو زینب ہر گھر میں ہے اور ڈریں اس وقت سے جب آپ کی نظر اندازی کی آگ آپ کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لے، ہم دوغلے اور منافق تو ہیں ہی لیکن اس دوغلے پن میں ہم نے بڑی حد تک اپنی برائیوں کو چھپایا ہوا ہے اور خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، میں کہتی ہوں جب روزِ قیامت ایک معصوم جان اور اس جیسی کتنی معصوم جانیں ہماری قوم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی اور آواز لگائیں گی کہ ہم اس قوم کی بیٹیاں تھیں اور اپنی ہی قوم نے ہماری عزت تار تار کر دی تو اس وقت سے کسی کو خوف نہیں آتا؟
ہم نے برائیوں کے لیے جینا چھوڑ دیا لیکن برائیاں نہیں چھوڑیں ہم نے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے کتنی ہٹ دھرمی کا سہارا لیا اور اپنے جھوٹ پر قائم رہے اور خود کو جھوٹا کہنے سے شرم محسوس کرتے رہے لیکن ہم اگر ان برائیوں سے ہی چھٹکارا پا لیں تو شاید ہماری آنے والی نسلیں ہی سدھر جائیں شاید یہ معاشرہ ایک بار پھر محفوظ لوگوں کا معاشرہ بن جائے جہاں سب کو جان اور عزت کی حفاظت میسر ہو جہاں سب کو اس کے حقوق اور فرائض کا علم ہو جہاں سب انسان ہوں اور کوئی انسان دوسرے انسان سے اس کی زندگی کا حق نہ چھینے اور کوئی دوسرے پر اپنی مرضی مسلط نہ کرے جہاں بچوں کی زندگیاں محفوظ ہوں جوان راتوں کو خون کے گھاٹ نہ اتارے جائیں جہاں بیویاں سدا سہاگن رہیں جہاں کسی ماں کا بیٹا بے قصور نہ مارا جائے جہاں کسی غریب کی بیٹی کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے جہاں سب ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوں اور جہاں زندگی ہو اور زندگی کی اہمیت ہو
ہم ایک ایسی قوم ہیں جو سب امتوں سے زیادہ قابلِ اعتبار سمجھی گئی جو بہترین امت کہلائی لیکن ہم نے اپنی اہمیت کو بھی اہمیت نہ دی اور اپنی جلد بازی اور دنیاوی لالچ میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کی تمام تہذیبی اقدار کو بھی روند دیا اور اس کا نتیجہ ہی یہ ہوا کہ ہم اپنے آپ کو پہچاننے اور اپنے معاشرے کو نام دینے سے بھی محروم ہو گئے اور اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کس معاشرے اور کس تہذیب کے علمبرداروں میں سے ہیں اور یہ پیشین گوئی بھی نہیں کر سکتے کہ آنے والا وقت ہماری پہچان کو کس طرح لے گا ہمیں کس انداز سے یاد کیا جائے گا اور کن الفاظ میں یاد کیا جائے گا اور اگر یہ معاشرہ باقی بھی رہا تو آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں اور صرف اپنے ہی نہیں ہم آنے والی نسلوں کی تہذیب و تربیت کے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں کہ ہم نے اپنے بعد میں آنے والوں کے لیے کیا چھوڑا اور کیا کیا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ہم اگر زندگی جینے کے انداز کو ہی بہتر کر کے اپنی حدود مقرر کر لیں تو بہت سارے مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور معاشرہ ایک بہت بڑے نقصان سے بھی بچ جائے گا
اب کچھ ذکر ہو زینب کا
کہا جاتا ہے کہ یہ انسان نامی مخلوق حیوان سے انسان بنی اور ہزاروں سال ارتقا کا عمل جاری رہا،
لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ آدم زاد نامی مخلوق کا ارتقائی عمل یہیں نہیں رکا جیسے یہ حیوان سے انسان بنی اب یہ دوبارہ انسان سے حیوان بنتی جا رہی ہے اور تشویش ناک بات یہ کہ معاشرہ اس حیوان کو قابو کرنے میں ناکام ہوتا جا رہا ہے،
یہ وہ انسان ہے جو اپنی ہی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے، زینب کے واقعے نے مرے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس کا مکمل ذمہ دار معاشرہ ہے اور فکری پستی،  ہم نے اپنے بچوں کو اس قدر دبا کر رکھا کہ انہیں غلط اور صحیح میں فرق کرنا نہیں آیا
اور دوسری طرف ان حیوان صفت ذہنی مریضوں کو کھلے عام چھوڑ دیا اور یہ معاشرہ کسی جنگل سے ہزار گنا زیادہ غیر محفوظ بن گیا،
دکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے خود جس علم اور فکر کی بنیاد رکھی اسے خود تو ٹھکرا دیا اور اہلِ مغرب نے ہمارے ہی علوم اور فلسفہ کو آگے بڑھا کر سائنس کا نام دیا اور ہم نے اسے حرام قرار دے کر خود کو وحشت کے عالم میں لے گئے،
میں دکھ کا اظہار کروں تو کس سے کروں بے شک مری کیفیت بیان سے باہر ہے لیکن میں بجائے اس واقعے پر رونے دھونے کے آگے کے لیے سوچنا چاہتی ہوں کہ شاید ہم اس سے سیکھ کر سدھر جائیں اور اپنے بچوں اور اپنی نسل کو محفوظ زندگی فراہم کر سکیں لیکن ہم سیکھنے والوں میں سے نہیں۔
زندگی خاک میں ملی ہو گی
آسمان ٹوٹ کر گرا ہو گا
بے گناہ چیختی ہوئی معصوم
دکھ فرشتوں نے تو سنا ہو گا
ہم تو انساں نہیں درندے ہیں
ہم کو جنگل ہی راس آئے گا
ہم کو تہذیب کا فریب نہ دے
ہم دلاسوں کا کیا کریں آخر
ایک انصاف کی طلب ہے ہمیں
اک قیامت کے منتظر ہیں ہم
وہ قیامت کبھی تو آئے گی
تب ہی یہ قوم جاگ پائے گی
اب تو دامن میں دھجیاں بھی نہیں
اب تو آنگن میں پھول کلیاں نہیں
ایک امید کا سہارا ہے
اک دعا ہی تو بچ گئی ہے اب
بیٹیوں کے سروں پہ چادر ہو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *