اس ویلنٹائین تمہیں پھول نہیں بھیج سکوں گا

mahmood-asghar-ch
ا س ویلنٹائین تمہیں پھول نہیں بھیج سکوں گا ۔ میں ناکام ہوگیا ۔اپنے ہر وعدے سے ۔اپنے ہر ارادے سے ۔تم سے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری جھیل سی گہری آنکھوں میں کبھی اداسی کا پرچھائی نہ آنے دوں گا ۔ دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لاکر رکھوں گا ۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے وعدے جھوٹے تھے یا میرے اردے کمزور تھے ۔ تمہیں بہتر مستقبل دینے کے لئے میں نے ہر انسانی کوشش کی ۔ لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں معاش کو بہتر بنانے کے لئے خالی تعلیم نہیں درکار رشوت اور سفارش بھی لازمی ہے ۔ دوستوں نے بتایا کہ اگر معاشی حالت بہتر کرنی ہے تو یورپ چلے جاﺅ ۔ویزہ کی انفارمیشن لی تو پتہ چلا کہ ہمیں یورپ کا ویزہ آسانی سے نہیں ملتا۔ ایک ایجنٹ نے سہانے خواب دکھائے۔ کہنے لگا ویزہ کا چکر چھوڑواگر یورپ جانا ہوتو ترکی یا لیبیا پہنچ جاﺅ اس کے بعد تمہیں کشتی پر بٹھا کر اٹلی پہنچا دیں گے ۔ میں نے بھی سوچا سفر وسیلہ ظفر ہے اس لئے قسمت آزمانے نکل پڑا
لیبیا پہنچا تو پتہ چلا کہ حقیقت کتنی مختلف اور کتنی تلخ تھی ۔بہتر مستقبل کے سپنے لئے کتنے ہی بدنصیب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں ان کی زندگی موت سے بھی بدترہوجاتی ہے ۔لیبیا سے سمندر پار کرنے کے خواہشمند اگر پکڑے جائیں تو انہیں جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے ۔ یہ جیلیں نہیں بلکہ عقوب خانے ہیں ۔ جہاں عورتوں کے ساتھ زیادتی ۔ مردوں کوغلامی اور بیگار کیمپ جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یہاں انسانی حقوق نام کاکوئی اصول پایا نہیں جاتا۔ایک افریقی جو اس جیل میں رہا ہے اس کی زبانی پتہ چلا کہ لیبیا ئی بارڈر پولیس کے تشدد سے لوگ مر جائیں تو ان کی تدفین نہیں ہوتی لوگ ہی اتنی زیادہ تعداد میں مرتے ہیں کہ جیل حکام مشترکہ گھڑے کھودکر ساری لاشیں ایک ساتھ پھینک دیتے ہیں اور جب گھڑا بھر جائے تو اس کو بند کر دیتے ہیں۔اور جو خوش قسمت جیل سے زندہ باہر نکلتا ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو زندہ ہونے کے باوجود اندر سے مر نہ گیا ہو ۔
ایسا نہیں ہے کہ دنیا کو ان واقعات کا علم نہیں ہے گزشتہ سال دسمبر میں یہ واقعات تمام یورپی اخباروں میں چھپ چکے ہیں۔لیکن تمہیں جان کر حیرانی ہوگی کہ لیبیا کے ساتھ اٹلی اسپین او ر دیگر یورپی ممالک کے معاہدے ہیں ۔ یہ لیبیا کولاکھوں یوروکا فنڈ دیتے ہیں تاکہ وہ غیرقانونی امیگریشن روکے ۔یہ گورے کتنے چالاک ہیں نا! ۔خود تو انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں اور لیبیا جیسے ممالک سے ایسے ظلم کرواتے ہیں۔ یعنی گلے بھی ہمارے اور چھریاں بھی ہماری ۔میری خوش قسمتی سمجھو کے میں کسی ایسی جیل میں نہیں پکڑا گیا ۔ سچ بتاﺅں تو ان سب باتوں کامجھے لیبیاپہنچتے ہی علم ہو گیا تھا لیکن اب اتنے لاکھ روپے ایجنٹ کو دے چکا تھا واپسی کا توسوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہم گجرات والے وفا کی خاطردکھوں کے چناب میں چھلانگ لگانے سے باز نہیں آتے ہماری تاریخ یہ ہے کہ ہمار ا گھڑ ا کچا بھی ہوتو ہمارا اراد ہ پکا ہوتا ہے
ایجنٹ مختلف لوگوں کو گروپوں کی صورت میں لے جاتا ہم ہر روز سنتے کہ فلاں ڈنکی نکل گئی ہے ۔ میری بے تابی بڑھ رہی تھی کہ میری باری کب آئے گی ۔ آخر ایک دن ایجنٹ نے کہا کہ کل تیار رہنا ۔ہمیں یہی کہا گیا کہ صرف چند گھنٹو ںمیں ہم اٹلی کے ساحل پر ہوں گے میں نے ایجنٹ سے پوچھا کہ اٹلی میں کوئی امیگریشن کھلی ہے کیا ؟وہ کہنے لگا کہ امیگریشن کی ضرورت ہی نہیں ایک دفعہ تم اٹلی پہنچووہ بارڈر پر ہی تمہیں سیاسی پناہ دے دیں گے لیکن میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں توکوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے وہ آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہنا لگا ہمارے ملک میں مذہبی انتہا پسندی تو ہے نا ۔ مذہب کے نام پر لوگ ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں کافر کافر کے نعروں سے پاکستان کی دیواریں بھری ہوئی ہیں۔ کہنا میری جان کو خطرہ ہے ۔واقعی جسم پر زخم ہوتو بھیک زیادہ ملتی ہے۔ اور ہم سب نے ملک کر اپنے ملک کا جسم زخم خوردہ کردیا ہے
آدھی رات گزر چکی تھی جب ہم کشتی میں سوار ہوئے ۔ سردیوں میں رات کو سمند ر بڑا خوفناک ہوجاتا ہے ۔دن کو اٹکھیلیاں کرتی لہریں رات کو بھیانک ہوجاتی ہیں لیکن ایجنٹ کہتے ہیں ہے کہ انہی مہینوں میں چوری سفر کرنا چاہیے کہ بارڈر کنٹرول والے ہڈیوں میں خون تک منجمد کردینے والی سردی میں باہر نہیں نکلتے ۔ کشتی میں بیٹھے تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس میں لوگ گنجائش سے زیادہ ہیں۔ یہ سفری کشتی بھی نہیں تھی۔اس میں بنگلہ دیشی اور افریقی باشندوں کے علاوہ کثیر تعداد میں پاکستانی بھی تھے ۔ہمارے گروپ میں گجرات کی ایک ایسی فیملی بھی تھی جن میاں بیوی کے ساتھ ان کا پانچ سال کا بیٹا اور دو ماہ کی بچی تھی میں نے انہیں پوچھا کہ آپ کیوں ڈنکی لگا رہے ہیں وہ کہنے لگے بچوں کے ساتھ سیاسی پناہ ملنا آسان ہے سنا ہے کہ یورپ میں بچوں کے بہت حقوق ہیں ۔
کوئی ماں کا زیور بیچ کر آیا تھا تو کوئی بہن کی شادی کے لئے زیور بنانے آیا تھا ۔ کسی کے شریکوں نے بڑی کوٹھی بنا لی تھی او ر ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی اور کچھ لوگوں کی خاندانی دشمنی انہیں ہجرت پر مجبور کررہی تھی ۔لیکن آج تو سمندر کی لہریں ہماری دشمن تھیں ۔چھوٹی سی کشتی پر نوے لوگوں کا بوجھ سمندر کی بے رحم لہروں کے تھپیڑوںکا مقابلہ نہ کر سکا اورکشتی الٹ گئی ۔لوگ سمندرمیں گرنا شروع ہو گئے ۔مجھے اپنی تیراکی پر ناز تھا ۔ میں نے ہاتھ پاﺅں مارنے شروع کر دئیے لیکن سمندر کا ٹھنڈا پانی تلوار کی دھار کی طرح بازﺅں میں پیوست ہوگیا ۔ ہاتھ شل ہوگئے رات کی تاریکی میں کنارہ نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے بیس سیکنڈ تک جدوجہد کی لیکن اس کے بعد میرے ہاتھ جواب دے گئے ۔ سانس بند ہونا شروع ہوگئی میں نے لمبی سانس لینے کی کوشش کی لیکن ہوا کی بجائے سمندر کاپانی میری ناک کی نالی او ر منہ سے میرے جسم میں داخل ہونا شروع ہوگیا ۔ مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے ۔ میں مرغی کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا ۔یخ بستہ سمندر میں دوزخ کا سماں تھا ۔ میں نے زور سے ہیلپ چیخنے کی کوشش کی لیکن میرے ساتھ ہی نوے لوگ پھڑپھڑا رہے تھے میرے کانوں میں ان کی چیخیں گونج رہی تھیں ۔ ہماری مدد کو کون آتا ہم تودنیا بھر سے چوری محو سفر ہوئے تھے ۔
پانی بڑی تیزی سے میرے ناک اور گلے سے سفر کرتا ہوا میرے پھیپھڑوں میں داخل ہوگیا ۔پورے جسم میں پانی بھر گیا تو میں ڈوبنا شروع ہوگیا ۔درد کی کیفیت ختم ہوگئی ۔ میں اس انتظار میں تھا کہ میری روح میرے جسم سے پروا ز کر جائے لیکن ڈوبنے والے ایک دم نہیں مرتے۔ جان نکلنے میں تین سے چار منٹ لگ جاتے ہیں ۔ جسم پانی میں مکمل ڈوبتا ہے تو پھر بیکٹریاکی وجہ سے سینے میں موجود میتھین گیس ، ہائڈروجن سلفیڈاور کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا نہیں ہوتے اور انسان ایک غبارے کی طرح پانی میں تیرنا شروع ہو جاتا ہے ۔ میر ا جسم بھی غبارے کی طرح پھول گیا ۔ میرا جسم پانی میں تیر رہا تھا جب میری روح پرواز کر گئی ۔
لوگ کہتے ہوں گے میری موت ایک حادثہ ہے ۔ لیکن سچ بتاﺅں تو مجھے قتل کیا گیا ہے۔ ناحق قتل ۔ میرا قاتل میرا معاشرہ ہے۔ میرے ملک کے اہل اقتدارہیں جو حکمرانی کو کھیل سمجھتے ہیں جو پارلیمنٹ میں صرف اس وقت جاتے ہیں جب انہوں نے اپنے اقتدارکی طوالت کے لئے کوئی نئی شق بنانی ہو ۔ان کے پاس ملک کے نوجوانوں کے روزگار اور بہتر مستقبل کی کوئی پالیسی نہیں ۔ میری قاتل طبقاتی تقسیم ہے جس نے ہمیں قناعت سے محروم کر دیا ہے ۔ میرے قاتل قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں جن کے ناک کے نیچے انسانی سمگلر ہماری زندگیوں سے کھیلتے ہیں اور وہ انہیں پکڑ نہیں سکتے ۔ میرے قاتل وہ سارے اوورسیز پاکستانی بھی ہیں جو ان ممالک میں تو عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں لیکن اپنے ملک جا کر اپنے ہی ہم وطنوں کے سامنے دولت کی نمائش کرتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم بھی زندگی کی بازی ہارجائیں ۔ میرا قاتل میرے ملک کا میڈیا ہے جس کے پاس سیاسی شعبدہ بازیوں کے لئے وقت تو ہے لیکن عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے کوئی پروگرام نہیں ۔ خاندانی دشمنی ، جہیز کی لعنت ، فرقہ پرستی ، بے قابو آبادی ، وی آئی پی کلچر اور پوری سوسائٹی کو دولت کی دوڑ میں پاگل کرنے والے لالچ جیسی تمام سماجی برائیاں جن پر ہم ناز کرتے ہیں اور انہیں ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے میری قاتل ہیں
میں نہیں جانتاکہ میری لاش مل گئی ہوگی یا ان تیس ہزار لوگوں کی لاشوں کی طرح مچھلیوں کی خوراک بن گئی ہوگی جو پچھلے پندرہ سال میں اسی سمندری قبر میں غائب ہوگئے ہیں ۔ جن کے کوئی قبر نہیں ہے جن کا کوئی کتبہ نہیں ہے ۔ جن کے لئے کسی یواین اے نے کوئی ایک منٹ کی خاموشی اختیار نہیں کی
سنو اس سال تمہیں ویلنٹائین کے پھول نہیں بھیج سکوں گاکہ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ میری قبر پر کوئی پھول چڑھائے گاکہ نہیں بلکہ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ میری لاش کو کوئی قبر میسر آئی ہو گی یا نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *