مشال قتل کیس ، ایک مجرم کو سزائے موت ، 5 کوعمر قید

2

مشال خان قتل کیس میں جیل ذرائع کا بتانا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک ملزم عمران کو سزائے موت اور 5 ملزمان کو عمر قید،25 ملزمان کو 4 چار سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ 26 کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔ مشال خان قتل کیس کا آج ہری پور سینٹرل جیل میں جج فضل سبحان خان نے فیصلہ سنایا۔ فیصلے سے قبل 58 ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے کیس میں بری ہونے والے 26 ملزمان کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ کیس کے مرکزی ملزم عارف سمیت 3 افراد تاحال مفرور ہیں۔ فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشال کے بھائی ایمل خان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ کیس کے تمام ملزمان کو سزا ملے۔ تاہم ہماری پولیس سے اپیل ہے کہ کیس کے مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی کی جدائی کا دکھ ہے، تکلیف اور مشکلات کو برداشت کیا۔مشال کی کمی کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ایمل خان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی سے متعلق اب بھی خدشات ہیں۔ کیس کے فیصلے کے موقع پر ملزمان کے ورثاء نے سیاسی و مذہبی جماعتوں او این جی اوز کے ہمراہ احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا تھا ۔ فیصلے کے خلاف ہری پور سینٹرل جیل کے باہر مردان پشاور چارسدہ میں ردعمل سامنے لاکر احتجاج کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ فیصلے سے قبل مشال خان کے والد لندن سے واپس پشاور پہنچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق والد سمیت پولیس انتظامی افسران کو خصوصی پاس جاری کیے گئے اور سینٹرل جیل کے مرکزی گیٹ پر متعلقہ افراد کی فہرست فراہم کی گئی ۔ سینٹرل جیل میں فہرست سے ہٹ کر میڈیا سمیت غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی ۔ پولیس سمیت قانون فافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جیل کے اطراف میں تعینات تھی ۔ سینٹرل جیل کی طرف آنے والے تمام راستوں کو خار دار تاریں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا تھا ۔ یاد رہے کہ مردان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو مبینہ توہین رسالت کے الزام پر قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد 61افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جن میں سے 58ملزمان کو گرفتار کیا گیا 3 تاحال مفرور ہیں۔ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گرفتار افراد کی ضمانتوں کو مسترد کر رکھا ہے گواہوں کے بیانات ریکارڈ سمیت جرح اور دلائل کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے جبکہ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے معزز جج فضل سبحان خان نے اس کیس کی سماعت کی ہے۔ پولیس نے اس کیس میں مطلوب 61 ملزمان میں سے اب تک 58 کو گرفتار کیا ہے ، جبکہ پی ٹی آئی کے تحصیل کونسلر عارف مردانوی ،پختون ایس ایف کے رہنما صابرمایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیاء تاحال مفرور ہیں ۔ واضح رہے کہ13اپریل کو عبدالولی خان یونی ورسٹی مردان میں جرنلزم کے 2 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کاالزام لگاکرجان سے ماردیا۔ مشال خان قتل کیس کا مقدمہ پہلے پشاور ہائی کورٹ میں چلا، تاہم مشال کے والد محمد اقبال کی درخواست پر مقدمہ پشاورہائی کورٹ سے انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت ایبٹ آبادمنتقل کردیاگیا، جہاں ہری پورسینٹرل جیل میں کیس کی سماعت جاری رہی۔ اس کیس میں ستمبر 2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں، جن میں 68 گواہ پیش ہوئےتاہم عدالت نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد 27 جنوری کو مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو آج سنادیا گیا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *