مودی پاکستانی شلوار قمیض پہن کر کیسے لگتے ہیں؟

download

شیوم وی آئی جی

پاکستانی آم ہندوستانی آموں سے کم تر ہو سکتے ہیں، لیکن پاکستانی واش اینڈ ویرشلوار قمیص کو سلام ہے۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا جب میں نے پرائم منسٹر نریندر مودی میں ایک نئی تبدیلی دیکھی۔ اس ٹویٹ میں شامل تصاویر کو بڑا کر کے ان کا کرتا پاجامہ دیکھیں ، انہوں نے کرتا پاجامہ نہیں شلوار قمیص پہنی ہے۔مجھے 99 فیصد یقین ہے کہ یہ پاکستانی / افغانی طرز کی شلوار قمیص ہے جو قریب ہی پاکستان کے دورے سے
واپسی کے بعد انہوں نے پہنی ہے۔ صرف قمیص کا گول دامن نہیں بلکہ اس پر ایک بھی سلوٹ کی غیر موجودگی اس بات کی گواہ ہے ۔ اس تصویر کا دوسری تصویر سے موازنہ کریں جس میں انہوں نے کرتا اور چوڑی دار پاجامہ پہنا ہوا ہے ، آپ کو بہت زیادہ سلوٹیں دکھائی دیں گی۔ جیسے ٹائم میگزین کی کور پیج پر موجود تصویر میں ہے۔ نومبر میں پاکستان کے دورے کے دوران ہر جگہ پائی جانے والی میری ایک بڑی دریافت یہ کپڑہ ہے جس پر سلوٹ نہیں پڑتی۔ اس کا نام واش اینڈ ویر ہے۔ بہت سی دکانوں پر اسے واشین وئیر بھی کہا جاتا ہے جیسے یہ ایک لفظ ہو۔ "ایک جوڑا واشنویر دیجیے گا ، کالے رنگ کا ،" میں نے خود کو ایسا کہتے پایا۔ یہ ایک مصنوعی کپڑا ہے اور اصلی کاٹن کی طرح بہت آرام دہ بھی۔ اور نام سے ہی واضح ہے کہ اس پر سلوٹیں بھی نہیں آتیں۔ ہم جو خالص کاٹن کرتے پہنتے ہیں انہیں استری کرنا پڑتا ہے لیکن اس کپڑے کو کلف بھی نہیں لگانی پڑتی اوراستری بھی نہیں کرنا پڑتا۔ میں نے ریڈی میڈ شلوار قمیص نہ خریدنے کا اس لیے ارادہ کیا کہ کہیں مجھ پر دل سے پاکستانی ہونے کا الزام نہ لگ جائے۔ اس کے بجائے میں نے ان گنت ان سلے سوٹ لیے تاکہ میں اس سے ہندوستانی طرز کے پاجامہ کُرتے بنوا سکوں۔ لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ پرائم منسٹر مودی صاحب اس دریافت میں مجھ سے آگے ہیں اور اب جبکہ وہ پاکستانی/افغانی طرز کے کھلے پاجامے اور گول دامن کی قمیص پہن رہے ہیں تو مجھے بھی ایسا کرنے سے ڈر نہیں رہا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پرائم منسٹر مودی فیشن رائج کرتے ہیں۔ ان کے ھاف بازو کُرتے، ان کا نہرو جیکٹ پرمودی جیکٹ کا تصرف، ان کی سر پر پہننے والی سوٹ سے میچنگ پوشاک۔ وہ فیشن ایبل آدمی
ہیں۔ حتی کہ اگر انہوں نے شلوارقمیص پہنی ہے تو یہ لباس کے لیے خراج تحسین ہے۔ یہ لباس ہندوستان میں پٹھانی سوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اسے شلوار قمیص کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں یہ ایسا غیر مقبول لباس ہے جیسے شمال مغربی صوبے کی سرحد کے پٹھان۔ شکر ہے بہت سے ہندوستانیوں نے سکول میں ٹیگور کی 'کابل والا' کہانی پڑھی ہے۔ ہمارے ذہنوں میں ابھی بھی تقسیم سے پہلے کی شمال میں پٹھانوں کی موجودگی کی دھندلی یادیں ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد شلوار قمیص ہر جگہ پہنی جاتی ہے۔ جب میں آنکھیں بند کر کے اپنے پاکستان کے دورے کے بارے میں سوچوں تو مجھے شلوار قمیص میں آدمی نظر آتے ہیں۔ وہ اسے شلوار قمیص کیوں کہتے ہیں جبکہ ہم اسے پٹھانی سوٹ کہتے ہیں؟ اور ہم اسے کیوں نہیں پہنتے؟ ان سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کے لیے میں نے ایک 95 سال کے تقسیم کے وقت کے مہاجر سے گارگن میں ملاقات کی۔ پرآن نولی لاہور میں مشہور ہندووں میں سے ایک ہیں۔ 1992 میں نولی نے ایک کتاب تقسیم سے پہلے کے لاہور کے بارے میں "ایک جذباتی سفر " شائع کی جو ان کی یادوں پر مشتمل تھی۔ نولی کہتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے مشرقی پنجاب میں ہندو، مسلمان اور سکھ سب شلوار قمیص پہنتے تھے لیکن انہوں نے اور لباسوں کا بھی ذکر کیا جیسے ٹرؤزر شرٹ وغیرہ۔ لیکن پٹھان صرف شلوار قمیص ہی پہنتے تھے۔ اسی لیے شلوار قمیص شمالی ہندستان میں پٹھانوں کی پہچان مانی جاتی ہے ۔ تقسیم کے بعد مہاجروں نے آہستہ آہستہ اس لباس کو ترک کر دیا کیوں کہ ماڈرن ہندوستان میں یہ لباس مسلمانوں کی پہچان بن گیا حتی کی یہ وہ لباس بن گیا جو ہندو مسلمان بھی نہیں پہنتے۔ لباس مذہب کا بھی ترجمان ہوتا ہے۔ ان کی کتاب میں ایک چیپٹرصرف "Clothes & Class" پر ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے مسلمان تہبند اور ہندو دھوتی باندھتے تھے۔ اور پہلی جنگ عظیم کے بعد لاہور میں فیشن بدل گیا۔ بہت سے تجربات ہوئے۔ مغربی لباس آیا اور کپڑوں کا کلاس سے گہرا تعلق بن گیا۔ آج پاکستان میں شلوار قمیص واشنویر کپڑے میں کثرت سے پہنی جا رہی ہے۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ غریب امیر ہر کوئی ایک جیسا لباس پہن رہے ہیں۔ اب جبکہ ہمارے
پرائم منسٹر مودی نے اس لباس کواپنایا ہے، میں بھی اپنا سکتا ہوں۔ انہوں نے میری مشکل آسان کردی ہے۔ میں بھی واشنویر سوٹ پاکستانی طرز کا سلوا سکتا ہوں۔ مجھے درزی کو صرف اتنا کہنا پڑے گا کہ پٹھانی سوٹ بنوانا ہے۔ پاکستانی آم شاید ھندستانی آموں سے کم تر ہو سکتے ہیں لیکن واشنویر شلوار کمیز کو سلام۔ یہ ہندستان میں فیشن ٹرینڈ بن سکتا ہے۔ انڈیا اس پر غور کرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *