عامر لیاقت کو وعدہ معاف گواہ بنایا جائے

syed arif mustafa

گو دیر سے سہی ، لیکن بالآخرخیال آیا تو سپریم کورٹ ہی کو آیا اور ایگزیکٹ کے بدعنوانی کے معاملات پہ چیف جسٹس صاحب سوموٹو نوٹس لینے پہ مجبور ہوئے ورنہ تو یوں ‌لگ رہا تھا کہ جیسے پاکستان میں تو سب کے سب تحقیقاتی ادارے و تفتیشی ایجنسیاں آرام سے دھنیا پی کے سو رہی ہیں کیونکہ ایگزیکٹ کے جعلی ڈگریوں کی تیاری و فروخت کے شرمناک سکینڈل پہ جب بھی کوئی ہاہاکار مچی ، سبب بیرون ملک کا میڈیا ہی بنا ۔۔۔ پہلے تقریباً 3 برس قبل نیویارک ٹائمز کے ڈیکلین والش نے اس ادارے کے گھناؤنے کاروبار کا انکشاف کرکے تہلکہ مچادیا تھا اور بتایا تھا کہ اس ادارے نے دنیا کے 195 ممالک میں لاکھوں افراد کو جعلی ڈگریاں فروخت کرکے بے پناہ پیسہ کمایا ہےاور اب تقریباً چار ماہ قبل نہایت متحکم ساکھ رکھنے والے معروف ترین نشریاتی ادارے بی بی سی کے چینل فور نے بہت عرق ریزی سے تیار کردہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں برطانیہ میں ادارے کے شرمناک کاروباری معاملات کو بے نقاب کیا ہے اور بتایا ہےکہ کس طرح برطانیہ میں اس ادارے نے اپنی ہزاروں جعلی ڈگریاں فروخت کی ہیں-
یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکا اور برطانیہ کے میڈیا کی یہ رپورٹیں یقیناً پاکستان کی محبت میں ہرگز تیار نہیں کی گئیں کہ حکومت پاکستان کی
مدد کی جائے اور ملک کی بدنامی کے اس وسیع ہوتے سلسلے کو روکا جائے بلکہ ا ن کی اس محنت کے پیچھے قوت متحرکہ دراصل وہ شدید تشویش ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنے اہم اداروں کو جعلی ڈگری یافتگان کے ہاتھوں ‌برباد ہونے سے بچانا چاہتے ہیں کیونکہ ان جعلی اسناد کے بل پہ یہ نااہل لوگ ملکی دفاع کے نہایت حساس اداروں اور طبی اداروں میں بھی ملازمت پانے میں کامیاب رہے ہیں ۔۔ یوں ان کی یہ تشویش و بھاگ دوڑ ہمارے لیے بیٹھے بٹھائے کعبے کو مل گئے پاسباں صنم خانے جیسی بات ثابت ہوئی ہے کیونکہ یہاں‌ہمارے تفتشی ادارے ایف آئی اے نے تو اس معاملے میں دوسروں کی نشاندہی کے بعد بھی کچھ کرکے نہیں دیا۔ البتہ شروع میں اس کی آنیاں جانیاں دیکھنے کے لائق تھیں لیکن پھر پراسرار
طور پہ اچانک ہی یکے بعد دیگرے اس کے کئی پروسیکیوٹر ہی کیس سے الگ ہوتے و بدلتے چلے گئے اور پھر نوبت یہ آئی کہ ایگزیکٹ اور بول کے مالک شعیب شیخ کو رشوت لے کے رہا کرنے والے جج پرویز القادر میمن کے اعتراف اور محکمانہ تادیبی کارروائی کے باوجود ایف آئی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہی ۔ اب چونکہ سپریم کورٹ نے بھی ایف آئی اے ہی کو یہ تفتیشی کام سونپا ہے تو ممکن ہے کہ سپریم کورٹ کے ڈر سے ہی ایف آئی کوئی بہتر کارکردگی دکھانے پہ مجبور ہوجائے یہاں‌یہ مطالبہ کرنا ہرگز بیجا نہ ہوگا کہ ایگزیکٹ کے حوالے سے بول کے سابق ایگزیکیٹو پریذیڈنٹ عامر لیاقت حسین سے بھی تفتیش کی جانی چاہیے کیونکہ موصوف نے نومبر میں بول کو چھوڑنے کے بعد اپنے کئی ٹوئیٹس میں ( جن کا ریکارڈ نیٹ پہ دستیاب ہے ) یہ کہا تھا کہ ان کے پاس بول کے حوالے سے خوفناک اور لہو منجمد کردینے والی متعدد کہانیاں ہیں اور یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ایگزیکٹ کے جعلی ڈگریوں‌ کے کاروبار کے معاملات اور بول میں تنخواہیں کیش میں دینے کی وجوہات کا بھی خوب علم ہے اور اس
حوالے سے انہوں نے اپنی تحویل میں شعیب شیخ کے فون کالز کی متعدد ایسی ریکارڈڈ ٹیپس ہونے کا دعویٰ کیا تھا کہ جن سے ان کے بقول شعیب شیخ کے جرائم بے نقاب ہوجائیں گے اور پھر اس ضمن میں پہلی ریکارڈنگ پیش بھی کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس کے بعد کی ہر ٹیپ ایک سے بڑھ کر ایک انکشافات سے لبریز ہے اور اس حوالے سے انہوں نے شعیب شیخ کو جوبلی کے کرمنل کا لقب بھی دے ڈالا تھا ۔ اس موقع پہ یہ بھی قرین مصلحت ہوگا کہ ایگزیکٹ اور بول کی آمدنی کے حقیقی ذرائع اور دیگر معاملات کو جاننے کے لیے عامر لیاقت کو وعدہ معاف گواہ بنالیا جائے کیونکہ وہ بول اور ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کے بیحد قریب رہ چکے ہیں اور ویسے بھی وہ تو پہلے ہی موجودہ عدلیہ کی تعریفیں کرتے نہیں
تھکتے۔۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ عدلیہ کے اس بزعم خود جانثار کو عدلیہ ، قانون کی مدد کرنے کا یہ سنہری موقع ضرور فراہم کردے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *