جگاڑ کی اہمیت

6

دریا قاضی

میری ماں کے گھر کےسامنے رہنے والے بستی کے بچے سنوکر کے بہت شوقین ہیں لیکن جو سنوکر ٹیبل انہوں نے استعمال کرنا شروع کیا ہے وہ کوئی اصل سنوکر ٹیبل نہیں ہے بلکہ ایک سادہ سا ٹیبل ہے جس پر کپڑا بچھایا گیا ہے اور اس کے کونوں پر میخ پر ٹیپ لپیٹ کر سوراخ بنائے گئے ہیں۔ شاٹ مارنے کےلیے سادہ ڈنڈے استعمال ہوتے ہیں اور بال بھی پتھر سے بنائے گئے ہیں۔ کمزور ساخت کا یہ ٹیبل پلاسٹک باکس کے
اوپر نصب کیا گیا ہے اور اس کے باجوود اس کی بلندی انسان کی کمر سے بھی نیچے تک محدود ہے۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی ایجادات ہمیشہ سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ گھڑی جس کی سوئیاں غائب ہوں یا پھر کوک کی پلاسٹک بوتل سے بنا شاور بھی سوشل میڈیا پھر دھوم مچانے میں کامیاب حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی ایجادات کو جگاڑ کانام دیا جاتا ہے۔ جگاڑ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی بڑے مسئلے کےلیے آسان اور سستا حل نکالنے کے لیے تیار کی جائے۔ دنیا کے ہر کلچر میں جگاڑ کے متبادل موجود ہیں۔ برازیل میں اسے گمبیارا کا نام دیا جاتا ہے۔ چین میں اسے زیزوچانگشن کے نام سےجانتے ہیں، کینیا میں اسے جوا کالی کہا جاتا ہے۔ فرانس میں جگاڑ سسٹم ڈی کہلاتا ہے۔ سوئزرلینڈ والوں کے لیے یہ ٹرِک 17 ہے اور جاپان والے اسے چندوگو کا نام دیتے ہیں۔  جگاڑ کو ہمیشہ منفی معنی میں لیا جاتا ہے۔ اسے سستی اور غیر معیاری شارٹ کٹ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اسے ڈی آئی وائے یا آر اینڈ ڈی کا نام دیں تو اس سے یہ ایک با عزت جدت کا طریقہ بن سکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جگاڑ نے اپنی اہمیت دکھا کر عزت کمانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ چین نے ایک انڈیجینس انوویشن پالیسی بنائی ہے جس کی بنیاد ہی جگاڑ ہے۔ چینی حکمرانوں کا خیال ہے کہ اس جگاڑ کے بغیر کمپیاں کوئی نئی چیز بنانے میں مشکل کا شکار ہوں گی او ر اس طرح کے جگاڑ
سے نئی ایجادات کی راہیں کھلیں گی۔ چین نے دنیا کو بہت سی ایجادات سے روشناس کروایا ہے جن میں قطب نما، پیپر، گن پاوڈر، وڈلاک پرنٹنگ، ریشم، چائے اور نوڈلز شامل ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں کئی بار بہت بڑی سوچ کی پیداوار ثابت ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر گجرات کے گاوں میں بسنے والے ایک شخص مانسکھ پرجاپتی نے مٹی کول نامی ایک چیز بنائی جس کے ذریعےچیزیں ٹھنڈی بغیر بجلی کے کی جا سکتی تھیں۔ جب ان کے اس ریفرجریٹر کی حوصلہ افزائی کی گئی تو انہوں نے اپنے پراسس کو صنعتی شکل دے کر بہت سی گاوں کی خواتین کو بھرتی کر لیا جس کی وجہ سے فوربز نے انہیں ایک با اثر دیہاتی انٹرپرینر کا خطاب دیا۔  کینین سفاری سیٹ بھی جگاڑ کی ہی بہتر شکل ہے۔ یہ ایک سستی وہیل چئیر ہے جو سائیکل کے حصوں، پرانے قابل استعمال پہیوں اور لیور کو جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ اب اس کی ریگولر پروڈکشن شروع ہونے کو ہے۔ ساوتھ افریقن ہپو رولر بھیایک رولنگ بیرل ہے جس کا ایک لمبا سا ہینڈل ہے جس کی مدد سے خواتین زیادہ مقدار میں پانی ایک لمبے فاصلے سے لا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر سائبہ اکبر جو ایک بنگلہ دیشی ڈاکٹر ہیں اور ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال میں فرائض سر انجام دیتے ہیں انہوں نے ایک 99 سینٹ جگاڑ ایجاد کیا جس کے لیے انہوں نے سلین اور کیتھیٹر سے بھرا کنڈوم استعمال کیا جس کے ذریعے پوسٹ پارٹم بلیڈنگ کو روکا
جا سکتا تھا۔ اس ایجاد نے بہت سی خواتین کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔  پاکستان میں آئے روز نئے نئے جگاڑ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کنڈا کنیکشن سے لے کرمٹھائی والی ریڑھی تک جو بس سٹاپ پر موجود تھی اور جس کے مالک نے ایک ڈنڈے کے ساتھ کپڑا باندھ کر ایک بیٹری کے ذریعے اسے گھمانے کا بندوبست کر رکھا تھا تا کہ مکھیون کو دور بھگایا جا سکے۔ اس سے قبل ایدھی نے ایک سوزوکی ہائی روف گاڑی کو ایمبولینس کے جگاڑ کےلیے استعمال کیا۔ مس کال سسٹم بھی لوگ بھارت اور پاکستان میں اپنے ساتھیوں سے بات کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں استعمال کیےجانے والے مختلف قسم کے جگاڑ پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں بہتر بنا کر نئی ایجادات ممکن بنائی جاسکتی ہیں۔ جب کسی جگاڑ کا بہت زیادہ استعمال ہونے لگے تو یہ پراڈکٹ بن جاتا ہے۔ کچھ اہم انٹرنیشنل کمپنیاں جیسے کہ بیسٹ بائے یو ایس اے نے بھی کچھ پراڈکٹس تیار کرنے کےلیے بہت سی جگاڑ ورکشاپس کھول رکھی ہیں جن کے ذریعے کمپنی کو اپنی سیلز
بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ انوویشن سے ہمیشہ انسان بہتری کی طرف بڑھا ہے۔ کچھ جگاڑ تو حادثاتی طور پر سامنے آئے ۔ کچھ پوری تیاری کے ساتھ متعارف کروائے گئے۔ پاپولر مکینکس نامی کتاب 1902 میں شائع ہوئی جب امریکہ ایک خوشحال ملک سمجھا جاتا تھا ۔ تب لوگوں
کو فراغت بھی میسر تھی اور ان کی زندگی کا معیار بھی بہتر تھا۔ اس فراغت کے وقت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں نے نئی اشیاء کی تیاری کےلیے تجاویز دیں اور نئے جگاڑ دریافت کیے۔ اسی دور میں موٹر کاروں کی نئی قسمیں، پکی سڑکیں، ٹیلی فون، وائرلیس ٹیلی گرافی، اور پہلی بار لفٹ ایجاد ہوئی۔ اس کے بعد کمپنیوں نے اِن ہاوس ریسرچ اور ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کر لیے اور نئی نئی پراڈکٹس  پیش کرنے والون کےلیے انعامات کا اعلان کیا گیا۔ آج کے دور میں انوویشن ایک بہت بڑا بزنس بن گیا ہے۔ لیکن جگاڑ کو صرف معاشی فوائد  اور پراڈکٹس میں جدت لانے
میں جلد ریسپانس کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔  اپنی کتاب ۔**Jugaad Innovation: Think Frugal, Be Flexible, Generate
Breakthrough Growth**ـ**، مصنف رادجو، پرابو اور آہوجا ایک نئی اپروچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جگاڑ کو ابھرتی ہوئی اور بڑی مارکیٹیوں کےلیے ایک گروتھ کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔  جگاڑ ان سوسائٹیوں میں فائدہ  مند ثابت ہوتا ہے جہاں ذرائع اور وسائل کی کمی ہو اور لوگ کم قیمت میں بڑا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہوں۔ اس کے بر عکس آر اینڈ ڈی میں زیادہ فنڈز، زیادہ ٹیکنالوجی اور زیادہ مہارت استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اعلی درجہ کی انوویشن ہمیشہ مہنگی ہوتی ہے اور ہر کسی کے لیے اس تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ اس کتاب میں مصنفین نے زیادہ آبادی والے ممالک کو ابھارنے کی کوشش کی ہے کہ غریب عوام کے نئے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اعلی قسم کی ایجادات کا راستہ نکالیں اور اس طرح سستی ایجادات سے کم آمدن والے عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں۔ جگاڑ ڈکشنری کا حصہ بنا چکا ہے اور دنیا بھر کی کمپنیاں جگاڑ میں دلچسپی کا
اظہار کرنے لگی ہیں۔ ان کمپنیوں میں رینالٹ نسان، 3ایم اور گوگل شامل ہیں۔ جرمنی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کا کام جگاڑ کے ذریعے آسان اور سستی ایجادات کا پتہ چلانا تھا۔ اس ادارے کو سینٹر فار فروگل انوویشن ان جرمنی کا نام دیا گیا۔ پاکستان کے ارباب و اختیار کو بھی چاہیے کہ صرف انجینئرنگ اور ڈیزائن سٹوڈینٹس کی بجائے جگاڑ لگانے والوں پر بھی نظر رکھیں اور ان کی خدمات سے ایجادات کا راستہ نکالیں۔

Source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *