ایرانی خواتین نے سرکاری ٹی وی کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا

8

ایرانی سرکاری ٹی وی نے پہلی بار ایک متنازعہ بیان نشر کرنے پر خواتین سے معافی مانگ لی۔ حال ہی میں ٹی وی پر ایک مذہبی خاتون رہنما کا بیان نشر ہوا تھا جس میں اس خاتون کا موقف تھا کہ مسلم خواتین کو اپنے خاوند کی خوشنودی کے لیے ان کے پاوں کو چومنا پڑے تو بھی ایسا کر گزرنا چاہیے چاہے شوہر جسمانی تشدد کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ ایک کالی چادر پہنے ہوئے اس خااتون نے انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر خواتین اپنے خاوند کے پاوں دودھ اور گلاب کی پتیوں سے دھوئیں تو اس سے ان کے خاوند مہینہ بھر تک ان سے محبت سے پیش آئیں گے۔ اس انٹرویو کا ویڈیو کلپ مختلف سوشل میڈیا پر شئیر کیا گیا جس کے بعد عوام نے غم و غصے اور اشتعال کی لہر دوڑ گئی اور ناقدین نے سرکاری ٹی وی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کچھ لوگوں نے اسلامی جمہوریہ تایران کے براڈکاسٹنگ شعبہ سے شکایت کی اور فوری طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ سیمی آفیشل ایرانین سٹوڈینٹس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر آئی بی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ہم اس معاملے کی پوری چھان بین کریں گے اور اگلی بار کسی بھی چیز کو نشر کرنے سے پہلے مواد کا مکمل جائز ہ لیں گے۔ نئی بحث چھڑنے کے بعد ویڈیو کی پیروڈی بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں خاوند کے بہت برے اور قابل نفرت پاوں دکھائے گئے ہیں۔ اس سے قبل حجاب کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کے دوران 29 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ یہ مظاہرے ملک کے ہر کونے میں خواتین نے شروع کیے اور ننگے سر مظاہروں اور احتجاجی
تقریبات میں حصہ لیا ۔ مظاہروں کا یہ عمل دسمبر میں شروع ہوااور کئی دن تک جاری رہا۔ ایران کے سیاسی ماڈریٹ وزیر صحت حسن غزیزادہ ھاشمی نے اس انٹرویو کی ویڈیو مشہور خواتین لیڈرز کے ساتھ شئیر کی تھی جن میں معصومہ ابتکار کا نام قابل ذکر ہے۔ ویڈیو میں ابتکار ہنستے ہوئے یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ یہی عمل مردوں کو بھی خواتین کی خوشنودی کےلیے کرنا چاہیے :۔

source :https://www.bloomberg.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *