پیوٹن کے بعد کیا ہو گا؟

1
ماریا ڈوبوویکووا

روس میں صدارتی الیکشن کےلیے 18 مارچ کا دن مقرر کیا گیا ہے جو کہ علامتی طور پر کریمیا کی اپنے وطن میں واپسی کی سالگرہ کی تاریخ ہے۔ اور اس کا یتیجہ بہت واضح ہے۔ولادی میر پیوٹن ملک بھر میں بہت مقبول ہیں اور انہیں 68 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔ شام اور کریمیا میں کامیبی کے بعد کریملن میں بھی حکومتی طاقت کی بنا پر اور مخالف امیدواروں کو 10 فیصد ووٹ ملنے کی بنیاد پر پیوٹن کو جانا نہیں پڑے گا۔کریمیا اور مشرقی یوکرائین میں پیوٹن کے حرکات و سکنات کے ردعمل میں روس کے خلاف مغرب کی طرف سے کھانے پینے کی اشیاء کی خرید اور دوسری معاشی پابندیاں لگائی گئیں لیکن ایک عام روسی شہری کو اس چیز کا ادراک نہیں ہے۔ لیکن روبل کی ڈالروں کی نسبت قیمت گرنے سے روسیوں کی جیب پر بہت اثر ہوا کیونکہ مہنگائی میں بہت اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ لیکن اسی وقت پابندیوں کے باعث حکومت کو طاقت ملی جیسا کہ روسی لوگوں کی کہاوت ہے کہ "اگر آپ کے راستے میں مشکلات ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ صحیح راستے پر ہیں۔" تو اس لیے رائے دہندگان کی نظر میں پیوٹن ملک صحیح طریقے سے چلا رہے ہیں۔ جتنی زیادہ پابندیاں پیوٹن کی وجہ سے لگیں گی اتنا ہی پیوٹن کے وفاداروں کا جذبہ بڑھتا رہے گا۔ یہ روسیوں کی ذہنیت ہے جس وجہ سے وہ اپنے لیڈر کا ساتھ دیتے ہیں۔ پیوٹن نے روس کو ان کا فخر اور روح واپس دلائی ہے جو بیسویں صدی کی آخری کچھ دہائیوں میں گم ہو گئ تھی۔ پوٹن روس کے مشرقی وسطی میں ملوث نہ ہونے کو خارجہ پالیسی کی نا کامی مانتے ہیں۔ اسی لیے وہ خطے میں واپس آنے اور اقتدار میں امریکہ کے کئی ملکوں میں واپس آنے سے پیدا ہوئے خلا کو بھرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کی تجویز پیش کرتے ہیں ۔ یہ قدم اور کریمیا کی واپسی کو بڑی مشہور خارجہ پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جس نے قوم کے فخر کو ہوا دی ہے اور پوٹن کی طاقت کو بحال کیا ہے۔ البتہ کریملن کو کچھ چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔پہلے تو کچھ مغربی کھلاڑہوں کی مداخلت ہے ، جو روس کے مخالفین کو کھلے عام معاشی سہارا دے رہے ہیں۔ ان کی نظر کچھ قوم کے جوان گروہوں پر ہے جن کی راہنمائی الیکزی نوالے کر رہے ہیں جو
بڑے پیمانے پر تخریب کاری اور احتجاج کر نے والی مرکزی مخالف پارٹی سے ہیں ہیں۔حالانکہ اس مغرب کے حمایتی مخالف ٹیم کے جیتنے کے بہت کم مواقع ہیں، خاص طور پرجب نوالے پر الیکشن میں کھڑے ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پیوٹن کے حمایتیوں کو کیسے آمادہ کیا جائے کہ وہ جائیں اور الیکشن میں اپنا ووٹ ڈالیں۔ یہ مسئلہ کضینیہ سبچاک حل کر سکتی ہیں جو پیوٹن کے سابقہ استاد کی بیٹی ہیں اور جو پہلے روس کی سلبیرٹی دنیا کی سٹار رہی ہیں اور سکینڈلز میں بھی مقبول رہی ہیں۔ ابھی اکتوبر میں انہوں نے امیدوار کی درخواست کی ہے۔اور اپنے مقولے "سبچالک سب کے خلاف" سےتوجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے "ٖٖغیر روسی "ایجینڈا چلا رہی ہیں ۔ اس لیے سبچالک کا امیدوار ہونا لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے متاثر کر رہا ہے زیادہ تر ان کے خلاف ووٹ دینے پر۔رووسیوں کے پاس پہلے ہی ایک صدر ہے جس نے ملک کو امریکہ کے ہاتھوں بیچا تھا اور اب وہ دوبارہ ایسا نہیں چاہتے۔ پیوٹن 18 سالوں سے اقتدار میں ہے اور واضع ہے کہ کئی اور سالوں تک رہے گا۔لیکن جلد ہی وقت آئے گا جب اسے اقتدار دوسروں کو سونپنا ہو گا۔ اور اس کے لیے وہ
پہلے ہی سے کوئی جوان مرد یا عورت تلاش کر رہے ہیں جو ان کی جگہ لے سکے اور لوگوں کی حمایت حاصل کر سکے۔ وہ سلطنت کی مختلف اداروں میں اہم پوسٹوں پر جوان راہنماوں کو تعینات کر رہے ہیں جو موجودہ سلطنت کے اصولوں کے حامی بھی ہوں۔ جب پیوٹن ہری جھنڈی دکھائیں گے تو یہ چنا گیا گروپ ملک کو چلائے گا ۔ پیوٹن کی 6 سال کی مدت ان راہنماؤں کے لیے صحیح امتحان ہے لیکن آخر کار وہ ایک پر امن انتقال اقتدار کے متلاشی ہیں ۔ کیوں کہ کوئی فساد ان کی حکمرانی کی حاصل کی ہوئی کامیابیوں کو خاک میں ملا سکتا ہے

source : http://www.arabnews.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *