قاسمی کے 27 کروڑ

ata-ul-haq-qasmi

اظہر سید

جس ملک میں قحط الرجال کا یہ عالم ہو کہ بدکار،جواری اور نشی مسیحا بن جائیں وہاں عطا الحق قاسمی جیسے تخلیق کاروں کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے ۔ہم نے اردو ادب میں ماسٹر کیا ہے ہمیں سو نمبر کا ایک رسرچ ورک عطاالحق قاسمی کی کالم نگاری میں مزاح اور سفر نگاری کا دیا گیا تھا یہ 29 سال قبل کا قصہ ہے جب قاسمی صاحب جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں جانے جاتے تھے اب بھی جانے جاتے ہیں اور بابا رحمتے چوہدری افتخار جو چیف جسٹس ہوتا تھا اس سے زیادہ بدنما حالت میں ہو گا لیکن عطا الحق قاسمی مستقبل میں بھی زندہ ہونگے ۔ قاسمی صاحب کو جاننا ہے تو ان کے سفر نامے پڑھیں ان کے کالم پڑھیں ہم نے خدا کا شکر ہے ان کے کالموں کی تمام کتابیں بھی پڑھیں ہیں اور ان کے تمام سفر نامے بھی اور اپنے رسرچ ورک کے سلسلے میں ہم نے قاسمی صاحب کے کالموں اور سفرناموں سے چیدہ چیدہ جملے بھی کشید کئے تھے جو صدیوں تک زندہ رہنے والے نئے محاورے بھی ہیں ،ضرب المثل بھی اور نئی کہاوتیں بھی ،چھوٹوں کو یہ باتیں سمجھ نہیں آئیں گے کیونکہ انہوں نے عطاالحق قاسمی کو جانا ہی نہیں ،پڑھا ہی نہیں چھوٹے یہ جانتے ہیں کہ قاسمی صاحب نواز شریف کے حق میں کالم لکھتے ہیں اس لئے وہ کرپٹ اور بدعنوان ہیں ،چھوٹوں نے یہ رائے اس لئے قائم کی ہے کیونکہ وہ مخالف پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ،وہ یا تو تحریک انصاف کے میڈیا سیل کے ہیں یا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور یا پھر اشرافیہ کے وہ کمی کمین ہیں جنہیں ہمیشہ عوام کے منتخب وزیر اعظم سے نفرت ہوتی ہے اور اس میں اب ماشااللہ نجی ٹی وی چینلز کے پالتو بنائے گئے اینکرز بھی شامل ہو گئے ہیں جنہیں میڈیا منڈی میں اتارا تو بھارت کے میڈیا پراپیگنڈے کے توڑ کیلئے گیا تھا لیکن مکار لومڑوں نے انہیں مقاصد کیلئے استمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔
عطا الحق قاسمی کے متعلق ایک کالم حال ہی میں پڑھا ہےوجاہت مسعود کا قاسمی صاحب اس سے زیادہ کے حقدار ہیں ،ہم عطا الحق قاسمی کے متعلق کیا لکھیں ہم چھوٹے ہیں ہماری تحریر انکی شخصیت کے سامنے چھوٹی ہے لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے ،کتے تو ہمیشہ سے بھونکتے ہیں یہ انکی فطرت ہے فقیر کو رزق ہمیشہ ملتا ہے یہ اللہ تعالی کی فطرت ہے ،عطا الحق قاسمی فقیر ہیں انہیں رزق ملتا رہے گا اور یہ کتے ہمیشہ بھونکتے رہیں گے کیونکہ انکی فطرت میں ہے اس لئے مجبور ہیں ،
عطا الحق قاسمی زندہ لیجنڈ ہیں ہم اپنے ہیرو پر فخر نہیں کرتے ہم ہیرو کو مار دیتے ہیں ،ہیرو جسمانی طور پر مر جاتا ہے لیکن ہیرو ہمیشہ کیلئے زندہ ہو جاتا ہے ،جب تک اردو زبان زندہ ہے عطا الحق قاسمی زندہ رہیں گے کتنے ہی سیکرٹری اطلاعات آئے کتنے ہی چلے گئے کتنے مزید آئیں گے ،کتنے چیف جج آئے چلے گئے اور نہ جانے کتنے چیف جسٹس آئیں گے اور چلے جائیں گے نہ پہلے والوں کو کوئی جاتنا ہے نہ آنے والے یاد رکھے جانے کے قابل ہونگے ،''ممکن ہے ہماری عدالتوں میں اچھے جج آ جائیں لیکن انکی تاریخ کچھ اور ہی بتاتی ہے ''لیکن قاسمی صاحب کو آج سے 30 سال پہلے بھی لوگ جانتے تھے اور 100 سال بعد بھی لوگ جانیں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *