امریکہ افغانستان میں کس کے خلاف لڑ رہا ہے؟

1

جیسن برک

2002**کے موسم بہار میں امریکی فوجی افغانستان کے علاقے شمالی میں موجود بگرام ایئر بیس پر پریڈ کے لیے اکٹھے ہوئے۔ نائن الیون حملے کی روداد سنانے اور ہلاک ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد فوجی افسر نے تمام ساتھیوں کو ان کا مشن یاد دلایا کہ انکا کام ایسے تمام لوگوں کو ڈھونڈ نکالنا اور قتل کرنا ہے جنہوں نے امریکہ میں دنیا کا برترین دہشت گردی کا واقعہ سر انجام دیا۔ اس سے ایک سال قبل یہ بگرام کا علاقہ طالبان کے قبضہ میں تھا اور طالبان افغانستان کے 80 فیصد حصے پر قابض ہو چکے تھے۔ اس علاقے کی تمام عمارات کو بموں سے اڑا یا گیا تھا اور ائیر سٹرپ بھی بے کار ہو چکا تھا اس لیے علاقے کی سٹریٹجک اہمیت بہت کم ہو چکی تھی۔ امریکی حملہ کے کچھ ہفتہ بعد بھی یہ رن وے مسلسل استعمال میں تھا۔ رات بھر یہاں ہیلی کاپٹر آتے جاتے رہتے تھے۔ دن کے وقت بھی ہیلی کاپٹر فوجیوں کے لیے جرمنی سے کھانا فراہم کرنے پہنچتے تھے۔ ہر طرف ہرے ٹینٹ بچھے نظر آتے تھے جہاں سے امریکی فوجی منظم ہو کر جگہ جگہ القاعدہ کے اراکین کی پناہ گاہوں پر چھاپا مارنے نکلتے تھے لیکن اس وقت تک زیادہ تر القاعدہ اراکین پاکستان یا ایران بھاگ چکے تھے۔  سٹیو کول کی کتاب جس میں2001 سے 2016 تک افغان جنگ کے حالات درج ہیں کے مطابق یہ امریکی فوجی ایک اندھی گلی میں جنگ کرنے نکل پڑے تھے۔ انہیں پتہ بھی
نہیں تھا کہ وہ کس کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کا دشمن ہے کہاں۔ ان کے کمانڈر اور سیاسی آقاوں کو بھی یہ معلوم نہیں تھا۔ سیاستدان اپنے مقامی معاملات اور عراق کے معاملے پر الجھے ہوئے تھے۔ فوجی وفود کو یہ مشن سونپا گیا تھا کہ وہ عراقی قوم کی از سر نو تشکیل دیں اور طالبان اور القاعدہ کو شکست دیں۔ نارکوٹکس کی پیداوار کے خلاف بھی جدو جہد کریں۔ اس وقت 13000 کے قریب امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں ان کا مقصد ایسے تمام شدت پسندوں کو شکست دینا ہے جو ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا یہ کاونٹر ٹیررسٹ یا کاونٹر انسرجینسی مشن کہلایا جا سکتا ہے؟ کیا یہ افغانستان کو جمہوریت کے راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں یا ملک کو بادشاہت اور ملوکیت کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ کیا وہ طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر ملک کے ایک بڑے حصے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے یا طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوش کر رہے ہیں؟ کیا امریکہ افغانستان میں ہمیشہ کے لیے ڈیرے ڈالنا چاہتا ہے، جیسا کہ ایک کمانڈر نے مجھے2009 میں بتایا، یا وہاں سے نکلنے کی کوشش میں ہے؟ 16 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان سوالات کے جوابات کسی کے پاس
نہیں ہیں۔ کول جنہوں نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے **1990**کی دہائی میں افغانستان میں کام کیا وہ اس کہانی کو سب سے بہترین طریقے سے بیان کر سکتے ہیں۔ ان کی کتاب ۔گوسٹ وارز۔ میں جس پر انہیں پلٹائزر انعام سے بھی نوازا گیا ہے میں انہوں نے 1980 کی دہائی میں سی آئی اے کی پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں مجاہدین کی سپورٹ اور روس کے خلاف افغانیوں کی حمایت کے کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔  گوسٹ وار ایک بہت بڑٰی کامیابی تھی کیونکہ اس کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ القاعدہ کو سی آئی اے نے تخلیق نہیں کیا تھا جیسا کہ اکثر لوگ دعوی کرتے ہیں۔ کول کے مطابق امریکہ کی مدد صرف پاکستان کی آئی ایس آئی کے ذریعے صرف افغان مجایدین کو میسر تھی۔ غیر ملکی شدت پسند عناصر جیسے اسامہ بن لادن وغیرہ کے اپنے حمایتی اور ذرائع تھے جن کا سی آئی اے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اپنی کتاب کے لیے انہوں نے جو ذرائع اور وسائل استعمال کیے ہیں وہ انتہائی مستند ہیں کیونکہ اس میں انہوں نے چار ریسرچرز کے ذریعے 500 سے زائد لوگوں کے
انٹرویو شامل کیے ہیں اور مختلف تحاریر کا ایک بڑا مجموعہ حوالہ جات میں پیش کیا ہے۔ اس کے نتائج بھی بہت متاثر کن ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ ایس سے مراد آئی ایس آئی کا ایک خاص وِنگ ہے جس کا کام افغان معاملات میں مداخلت کرنا ہے لیکن اس کا اصل ٹارگٹ سی آئی اے ہے۔ پہلے 100 صفحات میں افغانستان کی سابقہ تاریخ بیان کی گئی ہے۔ کول کا دعوی ہے کہ ابتدائی فتح کے بعد کچھ غلطیوں کی بنا پر طالبان پر قابو نہ پایا جا سکا۔ وہ ان غلطیوں کا بار سی آئی اے پر ڈالتے ہیں۔ پہلی غلطی نوابوں کی حمایت کرنا تھا جن کی وجہ سے طالبان کو طاقت ملی تھی ۔ اسی
غلطی کی وجہ سے افغانستان کے حالات کو بہتر نہ کیا جا سکا۔ 2006 میں بھی طالبان نے گوریلا جنگ جاری رکھی اور تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ گوریلا جنگ میں جب کسی قوت کو دو ممالک کی سرحدوں کا تحفظ ہو تو اسے شکست دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ امریکہ کمانڈرز کو یہ احساس ہونے لگا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو 2001 کے حملے کے بعد میزبانی کی جو پیش کش کی اس کا کیا مطلب تھا۔ 90ء کی دہائی میں بھی پاکستان کا یہی ارادہ تھا کہ وہ طالبان کی مدد کر کے افغانستان کو اپنے زیر اثر رکھے یا کم از کم بھارت کو افغانستان میں پاوں گاڑنے سے روک لے۔ پاکستان اس مقصد پر پوری حکمت عملی کےساتھ عمل کر رہا تھا۔  یہ حکمت عملی بہت الجھن کا شکار تھی لیکن چونکہ پاکستان میں شدت پسندی بڑھ رہی تھی اور پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ بھارت میں ممبئی حملوں کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں آپس میں بہت جڑی ہوئی ہیں اگرچہ امریکہ نے بار ہا پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے اپنے اہم اتحادی پاکستان کےساتھ تعلقات خراب ہی ہوتے گئے۔ 2011 میں جب امریکہ اپنی افغانستان میں شکست تسلیم
کرنے ہی والا تھا جب سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالا اور آپریشن کے ذریعے اسے اس کے کمپاونڈ میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اپنی کتاب میں کول سوال اٹھاتے ہیں کہ کہیں آئی ایس آئی نے تو اسامہ بن لادن کو نہیں چھپایا ہوا تھا۔ کچھ جونئیر آرمی افسران اور اکیڈیمکس کے علاوہ کول ہر شخص پر سوال اٹھاتے اور تنقید کرتے ہیں۔ڈیوڈ پیٹرس جنہوں نے عراق جنگ میں کامیابی حاصل کی اور وہی چال افغانستان میں چلنے کی کوشش کی کول کے مطابق اپنے پروموشن کے خواہاں اور بلکل بے کار لیڈر نکلے ہیں اور ان کی وجہ سے امریکہ کو بہت سی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رچرڈ ہالبروک جو اوبامہ کے سپیشل نمائندہ تھے وہ بھی ناکارہ ہی ثابت ہوئے۔ کول کے مطابق پاکستانی ہو ہر معاملے میں دھوکہ باز نکلے ہیں۔ حامد کرزئی ایک اچھے لیڈر ہیں لیکن ان مین بھی خامیاں ہیں۔ بش کو بھی زمینی حقائق کا علم نہیں تھا۔ اوبامہ نے حد سے زیادہ چالاکی دکھانے کی کوشش کی اور کمزور ظاہر ہوئے۔ یورپی ممالک نے بھی زیادہ تر مدد نہ کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ ڈائریکٹوریٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ برطانوی فوج نے انٹرنیشنل نقطہ نظر دیکھا جائے تو بہت محدود کردار ادا کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سئینر پالیسی میکرز میں سے،سوائے اوبامہ کے ، کوئی یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ طالبان کوئی ایک چھٹا سا ملاوں کا گروہ یا پاکستانی پراکسی گروپ نہیں تھا بلکہ القاعدہ کے بر عکس طالبان ایک بھرپور قوت تھی اور اس کی جڑیں تاریخ، سیاستی، کلچر حتی کہ ہر شعبہ میں پائی جاتی ہیں۔ یہ چیز اور
ملک سے دوسری طرف محفوظ ٹھکانے یہ واضح کرتے ہیں کہ اس علاقے میں کبھی بھی فتح مکمل طور پر حاصل کرنا ناممکن ہے۔  دو اسباق خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک چیپٹر میں 2009 اور2010 کی سدرن افغانستان میں کامیابی کی داستان بیان کی گئی ہے۔ دوسرے چپیٹر میں افغان فوجیوں کے ہاتھوں امریکی اہلکاروں اور آفیشلز کے قتل کے معمہ سے پردا اٹھایا گیا ہے جس کی وجہ سے 2012 سے غیر ملکی ہلاک ہونے والے فوجیوں کی 25 فیصد تعداد کا قتل ہوا۔دونوں چیپٹرز ایک خاموش غصے کی حالت میں لکھے گئے ہیں۔ یہ بہت حیران کن چیز ہے کیونکہ عام حالات میں کول ایک پر اثر طریقے سے اپنے واقعات بیان کر کے سوال اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *