فاٹا۔۔۔۔اب گھاٹا نہیں اٹھائے گا

5

لگتا ہے عوامی رائے بھی فاٹا کے KP میں انضمام کے حق میں ہوتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں تاخیر سے صوبے کا سٹیٹس بدلنے میں بھی دیر ہو رہی ہے۔آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق صوبے کی انتظامی سرحد میں تبدیلی کی جا سکتی ہے پر کبھی اس پر عمل کا تجربہ نہیں کیا گیا۔ فاٹا کو صوبے کے طور پر منظور کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 1، 246 اور 247 میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں ہندوستان کی گورنمنٹ نے آئین کا بڑاحصہ1935 ایکٹ پر ہی مشتمل رکھا لیکن اسے مذہبی تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے لچکدار رکھا گیا۔ ہمارے قانون سازوں کو اس طرح کی آپشن رکھنا پسند نہیں۔ ون یونٹ اور مشرقی ونگ کے ناکام ہونے کے باوجود پاکستان ایک غیر لچکدار فیڈریشن ہی رہا۔ جبکہ ہمارے ہمسائے ممالک ہندوستان، ایران اور افغانستان نے نئی سلطنت اور صوبے بنائے، لیکن ہم نے اپنے آئین نہیں بدلے۔ بنگلا دیش ایک وحدانی ریاست ہے اور 1971 میں یہ صرف چار ڈویژن میں منقسم تھا۔ اور اب اس کے آٹھ صوبے ہیں۔ 1979 میں افغانستان کے 28 صوبے تھے اور اب اس کے 34 صوبے ہیں۔ اور اسی طرح 1950 میں ایران کے 12 صوبے تھے اور اب 31 ہیں۔ 2004 میں اس کا سب سے بڑا صوبہ تین صوبوں میں تقسیم ہوا؛ رضوی خراسان، شمالی خراسان اور جنوبی خراسان۔ آیئن کے آرٹیکل 2،3 اور 4 کے تحت ہندوستان میں قانون پارلیمنٹ کو کچھ تبدیلیاں کر کے نیا صوبہ بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ 1956 میں ہندوستان کے 14 صوبے بنے لیکن اب 29 ہیں۔ زیادہ تر تقسیم زبان کےلحاظ سے کی گئی لیکن 2000 میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اور بہار میں تقسیم کی وجہ مؤثر نظام قائم کرنا تھی۔ اس سے صنعتی، معاشی کے ساتھ ساتھ شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہوا اور پبلک سروس میں بھی بہتری آئی۔ مختلف نسلوں سے تعلق اور شدید قبائلی تنازعات کی وجہ سے فاٹا میں گورنمنٹ کی سیٹ کے مطابق اتفاق رائے حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا طریقہ کار سینٹرل لوکیشن، امن کے قیام اور آبادی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے متعین کیا جا سکتا ہے۔ ایک صوبے کی حیثیت سے مقامی قانون ساز ادارے روایتی طریقہ کار کو قانون کی شکل دے سکتے ہیں اور اس طرح یہ موقف بھی دم توڑ جائے گا کہ فاٹا بیرونی اشاروں اور مفادات کے لیے ایک موئثر جگہ ہے۔ اس طرح مقامی انتہا پسندوں اور انسداد دہشت
گردی کو قابو رکھنے میں سیاست کو آسانی ہو گی۔ فاٹا کے لوگ یو یکساں شہری ہوں گے اوران کو یکساں بنیادی حقوق ملیں گے۔ فاٹا صوبے کا KP پرمعاشی بوجھ بھی نہیں ہو گا اور اسی طرح مالی اور انتظامی تنازعات بھی نہیں ہوں گے۔ فاٹا NFC ایوارڈ کا بھی حقدار ہو گا ، سینٹ کی نشستین بھی برقرار ہوں گی اور وفاقی شراکت میں بھی چستی ہوگی۔ قومی معاشرتی کونسل فاٹا کی معاشی، کمرشل، معاشرتی، اور مالی پالیسیوں پر ایک ممبر کے طور پر غور کرے گی۔ ان کو ECP, کی سیٹ کا ٹائٹل بھی ملے گا اور کونسل کے مشترک اغراض میں بھی ان کا زیادہ مضبوط کردار ہو گا۔ اس وقت فاٹا کی NFC کی سیٹ نہیں
ہے اور دراصل مقررہ بجٹ کی بھی کئی مقدار طے نہیں ہے۔ بحیثیت صوبہ، نہ اسے صرف NFC کی ممبر شپ حاصل ہوگی بلکہ یہ اپنا خود بجٹ بنا پائے گا اس طرح ٹیکس میں اضافہ ہو گا اور کالےدھن کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ صوبے کی شکل میں فاٹا کو انتظامی اور مالی خود مختاری ملے گی۔لیکن سیاست کی ہلچل میں کمی اور اداروں کی کمزوری کی وجہ سے فاٹا کو شدید سیاسی سہارے کی عدم توجہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلوچستان اور گلگت بلتستان کو ہی لے لیجیے جہاں افسران کی مستقل کمی ہے۔ سوچیں کہ کتنے فاٹا ڈومی سائل والے افسرآن نئے صوبے میں کام کرنے کے لیے آمادہ ہوں گے۔ صوبے کو چلانے کے لیے آمدنی، سیاستی رد عمل ، قانون، انصاف اور اس کی نشونما کی ضرورت ہے لیکن جدید طریقہ آمدنی اور انصاف کو منظم ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ مالک کے ایک اچھے تاثر کے باوجود زیادہ فائدہ مذہبی جماعتوں یا آزاد امیدواروں کو ہوا ہے۔ فاٹا کی 12 نیشنل اسمبلی سیٹوں میں سے 6 پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ سارے کے سارے 8 سینیٹرز بھی آزاد امیدوار ہیں۔ ایک صوبے کی حیثیت کے حصول کے بعد یہ لوگ مین سٹریم پارٹیوں پر غلبہ حاصل کر لیں گے۔ فاٹا صوبے کا مطلب ہوگا ایک اور پختون صوبہ جسے پختونی قوم پرست اس بنیاد پر استحصال کا شکار کر سکتے ہیں کہ ان کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ ہندکو زبان کے لوگوں کو بڑھاوا دے گا جو ہزاراں صوبے کے قیام کا مطالبہ کریں گے۔اور سرائیکی بولنے والی آبادی بھی علیحدہ صوبہ لینا چاہے گی اور بلوچستان میں بھی علیحدہ صوبے کےلی تحریک امڈ سکتی ہے۔ کسی مزید تاخیر کے بغیر ہمیں مان لینا چاہیے کے فاٹا کے لیے کسی قبیلے کی بجائے صوبہ بن جانا صیح ہے۔ فاٹا اسٹیٹ کے طور پر بلکل گلگت بلتستان جیسا ہوگا ۔اس وقت اہم ترین مسئلہ پہچان اور رواج کا ہے جو حکومت کے قیام کی عکاسی بھی کرتا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *