آسٹریلیا میں بچوں کے ساتھ زیادتی، متاثرین سے معافی مانگنے کا اعلان

6

آسٹریلین پرایم منسٹر ملکم ٹرن بل نے کہا کے جسمانی زیادتی کے متاثرین سے قومی سطح پر معافی مانگیں گے۔ ایک تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کے مختلف اداروں میں جناب ملکم ٹرن بل کے چار سالہ دور میں ہزاروں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ دہائیوں سے یہ جرم ان اداروں میں ہو رہا ہے جن میں چرچ، سکول، اور کھیلوں کے کلب شامل ہیں۔ اس سال معافی طلب کی جائے گی، جناب ٹرن بل نے کہا۔"ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں چاہیے کہ بچوں کو وہ عزت اور وقار واپس دلائیں جس کے وہ حقدار تھے لیکن جن لوگوں کو ان بچوں کی حفاظت پر معمور کیا گیا انہوں نے ہی ان بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ رائل کمیشن کی دیسمبر کی تفتیش میں 400 سے زائد سفارشات پیش کی گئیں جس میں کیتھولک چرچ کی بھی جانچ پڑتال کی تجویز پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ "یہ صرف کچھ ''گندے انڈوں" کی بات نہیں معاشرے کے بڑے ادارے اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ جناب ٹرنبل نے گورنمنٹ سے کہا کے وہ بد سلوکی کے شکار ہوئے لوگوں سے پوچھیں کہ اس قومی معافی میں کیا کیا شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے صوبائی گورنمنٹ اور اداروں کو بھی دعوت دی کہ وہ متاثتین کے لیے قومی ازالے کی سکیم میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ، 'ہمارا فرض ہے کہ ان متاثرین کی خاطر ہم یہ لمحہ نہ گوائیں۔'آسٹریلین گورنمنٹ پہلے ہی اس سکیم میں کے لیے 30 ملین آسٹریلوی ڈالر کی رقم متعین کر رکھی ہے جس میں سےہر مظلوم کو 150 ہزار آسٹریلوی ڈالر ملیں
گے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرین کو کونسلنگ اور دوسری خدمت بھی مہیا کی جائیں گی۔ تفتیش کےدوران 8 ہزار سے زائد متاثرین کے بیانات قلم بند کیے گئے لیکن کچھ تعداد اابھی بھی معلوم نہیں ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *